ریاست، عوام اور 5 جولائی کے اسباق

تحریر: |پارس جان| 5 جولائی 1977 ء کو پاکستان کی تاریخ میں یومِ سیاہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ویسے تو پاکستانیوں کی اکثریت کے لیے ہر روز ایک یومِ سیاہ کی حیثیت ہی رکھتا ہے۔ نصف کے لگ بھگ آبادی جو دن میں ایک بار کھانا کھاتی ہے، ان کے لئے سارے […]

پاک چین اقتصادی راہداری: سامراجی غلامی کا نیا طوق

تحریر:| آدم پال| ان دنوں بہت سے منصوبوں کے افتتاح کیے جا رہے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ عنقریب اس ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگ جائیں گی ۔ چین کی طرف سے 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا راگ الاپا جا رہا ہے اور حکمران طبقے کے تمام حصے […]

کشمیر: پارلیمانی سیاست اور محنت کش عوام

تحریر: |یاسر ارشاد| جدید پارلیمانی طرز حاکمیت جو صنعتی انقلابات کے ذریعے معرضِ وجود میں آیا؛ در حقیقت انسانی سماجی تاریخ کا سب سے پر فریب طریقہ حکمرانی ہے۔ حکمرانوں کے چناؤ کے عمل میں براہ راست تمام بالغ عوام کی شمولیت سرمائے کی حاکمیت پر ایک ایسا نقاب ہے جو محنت کش طبقے اور […]

کراچی میں پائیدار امن: حقیقت یا سراب

تحریر: |پارس جان| کراچی ایک دفعہ پھر نہ صرف ماحولیاتی بلکہ سیاسی طور پر بھی شدید درجہ حرارت کی لپیٹ میں ہے ۔گزشتہ برس موسمِ گرما میں کراچی میں جو قیامت ٹوٹی تھی، اسکی وجہ سے اس بار بھی مفلوک الحال عوام میں شدید خوف و ہراس پا یا جاتا ہے۔ حکمران طبقات اور ریاستی […]

کرپشن کا حمام

تحریر: |راشد خالد| پانامہ لیکس کے منظرعام پر آتے ہی عالمی سطح پر ایک سیاسی ہیجان کی سی کیفیت بن گئی ہے۔ ہر طرف حکمرانوں اور سرمایہ داروں کی آف شور کمپنیوں اور آف شور اثاثوں پر بحث و مباحثہ چل رہا ہے۔ پانامہ لیکس نے کئی ملکوں کی سیاسی اشرافیہ کی اس پس پردہ […]

واپڈا: آندھیوں میں جلتا چراغ

تحریر: | مقصود ہمدانی | دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام اس وقت زوال کا شکار ہے۔ یہ نظام اب انسانی سماج کو آگے بڑھانے کی طاقت کھو چکا ہے۔ اس کے سیفٹی والو بھی اب آہستہ آہستہ ختم ہو چکے ہیں اور یہ زائدپیداواریت کا شکار ہو چکا ہے۔ پھر بھی یہ تمام انسانوں […]

سوشلزم ہی راہ نجات ہے!

تحریر: |گل زادہ صافی| حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں خط غربت سے نیچے زندگی کا عذاب جھیلنے والوں کی تعداد چھ کروڑ سے زیادہ ہوچکی ہے۔ ہرسال ملک کی محنت کی منڈی میں 25لاکھ سے زیادہ نوجوان آرہے ہیں جن کیلئے ریاست کے پاس دینے کو کچھ بھی نہیں۔ سفید […]

پاکستان: سیاست دانوں کی نورا کشتی اور عوامی شعور

تحریر: | آدم پال | ہر آنے والا دن زخموں کو کریدتا ہے۔ اور جاتے جاتے نئے زخم دیتا ہے۔ زندگی کی اذیتیں کم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ ہر روز تکلیفیں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ محنت کشوں کی زندگیوں سے خوشیاں روٹھ چکی ہیں جبکہ دوسری جانب حکمران طبقات کے لیے دکھ، تکلیف اور […]

پیپلز پارٹی اپنے منطقی انجام کی طرف گامزن!

تحریر: | پارس جان | آج کل بلاول زرداری کے ممکنہ طور پر انقلابی ہو جانے کا بڑا شور شرابہ ہے۔ سُنا ہے موصوف نے تمام تنظیمی ڈھانچے اور عہدے غیر فعال یا معطل کر دیئے ہیں اور پنجاب میں پارٹی کی باگ دوڑ نام نہاد بائیں بازو کے ’’محفوظ‘‘ ہاتھوں میں دینے کا فیصلہ […]

فوجی افسران کی برطرفیاں: چور مچائے شور

تحریر: | ولید خان | سرمایہ داری کے گہرے ہوتے بحران کے اثرات مزید شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ 2007-2008ء کے بحران کے بعد ریاستوں نے اپنی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ بحران پہلے آنے والے بحرانات کی طرح عارضی بحران ہے جس کے بعد پھر خوشحالی کا دور […]