بلوچستان کے سلگتے زخم

|تحریر: بلاول بلوچ| 17دسمبر 2017ء کا دن اس ملک میں ایک ’نئے‘ یوم سیاہ کے طور پر یاد کیا جائے گا مگر مملکت خداداد کی تاریخ میں کوئی بھی دن یہاں کے عام عوام کے لیے خوشی کا دن نہیں رہا۔ تین سال پہلے 16دسمبر کو آرمی پبلک سکول پشاور کا واقعہ اور اس طرح […]

پختونخواہ اور فاٹاکے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف سوشلسٹ انقلاب ہے!

جہاں تک سماجی تحریک کا تعلق ہے تو ایسا ہرگز نہیں کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا ہ آج ایک انقلابی کیفیت میں ہے۔ لیکن ایسا بھی قطعاً نہیں ہے کہ حالات معمول کے مطابق ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز، اساتذہ، نرسز، کسان، صنعتی مزدور اور طلبا کی بہت بڑی تعداد نہ صرف اس بوسیدہ نظام سے اکتا گئے ہیں بلکہ اس کے خلاف آواز بھی بلند کر رہے ہیں

آزاد پاکستان یا مظلوم طبقات اور قومیتوں کا جیل خانہ

اصل میں ہم جس میں رہتے ہیں وہ ایک نہیں دو پاکستان ہیں۔ ایک امیروں کا پاکستان اور دوسرا غریبوں کا پاکستان۔ ایک جاگیرداروں کا پاکستان اور دوسرا ہاریوں اور کسانوں کا پاکستان۔ ایک سرمایہ داروں کا پاکستان اور دوسرا محنت کشوں کا پاکستان۔ ایک بیوروکریٹوں، جرنیلوں، ججوں اور میڈیا مالکان کا پاکستان اور دوسرا نہتے، لاچاروں، بیماروں اور مسکینوں کا پاکستان۔

بلوچستان کے زخم!

پچھلے سال 8 اگست کو کوئٹہ میں دن دیہاڑے ایک خودکش حملے میں وکلا کی ایک بڑی پرت کو مارا گیا تھا۔ لیکن ریاستی اداروں کی طرف سے اس گھناؤنے حملے پر جو ردِعمل آیا اس نے بلوچستان کے لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے اس بدبخت صوبے کے گھاؤ اور بھی گہرے کر دیئے

کشمیر: تحریک کا ایک سال

’’آزادی‘‘ کے نعروں کی گونج وادی سے ابھر کر ایک بار پھر پورے کشمیر میں پھیل چکی ہے۔ تحریک تھمنے کی بجائے بار بار مزید شدت سے ابل پڑتی ہے۔ بہیمانہ بھارتی ریاستی جبر اپنی انتہاؤں کے باوجود تحریک کو پسپا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا

کشمیر: تحریکِ آزادی تاریخ کے اہم موڑ پر!

یہ کشمیر کی نئی نسل کی ایک انقلابی بغاوت ہے جو تخت دہلی اور اسلام آباد کو لرزا رہی ہے۔ کشمیر کی طلبہ تحریک نے کشمیر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اور تبدیلی کا یہ عمل نہ تو کشمیر تک محدود ہے اور نہ اسے وہاں تک محدود رکھا جا سکتا ہے

پنجاب حکومت کا پشتون محنت کشوں پر جبر!

لیکن المیہ یہ ہے کہ پشتون قوم پرستوں نے پچھلے 16 سالوں کے دوران عالمی طاقتوں کی جانب سے پشتونخواہ اور افغانستان کے متعلق دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ کے حوالے سے جو سامراجی جنگی پالیسیاں مرتب کی ہیں اس پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اسکی خاموش حمایت بھی کرتے ہیں

فاٹا کا معمہ

برطانوی سامراج کی باقیات ’’ایف سی آر‘‘ کا خاتمہ ایک خوش آئند امر ہے مگر یہاں اس بات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے سے عام قبائلی عوام کی زندگیوں پر کیا فرق پڑے گا؟ کیا فاٹا کے عام عوام کو روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، صحت، روزگار اور دہشت گردی سمیت دیگر سینکڑوں مسائل سے نجات مل جائے گی؟

عہدِ نو میں قومی سوال

قوم پرستی کے ارتقا اور اہمیت و افادیت کوتاریخی واقعات کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے ہی جدید عہد میں قومی سوال کے کردار کا تجزیہ اور تناظر کو تشکیل دیا جا سکتا ہے