بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی کے اساتذہ کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے لیے تحریک چلانی ہو گی!

پچھلے ایک سال سے بالعموم اور پچھلے دو ماہ سے بالخصوص اسلامیہ یونیورسٹی اپنے اکیڈمک سٹاف کو تنخواہیں وقت پر نہیں دے رہی۔ اس مہینے میں بھی یونیورسٹی نے بینک سے قرضہ اٹھا کر اساتذہ کو قسط وار تنخواہ دی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے یہ مسئلہ چل رہا ہے کہ یونیورسٹی کے اخراجات اس […]

پینڈورا پیپرز: حکمران طبقے کے غلیظ مالیاتی ہیر پھیر ایک بار پھر بے نقاب

|تحریر: مینن پاؤری، ترجمہ: یار یوسفزئی| لاکھوں دستاویزات پر مشتمل 2.94 ٹیرا بائیٹس کا ڈیٹا لیک ہونے کے باعث 100 سے زائد ارب پتی، عالمی قائدین اور سرکاری عہدیداران کے بیرونِ ملک معاہدے اور اثاثے بے نقاب ہوئے ہیں۔ اس ڈیٹا سے حکمران طبقے کی دیوہیکل خونخواری کا پردہ چاک ہوا ہے، جن کی تقریباً […]

کاروانِ بھٹو یا ’’سوداگرانِ بھٹو‘‘؟

|تحریر: پارس جان| ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کی کٹھ پتلی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ فرطِ جذبات میں وہ یہاں تک کہہ گئے کہ ’ایک لات مار کر جب چاہوں تمہاری حکومت گرا دوں گا ‘۔ ان کا کہنا تھا […]

خیرات اور ڈیم 

|تحریر: صبغت وائیں| مجرم ہمیشہ قانون سے ایک قدم آگے کی سوچتا ہے۔ کیوں کہ اس کے سامنے پچھلا سارا ریکارڈ ہوتا ہے۔ باہر کے ملکوں میں ٹیکس بچانے کے لیے سرمایہ داروں کو وکیل مشورہ دے کر ٹرسٹ بنوا دیتے ہیں۔ یا ’’خیرات‘‘ کے ادارے بنوا کر ٹیکس بچایا جاتا ہے۔این جی اوز والوں […]

پاکستان: نااہل ریاست، ناکام سیاست

عدالتوں کو فوج کی باندی قرار دیا جا رہا ہے اور فوج پر ’’جمہوریت‘‘ پر شب خون مارنے کا واویلا کیا جا رہا ہے۔ لیکن کہیں بھی یہ بات نہیں کی جا رہی کہ کروڑوں محنت کشوں کو غربت، بھوک، بیماری، ذلت اور جہالت میں دھکیلنے کا ذمہ دار کون ہے۔ شدید گرمی اور حبس میں بجلی، گیس اور پانی کے بغیر زندگی کی اذیتوں کو سہنے والے کروڑوں لوگوں کا مجرم کون ہے

کرپشن کا حمام اور نوازشریف کی نااہلی!

ریاست کے حد سے بڑھتے ہوئے بحران میں جہاں ریاست کے تمام تر ادارے اپنی ساکھ کھوتے جا رہے ہیں وہیں پر اس فیصلے کے ذریعے عدالت کی ساکھ کو ایک بار پھر بحال کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے

مزاحمت کی سیاست

ایسے میں یہ سوا ل ابھرتا ہے کہ کیا تمام تر اسٹیٹس کو، ظالم ریاست اور سامراج کے خلاف مزاحمت کی سیاست کی بھی جا سکتی ہے یا نہیں۔انقلابی سیاست کی تاریخ گواہ ہے کہ بد ترین ریاستی جبر اور تشدد بھی انقلابی تنظیموں کو ختم نہیں کر سکا بلکہ انہیں مزید مضبوط کرنے کا باعث بنا ہے