سٹالن اور ٹراٹسکی کے اختلافات کی حقیقت۔۔روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے تبصرے کا جواب

25 جون 2017ء کو پاکستان کے سب سے بڑے اور بااثر انگریزی اخبار نے ’’ نئے روس کے پرانے بالشویک‘‘ کے عنوان سے کسی بورس سٹریملن کا ایک لمبا چوڑا مضمون شائع کیا ۔ اس مضمون کا مقصد حال ہی میں شائع ہونے والی ٹراٹسکی کی کتاب ’’سٹالن‘‘ کے نئے ایڈیشن کا تنقیدی جائزہ لینا تھا جسے ’’WellRed Books‘‘ نے شائع کیا ہے اور راقم نے اس کی ادارت کی ہے

فیصلہ کن موڑ

تحریر: وی آئی لینن (یہ مضمون لینن نے 26جون 1917ء کو لکھا جب ردانقلابی عبوری حکومت بالشویک پارٹی کے خلاف کاروائیاں کرنے کی حکمت عملی ترتیب دے رہی تھی جس کی وجہ بالشویک پارٹی کی جنگ جاری رکھنے کی حکومتی پالیسی کی مخالفت اور عبوری حکومت کی عوامی مسائل کو حل کرنے کی تاریخی نااہلی […]

انقلابِ روس؛ تاریخ کا درخشاں باب

اس سے قطع نظر کہ بالشویزم کے بارے میں کوئی کیا سوچتا ہے، یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ روسی انقلاب انسانی تاریخ کے عظیم ترین واقعات میں سے ایک ہے اور بالشویکوں کا اقتدار عالمی اہمیت کا حامل مظہر ہے

داس کیپیٹل کے ڈیڑھ سو سال

اس ایک کتاب کی اہمیت کو کم کرنے اور اس کو غلط ثابت کرنے کیلئے جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں، انسانی تاریخ میں کسی اور کتاب کے خلاف ایسا نہیں ہوا۔ انکی تعداد ہزاروں میں ہے. آج ان تمام کتابوں اور مصنفوں کا کوئی نام بھی نہیں جانتا جن پر داس کیپیٹل کا ’’رد‘‘ لکھنے کی وجہ سے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے گئے تھے

بغاوت ہند 1857ء

بغاوت ہند 1857ء کی کیا تعریف کی جائے؟ کیا وہ محض کمپنی کے ناراض ہندوستانی سپاہیوں کی بغاوت تھی یا پھر ایک عوامی بغاوت؟ کیا وہ کسی گزرے ہوئے عہد کی معدوم سلطنت کو واپس بحال کرنے کی کوشش تھی یا پھر کچھ نیا اور جدید تعمیر کرنے کی جدوجہد؟ سب سے اہم سوال۔ ۔ ۔ 1857ء کی بغاوت کا کردار تاریخی اعتبار سے ترقی پسندانہ تھا یا پھر قدامت پسندانہ؟

یومِ مئی: ہم نئے عزم سے بنیاد سحر رکھتے ہیں!

|تحریر: راشد خالد| یکم مئی محنت کشوں کے عالمی دن کے بطور منایا جاتا ہے۔ آج سے 131سال قبل 1886ء میں یکم مئی کے دن امریکہ میں ایک عام ہڑتال کا آغاز ہوا، جس کا بنیادی مطالبہ 8گھنٹے کے اوقات کار تھا۔ ہڑتال دیکھتے ہی دیکھتے پھیلتی گئی، پہلے ہزاروں اور پھر لاکھوں محنت کش […]

شہید بھگت سنگھ؛ اور نکلیں گے عشاق کے قافلے!

’’آج ہم نوجوانو ں کو پستول اور بم اٹھانے کا نہیں کہتے، آج طلبہ کا سامنا اس سے کہیں بڑے مقصدسے ہے۔ ۔ ۔ نوجوانوں کو انقلاب کے اس پیغام کو ملک کے دور دراز کونوں تک لے کر جانا ہوگا۔ ‘‘

اکتوبر کے دفاع میں

اکتوبر انقلاب نے پرولتاریہ کی فتح کا اعلان کیا۔ عالمی سرمایہ داری کو پہلی عظیم شکست روس کی سرزمین پر ہوئی۔ زنجیر اپنی کمزور ترین کڑی سے ٹوٹ گئی۔ لیکن یہاں صرف کڑی نہیں ٹوٹی تھی بلکہ زنجیر ٹوٹی تھی

1917ء کا فروری انقلاب۔۔۔ جب تخت گرائے گئے!

فیکٹریوں میں دیو ہیکل اکٹھ اور مظاہرین کا بے پناہ ہجوم سڑکوں پر تھا۔ عوام کے ہجوم پولیس اور فوج کو پرے دھکیلتے ہوئے ’’روٹی‘‘، ’’امن‘‘ اور ’’ آمریت مردہ باد!‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے شہر کے وسط میں پہنچ گئے۔ انقلاب شروع ہو چکا تھا