پاکستان: سناٹے کی گونج

نئی نسل ماضی کے مزاروں کوپوجنے کی نہیں مستقبل کو تراشنے اور نکھارنے کی جدوجہد میں سرگرم ہونے کے پہلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے جو سبق حاصل کیا ہے اس کا نچوڑ یہ ہے کہ انہیں خود اپنے دم پر کچھ کرنا ہو گا۔ وہ سماج کی طبقاتی بنتر کو بھی زندگی کے تلخ تجربات سے سمجھ رہے ہیں

تبدیلی کے لیے سسکتا کراچی

سندھ حکومت پر براجمان پیپلز پارٹی محنت کشوں کو روزگار اور روٹی‘ کپڑا اور مکان دینے کی بجائے چھیننے کی پالیسی پر گامزن ہے اور عوام کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ رینجرز اختیارات کی توسیع کا بنا کر پیش کیا جا رہاہے

اداریہ ورکرنامہ: وہ خواب جو ہم نے دیکھا تھا!

اس وقت اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم استعفیٰ دے یا پھر یہ فکر ہے کہ آئندہ عام انتخابات کون جیتے گا۔ ان تمام پارٹیوں کے نعرے بھی اسی مطالبے کے گرد گھومتے ہیں اور میڈیا، عدلیہ، افواج اور بیوروکریسی میں موجود حکمران طبقے کے تمام افراد […]

کیا مشال خان کی شہادت رائیگاں چلی گئی؟

مشال خان کی شہادت نے کمزور اور متذبذب طلبا تحریک کو ایک نئی معیاری جست لگائی ہے۔ اس نے دکھایا ہے کہ فیسوں میں اضافے سے لے کر دیگر مسائل کے حل کے لیے جرات مندی اور ثابت قدمی کے ساتھ آج بھی لڑا جا سکتا ہے

پاکستان: بوکھلاتی ریاست‘ کھوکھلی سیاست!

عالمی سطح پر آنے والی تیز ترین تبدیلیاں پاکستانی ریاست کی دراڑوں کو بڑھاتی چلی جا رہی ہیں۔ محنت کش عوام پرمظالم کے پہاڑ توڑنے والی اور بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے والی یہ ریاست مسلسل کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے

مزاحمت کی سیاست

ایسے میں یہ سوا ل ابھرتا ہے کہ کیا تمام تر اسٹیٹس کو، ظالم ریاست اور سامراج کے خلاف مزاحمت کی سیاست کی بھی جا سکتی ہے یا نہیں۔انقلابی سیاست کی تاریخ گواہ ہے کہ بد ترین ریاستی جبر اور تشدد بھی انقلابی تنظیموں کو ختم نہیں کر سکا بلکہ انہیں مزید مضبوط کرنے کا باعث بنا ہے

پاکستان: مزدور تحریک اور مستقبل کا لائحہ عمل

تحریر: | آفتاب اشرف| سرمایہ دارانہ نظام کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ محنت کش طبقے کا شدید استحصال کر کے اپنی تجوریاں بھرنے والے سرمایہ دار طبقے نے کبھی بھی اپنی آزادانہ مرضی سے محنت کشوں کا کوئی مطالبہ پورا نہیں کیا۔ اپنے انتہائی بنیادی مطالبات منوانے کے لئے بھی محنت کشوں کو متحد […]

کراچی میں تبدیلی: ’مداری‘ اور ’تماشا‘

تحریر: |پارس جان| ’’مائنس ون‘‘ فارمولا سہل پسندانہ ریاضیاتی اور میکانکی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی سوچ ہی افرادکے مبالغہ آرائی پر مبنی کردار اور جنونیت پر مبنی اطاعت کو سماجی بنیادیں فراہم کرتی ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مسئلے کی نوعیت اور شدت جو بھی ہو، اگر ذمہ […]