بیگانگی اور سماج
ایک جرنیل کی عوام دشمن گفتگو اور سوشل میڈیا پر رد عمل
طبقاتی سماج کے الٹے معیار
آکسفیم کی تہلکہ خیز رپورٹ۔۔کورونا وباء میں ارب پتی سرمایہ داروں کی ہوشرباء لوٹ مار
سوات اور گردونواح میں طوفانی بارشیں اور سیلاب؛ محنت کشوں کیلئے عذاب
خواتین کو ہراساں کرنا کیا ہے اور اس کیخلاف کیسے لڑا جائے؟
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہراسمنٹ (Harassment)، ریپ، چھوٹے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں اور اس جیسے سبھی مسائل کو پہلے ’’چندایک برے لوگوں کی ذاتی بد اخلاقیاں ‘‘سمجھا جاتا تھا، لیکن اب ان مسائل کویکسر مختلف اور بہتر نقطہ نظر سے دیکھا اور سمجھا جا رہا ہے
انقلاب اور اخلاقیات
ہر عہد کے نئے پیداواری رشتے ایک نئے طرز پیداوار کے تحت عمل میں آتے ہیں اور انھی پیداواری رشتوں کے گرد جنم لینے والی اخلاقی قدریں حتمی تجزیے میں اس طبقے کے مفادات کی عکاسی کرتی ہیں
زینب کے ریپ اور قتل پر مظاہرے: انفرادیت سے اجتماعیت تک کا سفر
اس واقعے پر اتنے بڑے احتجاج اور ملک گیر سطح پر پھیلے غم و غصے میں ہمیں اجتماعی شعورمیں آگے کی جانب سفر بھی نظر آتا ہے۔ جس میں بہت سے لوگوں کو زینب اور اس کے والدین اپنے جیسے نظر آئے۔ یہ انفرادیت سے اجتماعیت کی جانب سفر ہے گو کہ یہ ابھی ابتدائی مرحلے پر ہے
سرمایہ داری کی پرفریب اخلاقیات
حکمران طبقہ اپنے مقاصد کو معاشرے پر لاگو کرتا ہے اور ان تمام ذرائع کو غیر اخلاقی تصور کرنے کا عادی بنا دیتا ہے جو اس کے مفاد کے متصادم ہو۔ ایسی حکمرانی جو محض طاقت کے زور پر ایک ہفتہ بھی قائم نہیں رہ سکتی اسے اخلاقیات کی ضرورت ہے
محنت کش خواتین کی حالت زار
نام نہاد تیسری دنیا کی محنت کش خواتین کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو ان کا کہیں کوئی پرسان حال نہیں۔ ایک طرف معاشی یلغار ہے تو دوسری طرف سماجی بندھن۔ لیکن پاکستان میں جس طرح سے عورت نشانہ ستم ہے اس کی مثال ملنا ناممکن ہے