اداریہ سہ ماہی لال سلام: اصلاح پسندی (ریفارم ازم) یا انقلاب!

1968-69ء کے انقلاب کی نصف صدی کے موقع پر پاکستان میں اصلاح پسند ی یا ریفارم ازم کے نظریات مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔فراڈ انتخابات کے نتیجے میں بر سر اقتدار آنے والا عمران خان ایک دائیں بازو کے ریفارم اسٹ پروگرام کے ذریعے عوام کو سبز باغ دکھانے کی کوشش کر […]

اداریہ ورکرنامہ: انتخاب یا انقلاب؟

اس نظام کے انتخابات کا مضحکہ خیز فراڈ محنت کش عوام پر عیاں ہو چکا ہے۔ایسے میں سوال ابھرتا ہے کہ اگر انتخابات کے ذریعے تبدیلی نہیں آ سکتی اور ہر صورت میں وہی کرپٹ اور عوام دشمن افراد ہی بر سر اقتدار آئیں گے تو پھر حقیقی تبدیلی کیسے آ سکتی ہے۔ایسے میں کچھ […]

اداریہ ورکرنامہ: لبرل ورلڈ آرڈر کی شکست!

مسئلہ کسی ایک ملک کی سیاسی پارٹی یا معاشی پالیسی کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے۔ عالمی سطح پر موجود لبرل ورلڈ آرڈر کو شکست ہو چکی ہے اور وہ اپنی بقا کی لڑائی لڑ رہا ہے اور اس لڑائی میں کروڑوں انسانوں کی زندگیوں میں مسلسل زہر گھولتا جا ر ہا ہے

اداریہ ورکرنامہ: مزدوروں کی سیاست

سیاسی افق پر موجود بازاری سیاست سے اکتائے ہوئے لوگ حقیقی مسائل پر گفتگو کا آغاز کریں گے تو ناگزیر طور پر ایک ہی نتیجہ اخذ کریں گے کہ یہ نظام اور اس کے رکھوالے ان کے دشمن ہیں اور ان کیخلاف کھلی طبقاتی جنگ کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے

اداریہ ورکرنامہ: پگھلتی ریاست!

پاکستان کی ریاست کے مختلف حصے اپنی عملداری کھوتے جار ہے ہیں اور اس کی نظریاتی بنیادیں ہل چکی ہیں۔آنے والے وقت میں یہ تمام عمل کم یا زیادہ رفتار کے ساتھ جاری رہے گا اور اس گماشتہ ریاست کو اپنے انجام کی جانب لے کر جائے گا

اداریہ سہ ماہی لال سلام: کارل مارکس کے 200سال!

’’فلسفیوں نے اب تک دنیا کی تشریح کی ہے‘ جبکہ اصل کام اس کو تبدیل کرنا ہے‘‘ کارل مارکس کے یہ الفاظ آج بھی اسی طرح درست ہیں جتنے اس وقت تھے جب یہ لکھے گئے۔ بلکہ آج دنیا کو تبدیل کرنے کی جتنی ضرورت ہے شاید کبھی بھی نہیں تھی

اداریہ ورکرنامہ: نئی اور پرانی سیاست!

آج پاکستان کی ریاست کا داخلی انتشار اور عالمی سطح پر سامراجی طاقتوں کی لڑائی بالکل ایک نئی کیفیت میں داخل ہو چکی ہے اور ماضی میں اس سے ملتی جلتی صورتحال کبھی بھی موجود نہیں رہی

اداریہ ورکرنامہ: گماشتہ ریاست اور سامراجی آقا!

پاکستانی ریاست کا بحران نئی انتہاؤں کو چھو رہا ہے جبکہ سامراجی طاقتوں کی لڑائی ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ یکم جنوری کو ٹرمپ کی ٹویٹ اور دو جنوری کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ یوآن(چینی کرنسی) میں تجارت کا فیصلہ ریاست کے نامیاتی بحران اور اس پر سامراجی طاقتوں کے دباؤ کی شدت کا تھوڑا بہت اندازہ دیتے ہیں

اداریہ سہ ماہی لال سلام: سماج کو بدل ڈالو!

اس سماج میں زندگی گزارنا ایک عذاب بن چکا ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، غربت وافلاس کی ذلتوں کے ساتھ زندگی کا ہر لمحہ ایک مکمل اذیت بن کر گزرتا ہے۔ معمولی سے معمولی کام بھی کسی تکلیف، الجھن اور پریشانی کے بغیر سر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ سڑک پار کرنے سے لے کر صاف پانی […]

اداریہ ورکرنامہ: انقلاب روس کے سو سال؛ مزدوروں کی حکومت اور دشمنوں کے حملے

انقلاب روس کے سو سال پر پوری دنیا میں اس عظیم انقلاب کی یاد میں تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب محنت کش طبقے کی اس میراث پر سرمایہ داروں اور ان کے گماشتوں کی جانب سے حملوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ بہت سی […]