پنجاب حکومت کا پشتون محنت کشوں پر جبر!

لیکن المیہ یہ ہے کہ پشتون قوم پرستوں نے پچھلے 16 سالوں کے دوران عالمی طاقتوں کی جانب سے پشتونخواہ اور افغانستان کے متعلق دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ کے حوالے سے جو سامراجی جنگی پالیسیاں مرتب کی ہیں اس پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اسکی خاموش حمایت بھی کرتے ہیں

فاٹا کا معمہ

برطانوی سامراج کی باقیات ’’ایف سی آر‘‘ کا خاتمہ ایک خوش آئند امر ہے مگر یہاں اس بات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے سے عام قبائلی عوام کی زندگیوں پر کیا فرق پڑے گا؟ کیا فاٹا کے عام عوام کو روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، صحت، روزگار اور دہشت گردی سمیت دیگر سینکڑوں مسائل سے نجات مل جائے گی؟

عہدِ نو میں قومی سوال

قوم پرستی کے ارتقا اور اہمیت و افادیت کوتاریخی واقعات کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے ہی جدید عہد میں قومی سوال کے کردار کا تجزیہ اور تناظر کو تشکیل دیا جا سکتا ہے

ریاستی پشت پناہی میں دہشت کا کاروبار

رپورٹ میں جہاں ریاستی اداروں کی زبوں حالی کا ذکر ہے وہاں اس امر کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ آخر یہ دہشت گرد تنظیمیں کس کی بنائی ہوئی ہیں اور وہ کس مقصد کے لیے بر سر پیکار ہیں۔ یہ دہشت گرد تنظیمیں ریاست کی اپنی بنائی ہوئی ہیں جو کہ اب خود ریاست کے گلے کا طوق بن گئی ہیں۔اور ریاستی ادارے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے انڈیا اور افغانستان پر الزام لگاتی ہیں، جس سے بلوچستان کے اندر ’’ایف سی‘‘ کی ہر گام پر چیک پوسٹوں کے حوالے سے سوال اٹھتا ہے کہ ان کا کیا مقصد ہے؟

جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF) کی پچاس سالہ جدوجہد کے اسباق

آج NSF بطور ایک تنظیم کے جس فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے وہاں اس سے وابستہ نوجوانوں کے لئے اس کے چھوٹے بڑے تمام کارناموں کی تفصیلات جاننے سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ ان کو اس تنظیم کے سیاسی اور نظریاتی ارتقاء کے مختلف مراحل اور اتار چڑھاؤ سے آگاہی ہو تاکہ وہ مستقبل کی جدوجہد میں زیادہ باشعور ہو کر اپنا کردار ادا کرسکیں۔

شہید حاصل رند: خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ!

|تحریر: ظریف رند| قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ اکتیس اکتوبر کی شومئی شام کا سوا چھ بجے کا بدقسمت لمحہ جس میں ہمارے پیارے اٹھارہ سالہ جوان سال بھائی میر حاصل رند بزدل مسلح درندوں کی گولیوں کا نشانہ بنے جب وہ […]

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن: جدوجہد کے پچاس برس

تحریر: |فارس راج| 22 ستمبر 2016ء کو جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے اپنی تاریخ ساز جدوجہد کے پچاس سال مکمل کئے۔ بغیر کسی مبالغے کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی خوش آئند اور رجائیت سے بھرپور ہے۔ اس موقع پر ہم پروگریسیو یوتھ الائنس(PYA) کی جانب سے کشمیر کے جرات […]

بلوچستان: سوگ کے سماں میں جشن کی ناٹک بازی!

تحریر: |سہراب بلوچ| برصغیر پر بیرونی حملہ آوروں اور قابضین کا صدیوں پر محیط جبر و استبداد عوامی شعور پر وہ تاریخی غلامی کے نقش چھوڑ گیا جس نے غلامی کی زنجیروں سے چھٹکارا پانے اور آزادی کے احساس کو اجاگر کیا اور شاندار انقلابی بغاوتوں کو جنم دیا جس سے انگریز سامراج تک کو […]

14اگست: آزادی نہیں درماندگی کا جشن!

تحریر: |راشد خالد| 69سال پہلے برصغیر کی خونی تقسیم کے نتیجے میں دو ’’آزاد‘‘ ملک معرض وجود میں آئے؛ ہندوستان اور پاکستان۔ اور ان پچھلے تمام تر سالوں میں ان دونوں ممالک کے حکمران طبقات اپنی عوام کو یہ باور کروانے میں مشغول ہیں کہ ہم ایک آزاد اور خودمختار ملک ہیں۔ بالخصوص ہر سال […]