کوئٹہ: بیوٹمز میں ڈیلی ویجز ملازمین شدید استحصال کا شکار!

|رپورٹ: ریڈ ورکرز فرنٹ، کوئٹہ| بیوٹمز(BUITEMS) بلوچستان کی دوسری بڑی یونیورسٹی ہے۔اس یونیورسٹی میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ زیر تعلیم ہیں،جو کہ بھاری بھر کم فیسیں یونیورسٹی کو ادا کرتے ہیں۔ ان طلبہ کو پڑھانے کے لئے خدمات مہیا کرنے والے سینکڑوں کی تعداد میں ملازمین اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں جن میں لیکچررز، […]

سیالکوٹ: روٹس ملینئیم سکول سے درجنوں اساتذہ کی جبری برطرفیاں

|رپورٹ: حمیرا چوہدری| روٹس میلنئیم سکول ایک نجی ادارہ ہے جس کی ملک بھر میں درجنوں شاخیں موجود ہے۔ اس سکول چین کے مالک کا نام چوہدری فیصل مشتاق ہے جو کہ ماضی قریب میں نگراں صوبائی وزیر تعلیم بھی رہ چکا ہے۔نئے سال کے آغاز پر اس ادارے سے بڑی تعداد میں اساتذہ کو […]

سانحہ ماروار بلوچستان: 23 کان کن سرمائے کی بھینٹ چڑھ گئے!

ہر سال سینکڑوں کان کن کانوں میں ہونے والے حادثات میں جان کی بازی ہار دیتے ہیں۔ مختلف ذرائع کے مطابق بلوچستان میں موجود کوئلے کی 400کانوں میں ایک لاکھ سے زائد محنت کش کام کرتے ہیں۔ یہاں پر کام کرنے والوں کی حالت انتہائی ابتر ہے

مارکس کا نظریۂ بیگانگی

انسان کی اپنی محنت سے بیگانگی، اس محنت کی پیداوار سے بیگانگی، پیداواری عمل سے بیگانگی، اپنی ذات اورنوع انسان کے جوہر سے بیگانگی ناگزیر طور پر انسان کی انسان سے بیگانگی کو جنم دیتی ہے

ہوشربا عدم مساوات: بیمار نظام کی علامت

اس سال عدم مساوات کی تصویر پہلے سے زیادہ واضح، درست اور چونکا دینے والی ہے۔ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے کہ ایک گروہ، جو کہ ایک گالف بگھی میں پورا آ سکتا ہے، کے پاس نصف انسانیت سے زیادہ دولت ہے

بلوچستان میں مائنز کے اندر کام کرنیوالے محنت کشوں کی زندگیوں سے کھلواڑ!

|رپورٹ: ریڈورکرزفرنٹ، بلوچستان| بلوچستان کے اندر معدنیات جس میں کوئلہ اور کرومائیٹ کافی زیادہ مشہور ہے جبکہ دیگر معدنیات میں لوہا تانبا اور سونا ہے جہاں پر بلوچستان سمیت پاکستان بھر سے مزدور کام کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان مہنگے اور قیمتی معدنیات کے ذخیروں پر کام کرنے والے […]

سرمایہ داری کی پرفریب اخلاقیات

حکمران طبقہ اپنے مقاصد کو معاشرے پر لاگو کرتا ہے اور ان تمام ذرائع کو غیر اخلاقی تصور کرنے کا عادی بنا دیتا ہے جو اس کے مفاد کے متصادم ہو۔ ایسی حکمرانی جو محض طاقت کے زور پر ایک ہفتہ بھی قائم نہیں رہ سکتی اسے اخلاقیات کی ضرورت ہے

فیصل آباد: پاور لومز ورکرز کی تحریک۔۔۔نتائج اور اسباق!

چوری اور محنت کشوں کے وحشیانہ استحصال کے بل بوتے پر ہی پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے اور یہی وجہ ہے کہ مزدوروں کی طرف سے اجرتوں میں معمولی اضافے کا مطالبہ بھی مالکان کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیتا ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ محنت کشوں کے شدید ترین استحصال کے بغیر نہ تو وہ اپنی پیداواری لاگت کو قابو میں رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی شرح منافع میں اضافہ کر سکتے ہیں

بینک مالکان ارب پتی، ملازمین کی زندگیاں عذاب

|نمائندہ ورکرنامہ| پاکستان میں پچھلی ایک دہائی میں کھمبیوں کی طرح ہر گلی محلے میں نئے بینک بنتے اور ان کی شاخیں کھلتی نظر آتی ہیں۔ بظاہر تو اس عمل سے لوگوں کو بڑی تعداد میں نوکریاں ملتی ہوئی بھی نظر آتی ہیں اور ایک بہترسطح کا روزگار بھی ملتا نظر آتا ہے، یعنی سارا […]

یومِ مئی: ہم نئے عزم سے بنیاد سحر رکھتے ہیں!

|تحریر: راشد خالد| یکم مئی محنت کشوں کے عالمی دن کے بطور منایا جاتا ہے۔ آج سے 131سال قبل 1886ء میں یکم مئی کے دن امریکہ میں ایک عام ہڑتال کا آغاز ہوا، جس کا بنیادی مطالبہ 8گھنٹے کے اوقات کار تھا۔ ہڑتال دیکھتے ہی دیکھتے پھیلتی گئی، پہلے ہزاروں اور پھر لاکھوں محنت کش […]