پشتون تحفظ تحریک: نئی سیاست کا جنم!

اس تحریک کی نظریاتی بنیادوں کو وسعت دینے کی ضرورت ہے اور تنگ نظر قوم پرستی کے حملوں کو شکست دیتے ہوئے اسے محنت کش طبقے کے وسیع تر مطالبات کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے

اداریہ ورکرنامہ: پگھلتی ریاست!

پاکستان کی ریاست کے مختلف حصے اپنی عملداری کھوتے جار ہے ہیں اور اس کی نظریاتی بنیادیں ہل چکی ہیں۔آنے والے وقت میں یہ تمام عمل کم یا زیادہ رفتار کے ساتھ جاری رہے گا اور اس گماشتہ ریاست کو اپنے انجام کی جانب لے کر جائے گا

پشتون بہار۔۔آگے کیسے لڑا جائے؟

|تحریر: پارس جان| مملکت خداداد میں گزشتہ عشرے میں کئی نام نہاد ’انقلابی تحریکیں ‘ عوامی شعور پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی مگر ہر بار پالیسی سازوں کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ سلسلہ پرویز مشرف کے اقتدار کے اختتام کے دنوں سے شروع ہوا تھا جب مرتی ہوئی مشرف آمریت کے […]

پشتون تحفظ تحریک: مستقبل کے امکانات اور روایتی قیادت کا بحران!

|تحریر: خالد مندوخیل| پشتون تحفظ تحریک جو گزشتہ دو ماہ سے منظر عام پر آئی ہے، اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ کراچی میں نوجوان نقیب محسود کے ماورائے عدالت قتل نے فاٹا کے عوام میں ایک طویل وقت سے پلنے والے غم و غصے میں ایک نیا ابال پیدا کیا اور عوام نے اس […]

نجکاری کے حملے کا جواب: عام ہڑتال!

|تحریر: ولید خان| جنوری میں وزیر نجکاری دانیال عزیزنے اعلان کیا کہ حکومت 15 اپریل سے پہلے پی آئی اے کی نجکاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس وقت تک پی آئی اے کے فلائنگ شعبے کو باقی شعبہ جات سے علیحدہ رکھا جائے گا اور پھر اعلان کردہ تاریخ تک نجکاری کر دی جائے […]

پشتون تحفظ تحریک کے کارکنان کی گرفتاریوں اور مقدمات کیخلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس| نقیب اللہ محسود کے بہیمانہ قتل کے بعد پشتون علاقوں بالخصوص فاٹا میں جاری ریاستی جبر اور قومی جبر کے خلاف ابھرنے والی پشتون تحفظ تحریک تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔کوئٹہ کے عظیم الشان جلسے کے بعد 8اپریل کوپشاور میں جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ریاستی جبرکے […]

پشتونوں پرقومی جبر کیخلاف بغاوت کا آغاز!

پاکستان میں جاری پشتونوں سمیت تمام مظلوم قومیتوں پر جبر کا خاتمہ کرنے کے لیے اس سرمایہ دارانہ ریاست اور اس کے تمام اداروں کو اکھاڑنا پڑے گا جو صرف محنت کش طبقے کے ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے

جام تجھے سلام!

کامریڈ جام ساقی محض ایک فرد نہیں تھے، بلکہ مظلوموں، لاچاروں اور پسے ہوئے طبقات کی اپنے سیاسی و معاشی حقوق کے لیے جدوجہد کے نشیب وفراز کی طویل داستان کے مرکزی کردار بھی تھے