مارکسزم کے متعلق مغالطے
|تحریر: مارکسسٹ سٹوڈنٹس فیڈریشن، ترجمہ: مشعل وائیں| گزشتہ دو دہائیوں میں مارکسزم اور اس انقلابی ورثے کیخلاف کیا جانے والا غلیظ پروپیگنڈہ بالکل عیاں ہے۔ سوشلزم کے بجائے سٹالنزم (جو کہ مارکسزم نہیں بلکہ اس کی ایک مسخ شدہ اور ہولناک شکل تھی) کے انہدام کے بعد ایک کے بعد دوسرے محاذ پر میڈیا، یونیورسٹیاں، […]
شعور کا بحران
موجودہ عینیّتی فلسفہ، خاص طور پر اس کی موضوعی اشکال میں شعور کا سوال بحرانی کیفیت سے دو چار ہے۔ فلسفے میں یہ بحران موجودہ سماج کی بحرانی کیفیت کا آئینہ دار ہے۔ اس قبیل کے فلسفہ کے کچھ رجحانات اس انحطاط یا بحران کو تسلیم تو کرتے ہیں لیکن اس کی وجوہات، ماخذ، علامات اور اصلیت کے بارے بے شمار آراء رکھتے ہیں جو بعض اوقات ایک دوسرے سے یکسر مختلف اور متضاد ہوتی ہیں
اکتوبر انقلاب کے موقع پر لینن کا بالشویکوں کو خط

روس اور عالمی انقلاب دونوں کی کامیابی کا انحصار دو یا تین دن کی لڑائی پر ہے۔
انقلابِ روس کے سو سال: سوشلزم کا نظریہ آج بھی زندہ ہے!
1917ء میں روس میں برپا ہونے والے عظیم بالشویک انقلاب کو اس سال ایک صدی مکمل ہو گئی ہے۔ ایک سوسال قبل ہونے والے انسانی تاریخ کے ان اہم ترین واقعات میں محنت کش طبقے نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور کئی صدیوں سے جاری امیر اور غریب پر مبنی طبقاتی نظام کا مکمل خاتمہ کر دیا تھا
ماحولیاتی آلودگی: سرمایہ داری کی ہولناکیاں
|تحریر: ولید خان| سال 2017ء کا آغاز یورپ کی تاریخ کے سب سے سرد موسم سرما سے ہوا جس کے نتیجے میں 61 اموات واقع ہوئیں۔ ابھی سردی کی اس لہر کی وجوہات کو جاننے کی کوششیں ہی کی جا رہی تھیں کہ فروری میں افغانستان، پاکستان سرحد پر برفانی تودوں کے گرنے سے 100 […]
سرمایہ داری کی پرفریب اخلاقیات
حکمران طبقہ اپنے مقاصد کو معاشرے پر لاگو کرتا ہے اور ان تمام ذرائع کو غیر اخلاقی تصور کرنے کا عادی بنا دیتا ہے جو اس کے مفاد کے متصادم ہو۔ ایسی حکمرانی جو محض طاقت کے زور پر ایک ہفتہ بھی قائم نہیں رہ سکتی اسے اخلاقیات کی ضرورت ہے
سٹالن اور ٹراٹسکی کے اختلافات کی حقیقت۔۔روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے تبصرے کا جواب
25 جون 2017ء کو پاکستان کے سب سے بڑے اور بااثر انگریزی اخبار نے ’’ نئے روس کے پرانے بالشویک‘‘ کے عنوان سے کسی بورس سٹریملن کا ایک لمبا چوڑا مضمون شائع کیا ۔ اس مضمون کا مقصد حال ہی میں شائع ہونے والی ٹراٹسکی کی کتاب ’’سٹالن‘‘ کے نئے ایڈیشن کا تنقیدی جائزہ لینا تھا جسے ’’WellRed Books‘‘ نے شائع کیا ہے اور راقم نے اس کی ادارت کی ہے
مارکسزم اور ریاست (دوسرا اور آخری حصہ)
صلاح پسند لیڈر پوری کوشش کرتے ہیں کہ وہ محنت کشوں کو اس بات پر قائل کر سکیں کہ وہ بہت کمزور ہیں جبکہ بورژوازی اور اس کی ریاست بہت مضبوط۔محنت کشوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے یہ کہنا کہ انقلاب ناگزیر طور پر متشدد ہو گا، خانہ جنگی اور خون ریزی ہو گی، اصلاح پسندوں کا پرانا نسخہ ہے۔
فیصلہ کن موڑ
تحریر: وی آئی لینن (یہ مضمون لینن نے 26جون 1917ء کو لکھا جب ردانقلابی عبوری حکومت بالشویک پارٹی کے خلاف کاروائیاں کرنے کی حکمت عملی ترتیب دے رہی تھی جس کی وجہ بالشویک پارٹی کی جنگ جاری رکھنے کی حکومتی پالیسی کی مخالفت اور عبوری حکومت کی عوامی مسائل کو حل کرنے کی تاریخی نااہلی […]
انقلابِ روس؛ تاریخ کا درخشاں باب
اس سے قطع نظر کہ بالشویزم کے بارے میں کوئی کیا سوچتا ہے، یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ روسی انقلاب انسانی تاریخ کے عظیم ترین واقعات میں سے ایک ہے اور بالشویکوں کا اقتدار عالمی اہمیت کا حامل مظہر ہے