افسانہ : تہذیب کا کردار
مصنف: منشی پریم چند:- یوں تو میری سمجھ میں دنیا کی ایک ہزار ایک باتیں نہیں آتیں، جیسے لوگ علی الصباح اٹھتے ہی بالوں پر چھرا کون چلاتے ہیں؟کیا اب مردوں میں بھی اتنی نزاکت آگئی ہے۔بالوں کا بوجھ ان سے نہیں سنبھلتا۔
فن اور طبقاتی جدوجہد
کچھ حضرات کا خیال ہے کہ فن ایک ضمنی سامعاملہ ہے اور زیادہ اہم نہیں ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ انسانوں کے لئے انتہائی بنیادی نوعیت کاحامل ہے۔
جواں آگ!
ٹوبہ ٹیک سنگھ
| تحریر: سعادت حسن منٹو | بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہئے یعنی جو مسلمان پاگل، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں […]
افسانہ: آخری سیلوٹ!
| تحریر: سعادت حسن منٹو | یہ کشمیر کی لڑائی بھی کچھ عجیب و غریب تھی۔ صوبیدار رب نواز کا دماغ ایسی بندوق بن گیا تھا جس کا گھوڑا خراب ہو گیا ہو۔ پچھلی بڑی جنگ میں وہ کئی محاذوں پر لڑ چکا تھا۔ مارنا اور مرنا جانتا تھا۔ چھوٹے بڑے افسروں کی نظر میں […]
چی گویرا کی برسی کے موقع پر
تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارضِ وطن؟
اسٹیج ڈرامہ: وہ صبح ہم ہی سے آئے گی
یہ کھیل یوم مئی کے پروگرام میں پیش کیا گیا۔ [تحریر: آدم پال] کردار سیٹھ کرم داد خان: 50 سال سے زائد عمر کا سیٹھ۔ خط والی داڑھی، توند نکلی ہوئی، سر پر خضاب لگایا ہوا ہے۔ کاٹن کی سفید رنگ کی مائع والی شلوار قمیض اور کالی واسکٹ، کالے چمکتے جوتے۔ ہاتھ میں گولڈن […]
دیوار کو آتوڑیں، بازار کو آ ڈھائیں!
بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا دیوار ہے وہ اب تک جس میں تجھے چنوایا دیوار کو آتوڑیں، بازار کو آ ڈھائیں انصاف کی خاطر ہم سڑکوں پر نکل آئیں مجبور کے سر پر ہے شاہی کا وہی سایا بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا تقدیر کے قدموں پرسر […]
افسانہ: ’’پروفیسر‘‘
[تحریر: ناصرہ بٹ] باجی جی، ادھر آجائیں۔ کہاں جانا ہے آپ کو؟ اس نے دو خواتین کو سٹیشن کے باہر چاند گاڑی کھڑی کر کے آواز دی۔ عورتیں مڑیں اور اس کی طرف چلنے لگیں۔ ۔ ۔ احد کی آج ہی شعبہ تعلیم میں تقرری ہوئی تھی۔ سارا دن وہ اپنے گھریلوکام نبٹاتا رہا اور […]