افسانہ:قانون کے لمبے ہاتھ

|تحریر:آفتاب اشرف| شہر کے وسط میں واقع ایک سرکاری ہائی سکول کی عمارت منہدم ہو گئی۔ آٹھ بچے جاں بحق اور متعدد زخمی۔ عمارت ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی بنی تھی۔۔۔ ٹی وی پر بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔ پورے شہر میں ہاہا کار مچ گئی۔ انتظامی افسران کی دوڑیں لگ گئیں۔ بڑے بڑے سیاستدانوں […]

افسانہ: درمیانے

|تحریر:آفتاب اشرف| شام کو دفتر سے گھر واپسی پر جب توصیف کی نظراپنے پڑوسی بلال صاحب کے پورچ پر پڑی تو وہ پلک جھپکنا ہی بھول گیا۔وہاں ہلکے سرخ رنگ کی ایک نئی نویلی ٹویوٹا کرولا کھڑی تھی۔گاڑی پر نمبر پلیٹ کی بجائے ’اپلائیڈ فار‘ کی تختی لگی تھی جس کا مطلب تھا کہ گاڑی […]

افسانہ: بوجھ

|تحریر:آفتاب اشرف| وہ دسمبر کی ایک یخ بستہ صبح تھی۔ شہر کے ایک نواحی دیہات میں کسانوں کی ٹولیاں چادریں لپیٹے اپنے کھیتوں کی طرف جا رہیں تھیں کہ انہیں دھند میں کچھ غیر مانوس سی آوازیں سنائی دیں۔ بڑی گاڑیوں کا شور، بوٹوں کی چاپ اور اونچے کرخت لہجے میں ہونے والی گفتگو۔ بیچارے […]

افسانہ۔۔۔ تبدیلی

|تحریر: صبغت وائیں| سو برس یا اس سے کچھ اوپر ہوئے، افریقہ کے ایک دیس میں ایک نئے نوجوان کو سردار منتخب کیا گیا جس نے اپنے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ تبدیلی کا بہت شوقین ہے اور وہ افریقہ کے اس دیس کی بھوک ننگ دور کر دے گا۔ لوگوں کو اس […]

افسانہ: آزادی!

|تحریر:آفتاب اشرف| دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ دھڑ دھڑ دھڑ۔ کوئی پورے زور سے گھر کا دروازہ پیٹ رہا تھا۔’’آتی ہوں۔۔صبر نہیں ہوتا دو منٹ‘‘پروین نے دوپٹہ سنبھالتے ہوئے دروازہ کھولا تو سامنے اس کا شوہر رفیق پسینے میں شرابور کھڑا تھا۔ ’’کہاں مری ہوئی تھی؟آدھے گھنٹے سے کھڑا دروازہ پیٹ رہا ہوں۔‘‘وہ غصے سے بولا۔ ’’کام کر […]

افسانہ: تبدیلی!

|تحریر:آفتاب اشرف| قائد اعظم کالونی کی دیواروں پر ان دنوں رنگ برنگے پوسٹروں اور بینروں کی بھر مار تھی۔  چیتے کو ووٹ دیں۔۔ اب کی بار،ہاکی پر نشان۔۔ آپکے ووٹ کا حقدار، صرف کھمبا۔۔ انشاء اللہ ایم این اے۔۔عوام کا خادم،فلاں فلاں۔ آپ درست سمجھے، ملک میں الیکشن ہونے والا تھا۔ شہر کے جنوب مشرق […]

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا!

|تحریر: خدیجہ ارسلان| سرمایہ دارانہ نظام کی کوکھ سے طبقاتی تقسیم کی نمو نے معاشرے میں ایسی سماجی ناہمواریاں پیدا کی ہیں کہ حقیقت نے ایک مضحکہ خیز صورت اختیار کرلی ہے۔ عوام ایک تماشائی کی طرح حکمران طبقے کے داؤ پیچ، بیانات اور کھیل تماشے روز ہی دیکھتے ہیں۔ کبھی الیکشن میں کھڑے لیڈران […]

نظم: عارف حسین کی ماں

ماں تری تصویر دیکھی ترے گالوں پہ ٹمٹماتا ایک آنسو مرے سینے سے لاوا بن کے پھوٹنے لگا ہے مرا خود سے تعلق ٹوٹنے لگا ہے مری پوروں میں جیسے سوئیاں چبھنے لگی ہیں کسی نے جیسے فرطِ حیرت میں لے جا کر مرے سارے ہی ناخن کھینچ ڈالے ہیں تری پاکیزہ آنکھوں کی سبھی […]