بلوچستان: سڑک حادثات میں بڑھتا اضافہ اور نااہل حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی!
بلوچستان میں اس سال ٹریفک حادثات میں پریشان کن حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سال 2024ء کی پہلی سہ ماہی میں بلوچستان کی مرکزی شاہراہوں پر 167 ٹریفک حادثات پیش آئے، جن میں 121 افراد جاں بحق ہوئے۔ جبکہ دوسری سہ ماہی میں 170 حادثات پیش آئے جن میں 400 کے قریب افراد زخمی جبکہ […]
بلوچستان: شدید ریاستی جبر، بے تحاشا پابندیوں، قید و بند اور جبری گمشدگیوں کے باوجود بلوچ راجی مُچی اجتماع کا کامیاب انعقاد!
مستونگ: بلوچ راجی مچی کے قافلے کے شرکاء پر ریاستی جبر اور فائرنگ، 14 زخمی، شدید مذمت کرتے ہیں
بلوچستان میں مزدور دشمن بجٹ اور پالیسیوں پر چند ایک آوازوں کے علاوہ عمومی خاموشی کیوں؟
چمن: عوام نے ریاستی جبر اور مطالبات کی عدم منظوری کے خلاف عید کو بطور یوم سیاہ منایا
چمن: پرامن احتجاجی دھرنے پر ایف سی کا بہیمانہ حملہ، ہم محنت کش عوام کے ساتھ کھڑے ہیں
بلوچستان: واشک روڈ حادثہ، مقتولین کی قاتل یہ خونخوار ریاست ہے!
بلوچ لانگ مارچ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی مارچ پر بدترین ریاستی کریک ڈاؤن، پورے ملک میں محنت کش عوام کا اظہار یکجہتی!
کوئٹہ: تحریک بحالی بی ایم سی اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام، مظاہرین کا تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان
بلوچستان:کوئلہ کانیں یا قبرستان؟ سال 2020ء کے سات مہینوں میں 60 کانکن جاں بحق
بلوچستان میں کول مائنز اونرز، ٹھیکیدار، نام نہاد لیبر قیادت سمیت ان تمام تر حادثات اور واقعات میں ریاستی غفلت، نااہلی اور بے حسی میں برابر کے شریک ہیں۔ حادثے کے بعد کچھ وقت کے لیے یہ تمام لوگ مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں، مگر درحقیقت ان حادثات کی روک تھام نہ کرنے پر ان تمام لوگوں کا گٹھ جوڑ واضح ہے