ماحولیاتی آلودگی: سرمایہ داری کی ہولناکیاں
|تحریر: ولید خان| سال 2017ء کا آغاز یورپ کی تاریخ کے سب سے سرد موسم سرما سے ہوا جس کے نتیجے میں 61 اموات واقع ہوئیں۔ ابھی سردی کی اس لہر کی وجوہات کو جاننے کی کوششیں ہی کی جا رہی تھیں کہ فروری میں افغانستان، پاکستان سرحد پر برفانی تودوں کے گرنے سے 100 […]
بہاولپور: آئل ٹینکر سانحہ‘ ذمہ دار کون؟
|تحریر: ڈاکٹر یاسر ارشاد| 25 جون کی صبح ایک خبر نے پورے پاکستان حتیٰ کہ ہر زی شعور انسان کو ہلا کر رکھ دیا۔ بہاولپورشہر سے قریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر احمد پور شرقیہ قصبہ کے ساتھ مین ہائی وے پر ایک دل دہلا دینے والا سانحہ رونما ہوا جس میں اب تک 150 […]
بغاوت ہند 1857ء
بغاوت ہند 1857ء کی کیا تعریف کی جائے؟ کیا وہ محض کمپنی کے ناراض ہندوستانی سپاہیوں کی بغاوت تھی یا پھر ایک عوامی بغاوت؟ کیا وہ کسی گزرے ہوئے عہد کی معدوم سلطنت کو واپس بحال کرنے کی کوشش تھی یا پھر کچھ نیا اور جدید تعمیر کرنے کی جدوجہد؟ سب سے اہم سوال۔ ۔ ۔ 1857ء کی بغاوت کا کردار تاریخی اعتبار سے ترقی پسندانہ تھا یا پھر قدامت پسندانہ؟
یومِ مئی: ہم نئے عزم سے بنیاد سحر رکھتے ہیں!
|تحریر: راشد خالد| یکم مئی محنت کشوں کے عالمی دن کے بطور منایا جاتا ہے۔ آج سے 131سال قبل 1886ء میں یکم مئی کے دن امریکہ میں ایک عام ہڑتال کا آغاز ہوا، جس کا بنیادی مطالبہ 8گھنٹے کے اوقات کار تھا۔ ہڑتال دیکھتے ہی دیکھتے پھیلتی گئی، پہلے ہزاروں اور پھر لاکھوں محنت کش […]
پاکستان: خواتین اور پسماندہ سماج
یہاں خواتین کے حقوق پر ملائیت اور سرمایہ دارانہ لبرل ازم کے مابین ایک لڑائی کے طور پیش کیا جاتا ہے، جس سے خواتین کی حالت زار تو خیر کیا بہتر ہونی، حکمران طبقات کے مفادات کا تحفظ ہی ہوتا ہے
تدریسی مزدور اور تعلیم
پرائیویٹ اداروں کے خصوصاً اور سرکاری اداروں کے عموماً، اساتذہ کا علم سے قطعی تعلق نہیں ہوتا، تعلیم صرف روزگار کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں قدیم فقرے اب اپنی چمک دمک کھو چکے ہیں اگرچہ ان پر بہت دفعہ تقدس اور جذباتیت کی خوشبو چھڑکی جاتی ہے اور اس کو قدیم دور کے استادوں کی مثالوں سے سجانے کی کوشش کی جاتی ہے جو جدید دور کے منافع کی ہوس سے مل کر بالکل بے معنی گفتگو بن جاتی ہے
امریکہ کا بریگزٹ: ٹرمپ کو ہرانا ہے تو سرمایہ داری سے لڑنا ہو گا!
ہم نے انتخابات سے پہلے تجزیئے میں لکھا تھا کہ:’’اگر بریگزٹ ہوسکتا ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ بھی امریکہ کا صدر بن سکتا ہے۔‘‘سینڈرز کی کمپین اور ٹرمپ کے منتخب ہونے کے بعد، کون یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ امریکہ میں کبھی کچھ تبدیل نہیں ہوتا؟
کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (آخری حصہ)
انسان کا مستقبل ایک انجانے خوف میں ڈوبا ہوا گھٹا ٹوپ اندھیرا نہیں بلکہ ہر طرح کے استحصال، ظلم اور جبر سے آزاد بالآخر امن اور نشاط آمیز ہے۔ اور یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے اگر ہم اپنے اردگرد کی دنیا کو جان سکتے ہیں۔ اس لئے کانٹ کے فلسفے کو جاننا اور اس کے خاتمے کا جاننا ضروری تھا۔
کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (حصہ دوئم)
تحریر: |صبغت وائیں| 25 اگست 2016ء جارج آرول نے اپنے ناول میں چند فقرے ایسے لکھے تھے جو کہ بظاہر مذاق لگتے تھے جن میں ایک تھا: ’’Ignorance is Strength‘‘
کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (حصہ اول)
تحریر: |صبغت وائیں| کانٹ کی صرف ایک بات یورپ امریکہ کو پسند ہے وہ ہے اس کا نکالا ہوا نتیجہ۔ ورنہ اس کے میتھڈ کو یہ لوگ بھی اس طرح سے رد کرتے ہیں کہ اس کا میں نے آج تک ذکر کسی کی تحریر میں پڑھا نا کسی سے سنا۔ کانٹ نے ہمت دکھا […]