پاکستان: سرمایہ داری کی کمزور کڑی

یہ تمام سماجی، معاشی اور سیاسی بحران آخر میں پھٹ کر ایک بڑی انقلابی تحریک پیدا کرنے کی طرف جائیں گے۔ یہ تحریک اپنے پھیلاؤ اور شدت میں ماضی کی تمام تحریکوں کو گہنا دے گی۔ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کے اس ممکنہ تحریک کے سامنے 69-1968ء کی تحریک بھی ہیچ نظر آئے گی

خیبر پختونخواہ: سرکاری کالجز کی نجکاری کے خلاف ٹیچرز سراپا احتجاج؛ نام نہاد ’تبدیلی‘ کا پردہ چاک

|رپورٹ: اسفند یار شنواری| سرکاری کالجز کی نجکاری کے خلاف 19 ستمبر کو پختونخوا بھر کے لیکچرار، پروفیسرز اور ٹیچنگ سٹاف نے اسمبلی ہال کے باہر شدید احتجاج کیا اور دھرنا دیا۔ اس احتجاجی دھرنے میں پورے صوبے کے ٹیچنگ سٹاف نے شرکت کی۔ ہزاروں کی تعداد میں ٹیچر اسمبلی ہال کے باہر جمع تھے […]

سی پیک؛ آسیب زدہ سراب

|تحریر: ثنا زہری| چائناپاکستان اکنامک کوریڈور۔سی پیک کے متعلق ملک کے طول وعرض میں کافی عرصے سے بحث ومباحثہ بڑے زور و شور سے جاری ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں عسکری اداروں کے نمائندے اور ملکی کاپوریٹ میڈیا اسے گیم چینجر منصوبے سے تعبیر کرتے ہیں کہ اس منصوبے سے پاکستان کے تمام مسائل حل ہونگے […]

اداریہ ورکر نامہ: طلبہ سیاست کا مستقبل

پاکستان میں طلبہ سیاست کی طویل تاریخ سات دہائیوں پر مشتمل ہے۔ اپنے جنم سے لے کر اب تک یہ مد و جزر کا شکار رہی ہے۔ عالمی سطح پر ابھرنے والی تبدیلیاں ہو ں یا ملک میں ابھرنے والی مختلف تحریکیں یہاں کی طلبہ سیاست ان تمام اثرات کو اپنے اندر سمیٹتے ہوئے آگے […]

پختونخواہ اور فاٹاکے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف سوشلسٹ انقلاب ہے!

جہاں تک سماجی تحریک کا تعلق ہے تو ایسا ہرگز نہیں کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا ہ آج ایک انقلابی کیفیت میں ہے۔ لیکن ایسا بھی قطعاً نہیں ہے کہ حالات معمول کے مطابق ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز، اساتذہ، نرسز، کسان، صنعتی مزدور اور طلبا کی بہت بڑی تعداد نہ صرف اس بوسیدہ نظام سے اکتا گئے ہیں بلکہ اس کے خلاف آواز بھی بلند کر رہے ہیں

پاکستان: پرانے غلام نئے آقاؤں کی تلاش میں!

امریکی صدر ٹرمپ کی افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں پالیسی کے اعلان کے بعد سے یہاں کے حکمرانوں کے ایوانوں میں ایک کھلبلی سی نظر آتی ہے۔ امریکی سامراج کی غلامی کا طوق پہنے یہاں کے غلام حکمران اپنی ماضی کی خدمات اور کاسہ لیسی کی داستان سنا کر آقا کوسخت رویہ اپنانے سے روکنا چاہتے ہیں جو اب ان کے منہ میں ڈالی جانے والی ہڈی بند کرنے جا رہا ہے

کشمیر: مارکسی سکول گرما 2017ء کا انعقاد

پروگریسو یوتھ الائنس کے زیراہتمام دو روزہ مارکسی سکول گرما 2017ء 19 اور 20 اگست کو راولاکوٹ‘ کشمیر میں منعقد ہوا۔ سکول میں شرکت کے لئے ملک بھر سے نوجوانوں اور محنت کشوں کے قافلے 17اگست کو ہی کشمیر پہنچنا شروع ہوگئے۔ کراچی سے لے کر کشمیر تک ملک کے تمام بڑے شہروں اور تعلیمی اداروں سے نوجوانوں نے اس سکول میں شرکت کرکے اس کو کامیاب بنایا

فیصل آباد: پاور لومز ورکرز کی تحریک۔۔۔نتائج اور اسباق!

چوری اور محنت کشوں کے وحشیانہ استحصال کے بل بوتے پر ہی پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے اور یہی وجہ ہے کہ مزدوروں کی طرف سے اجرتوں میں معمولی اضافے کا مطالبہ بھی مالکان کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیتا ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ محنت کشوں کے شدید ترین استحصال کے بغیر نہ تو وہ اپنی پیداواری لاگت کو قابو میں رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی شرح منافع میں اضافہ کر سکتے ہیں

بیروزگاری؛ نوجوانوں کو ڈستا عفریت

معاشی ترقی اور کشکول توڑ دینے کی روایتی نعرے بازی حقیقی سماجی حالات سے کسی طور میل نہیں کھاتی۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری پاکستانی سماج کے لئے ایک شدید خطرہ ہے جس کی نشاندہی بہت سے سنجیدہ بورژوا تجزیہ نگار کررہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں مختلف اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس میں اسٹیک ہولڈرز کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو یہ ایک بڑے سماجی دھماکے کی صورت میں پھٹ سکتا ہے