انقلابِ روس کی حاصلات
جبر و استحصال کے خلاف جدوجہد: مارکسی نظریات اورلبرل ازم
|تحریر: آصف لاشاری | محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ملک کے تمام بڑے شہروں میں عورت مارچ کا انعقاد کیا گیاجس میں عورتوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ گوکہ ان تمام مارچوں میں پیٹی بورژوا اور بورژوا خواتین کی اکثریت تھی مگر محنت کشوں کی مختلف پرتوں سے تعلق […]
سرمایہ دارانہ نظام اور خواتین کا استحصال
|تحریر: سیما خان| 8 مارچ ہر سال انٹرنیشنل ورکنگ وومن ڈے کے طور پر پوری دنیا میں منایا جاتا ہے مگر اس سال یہ دن ایک ایسے وقت میں منایا جارہا ہے جب عالمی سرمایہ داری شدید بحران کی زد میں ہے اور دنیا کی کوئی ریاست اس بحران سے آزاد نہیں۔ پچھلے سال کا […]
عورت کے بارے میں پائے جانے والے چند مغالطے!
سرمایہ دارانہ نظام میں محنت کش خواتین کن کن مسائل سے دوچار ہیں بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ محنت کش طبقہ کی خواتین کن مسائل کا شکار نہیں ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہو گا۔ ان کی خستہ حالت، سماجی ناانصافی اور استحصال کی وجہ مرد ہیں یا پھر ملا یا پھر کوئی اور؟
خواتین کا حق رائے دہی اور طبقاتی جدوجہد!
اس تقریر میں روزا یہ بیان کرتی ہے کہ خواتین کے یکساں سیاسی حقوق کے حصول کیلئے عوامی تحریک، محنت کش طبقے کی آزادی کی عمومی لڑائی کے اظہار کے سوا کچھ بھی نہیں، اسی میں اس کی طاقت اور مستقبل پوشیدہ ہے
خواتین کی آزادی کی جدوجہد!
فیمینزم اپنی بنیاد میں ہی اصلاح پسند اور لبرل ہے اسی لیے یہ محنت کش طبقے کے مفادات سے متصادم ہے۔ اصلاح پسندی طبقاتی مصالحت کی علم بردار ہے جبکہ مارکسزم طبقاتی جنگ کا
خواتین کا عالمی دن: عورت کی راہِ نجات‘ سوشلسٹ انقلاب!
ہم سال 2018ء میں محنت کش خواتین کا عالمی دن انتہائی غیر معمولی حالات میں منانے کی طرف جا رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ بحران کے دس سالوں نے دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے
خواتین پر جبر کے خلاف جنگ‘ سرمایہ داری کے خلاف جنگ!
8مارچ، خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عالمی مارکسی رحجان(IMT) کا اعلامیہ
عورت کی آزادی کیسے ممکن ہے؟
|تحریر: فضیل اصغر| سرمایہ دارانہ نظام میں عورت کی آزادی کا سوال دیگر کئی سوالات کی طرح انتہائی پیچیدہ شکل اختیار کر چکا ہے۔ حکمران طبقے کی طبقاتی تقسیم اور کشمکش کو چھپانے کیلئے مختلف ذرائع، جیسے یونیورسٹیوں، اخبارات، کتابوں اور میڈیا وغیرہ (جو حکمران طبقے کی ملکیت ہوتے ہیں) کے ذریعے پروپیگنڈے سے طبقاتی […]
کشمیر: مارکسی سکول گرما 2017ء کا انعقاد
پروگریسو یوتھ الائنس کے زیراہتمام دو روزہ مارکسی سکول گرما 2017ء 19 اور 20 اگست کو راولاکوٹ‘ کشمیر میں منعقد ہوا۔ سکول میں شرکت کے لئے ملک بھر سے نوجوانوں اور محنت کشوں کے قافلے 17اگست کو ہی کشمیر پہنچنا شروع ہوگئے۔ کراچی سے لے کر کشمیر تک ملک کے تمام بڑے شہروں اور تعلیمی اداروں سے نوجوانوں نے اس سکول میں شرکت کرکے اس کو کامیاب بنایا