اداریہ ورکرنامہ: مہنگائی‘ بیروزگاری کے حملے اور سیاست کا ناٹک!

محنت کشوں کے حالات زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بد تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ہر آنے والا دن ان کے لیے نئے عذاب اور بربادیوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ مہنگائی اور بیروزگاری کے حملوں میں شدت آتی جا رہی ہے اور تھوڑی بہت بچ جانے والی جمع پونجی بھی اب […]

اداریہ ورکرنامہ:انقلاب وینزویلا پر امریکہ کا پھر سامراجی حملہ!

وینزویلا میں ہوگو شاویز کی قیادت میں برپا ہونے والا انقلاب ابھی بھی جاری ہے۔ عروج و زوال سے گزرتا ہوا بولیورین انقلاب کے نام سے جاری یہ عوامی طوفان گزشتہ دو دہائیوں سے جاری و ساری ہے اور بے تحاشا مشکلات اور رکاوٹوں کو عبور کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ شاویز کی وفات […]

اداریہ ورکرنامہ: ایک عام ہڑتال کیوں ضروری ہے؟

محنت کش طبقے پر بد ترین حملوں کا ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ پوری شدت کے ساتھ جاری ہے جبکہ حکمرانوں کی پر تعیش زندگیاں ویسے ہی جاری و ساری ہیں۔ہر نیا دن محنت کشوں کے لیے نئے عذاب اور نئی مصیبتیں لے کر نمودار ہوتا ہے جبکہ دولت مندوں کے محلوں کی روشنیوں کی […]

اداریہ لال سلام: طبقاتی نظام کا خاتمہ سوشلسٹ انقلاب سے ہی ممکن ہے!

امیر اور غریب کی طبقاتی تقسیم اس سماج کے ہر شعبے اورہر پہلومیں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ کوئی ایسا کونا کھدرا نہیں، کوئی ایسا زاویہ نہیں جہاں یہ تقسیم اپنا اظہار نہ کرتی ہو۔ تعلیمی ادارے اور ان کا نصاب ہویا علاج کی سہولیات کی دستیابی اور معیار یہ طبقاتی تقسیم ہر شہر، […]

اداریہ ورکرنامہ: انقلاب روس کے 101سال

ایک سو ایک سال قبل روس میں برپا ہونے والا سوشلسٹ انقلاب انسانی تاریخ کے سب سے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ تاریخ میں پہلی دفعہ محنت کش طبقے نے اقتدار اپنے ہاتھوں میں لیا تھا اورمٹھی بھردولت مند طبقے کی حاکمیت سے نجات حاصل کی تھی۔ اس انقلاب کے بعد نہ صرف […]

اداریہ ورکرنامہ: حقیقی تبدیلی صرف سوشلسٹ انقلاب سے ہی ممکن ہے!

موجودہ حکومت تبدیلی کا نعرہ لگا کر بر سر اقتدار آئی ہے اور آتے ہی ایسے بلند وبانگ دعوے بھی نظر آئے ہیں جن میں تمام مسائل کو حل کرنے کی باتیں کی گئیں۔لیکن امیدوں کو انتہا تک لیجانے کے بعد کہا گیا کہ ابھی کچھ دیر صبر کریں اور ہمیں پرفارمنس دکھانے کے لیے […]

اداریہ سہ ماہی لال سلام: اصلاح پسندی (ریفارم ازم) یا انقلاب!

1968-69ء کے انقلاب کی نصف صدی کے موقع پر پاکستان میں اصلاح پسند ی یا ریفارم ازم کے نظریات مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔فراڈ انتخابات کے نتیجے میں بر سر اقتدار آنے والا عمران خان ایک دائیں بازو کے ریفارم اسٹ پروگرام کے ذریعے عوام کو سبز باغ دکھانے کی کوشش کر […]