لیبیا: خانہ جنگی کی تباہی و بربادی کا ذمہ دار سامراج ہے!

|تحریر: رابرٹو سارتی؛ ترجمہ: ولید خان| لیبیا خانہ جنگی میں ڈوبا ہوا ہے۔ جنرل ہفتار نے اقوام متحدہ کی منظور نظر قومی مفاہمتی حکومت (GNA) اور اس کے سربراہ صدر فیاض ال سیراج کا تختہ الٹنے کے لئے خونریز جنگ شروع کر رکھی ہے۔ حملے کا آغاز اسی دن کیا گیا جب 14 اپریل کو […]

فاٹا کا انضمام اور تاریخی زخم!

|تحریر: اسفندیار شنواری| 24 مئی 2018ء کو فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ موجودہ امکانات میں سب سے زیادہ قابل عمل قدم ہے، تاہم اس عمل میں مجرمانہ تاخیر سے کوئی انکار نہیں۔ 7 ایجنسیوں اور 6 فرنٹیر ریجنز پر مشتمل یہ علاقے ’’آزادی‘‘ کے نام پر 1901ء سے انگریز سامراج کے […]

شام: بربریت کا رقص اور سامراجی منافقت

|تحریر: ایلن ووڈز، ترجمہ: اختر منیر| اقوام متحدہ میں تمام تر ہنگامے، پر شور پروپیگنڈے اور چالبازیوں کے بعد شام میں ہونے والی جنگ بندی اچانک شرمناک اور ناقابلِ یقین انداز میں ختم ہو چکی ہے۔ درحقیقت اس کی مثال ایک ایسے بچے کی سی ہے جو اپنی پیدائش سے پہلے ہی مردہ حالت میں […]

وینزویلا: ناکام مذاکرات، بیرونی خطرات اور بولیوارین انقلاب کو درپیش چیلنجز

|تحریر: ریکارڈو واز، ترجمہ: اختر منیر| (یہ مضمون، venezuelanalysis.com پر شائع ہوا تھا جس میں رکارڈو واز نے وینزویلا کی صورتحال کا دلچسپ تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس میں انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ عالمی سامراجی یلغار سے بچنے کے لیے وینزویلا کی عوام کو یہ لڑائی اپنی قومی گماشتہ بورژوازی کے خلاف […]

دیباچہ کتاب ’’سی پیک: ترقی یا سراب؟‘‘

پاک چین اقتصادی راہداری یا سی پیک کا حجم تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ جب اپریل 2015ء میں اس کا اعلان ہوا تھا تو اس کا حجم 46ارب ڈالر تھاجو اس وقت پاکستان کے کُل جی ڈی پی کا 20فیصد تھا۔ اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہو سکے گی اور یہ منصوبہ واقعی […]

ایران: احتجاجی تحریک سامراجی گِدھوں کے نشانے پر!

دہائیوں سے امریکہ اور یورپی طاقتوں نے ایران پر ظالمانہ (معاشی و اقتصادی) پابندیوں کی پالیسی اپنائے رکھی جو کہ 2012ء میں شدت اختیار کرتے ہوئے مکمل تجارتی پابندیوں تک پہنچ گئی، ایسی صورتحال میں مغربی لیڈروں کی حمایت کی بیان بازیاں کسی کام نہ آئیں گی بلکہ ایران کی سراپا احتجاج عوام کو مزید اشتعال دلانے کا سبب بنیں گی

عراقی کردوں کے خلاف سامراجی قوتوں کا گٹھ جوڑ

گزشتہ پیر کے دن لاکھوں عراقی کردوں نے ایک ریفرنڈم میں عراق سے علیحدگی اور ایک آزاد ریاست کے قیام کے حق میں ووٹ دیا۔ 92.73 فیصد ووٹروں نے کرد آزادی کے حق میں ووٹ دیا جبکہ شرکت کی شرح 72.16 فیصد تھی۔ عراقی کرد عوام کی بھاری اکثریت نے واضح کر دیا ہے کہ ان کا عراق کی نیم فرقہ پرست مرکزی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔

پختونخواہ اور فاٹاکے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف سوشلسٹ انقلاب ہے!

جہاں تک سماجی تحریک کا تعلق ہے تو ایسا ہرگز نہیں کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا ہ آج ایک انقلابی کیفیت میں ہے۔ لیکن ایسا بھی قطعاً نہیں ہے کہ حالات معمول کے مطابق ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز، اساتذہ، نرسز، کسان، صنعتی مزدور اور طلبا کی بہت بڑی تعداد نہ صرف اس بوسیدہ نظام سے اکتا گئے ہیں بلکہ اس کے خلاف آواز بھی بلند کر رہے ہیں

وینزویلا: مفاہمت یا انقلاب؟

رد انقلاب کا مقابلہ صرف انقلابی طریقہ کار سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ محنت کش اور کسان صرف اپنی قوتوں پر ہی انحصار کر سکتے ہیں۔ بولیوارین انقلاب کی حاصلات کا دفاع کرو! اشرافیہ کو بے دخل کرو!