پشتونوں پرقومی جبر کیخلاف بغاوت کا آغاز!

پاکستان میں جاری پشتونوں سمیت تمام مظلوم قومیتوں پر جبر کا خاتمہ کرنے کے لیے اس سرمایہ دارانہ ریاست اور اس کے تمام اداروں کو اکھاڑنا پڑے گا جو صرف محنت کش طبقے کے ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے

پاکستان: سامراجی غلامی میں بکھرتی ریاست

|تحریر: راشد خالد| فرانس کے شہر پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے حالیہ اجلاس (18تا23فروری) میں پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گرد گروہوں کی مالی امداد کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے واچ لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔اس پر عملدرآمد کا آغاز تین ماہ بعد جون سے ہو […]

گلگت: بائیں بازو کے عوامی رہنما کامریڈ احسان علی ایڈووکیٹ کی گرفتاری اور ریاست کی انتقامی کاروائیاں!

|منجانب: لال سلام، پاکستان سیکشن‘ عالمی مارکسی رجحان| پاکستان کی سامراجی ریاست گلگت بلتستان کی عوامی تحریک سے خوفزدہ ہو کر انتقامی کاروائیوں میں شدت لے آئی ہے۔ تحریک کو مذہبی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے اس نے اپنے کارندے متحرک کر دیے ہیں اور ملک کے دیگر حصوں کی طرح یہاں […]

مشعل خان کا بہیمانہ قتل:جینا ہے تو لڑنا ہو گا!

کہنے کو تو یہ سیکیورٹی گارڈز، پولیس، فوج اور رینجرز کو تعلیمی اداروں کو دہشت گردی سے بچانے کے لئے موجود ہیں مگر مشعل کے قتل نے ان کی اصلیت کا پردہ چاک کردیا ہے اور ان اداروں کا حقیقی کردار سامنے لے آیا ہے۔ ان قانونی غنڈوں کامقصد ہی طلبہ پر جبر کرنا، فیسوں میں اضافے یادیگر مسائل کے خلاف آواز اٹھانے والے کو خاموش کروا دینا ہے۔

تبدیلی کے لیے سسکتا کراچی

سندھ حکومت پر براجمان پیپلز پارٹی محنت کشوں کو روزگار اور روٹی‘ کپڑا اور مکان دینے کی بجائے چھیننے کی پالیسی پر گامزن ہے اور عوام کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ رینجرز اختیارات کی توسیع کا بنا کر پیش کیا جا رہاہے

کیا مشال خان کی شہادت رائیگاں چلی گئی؟

مشال خان کی شہادت نے کمزور اور متذبذب طلبا تحریک کو ایک نئی معیاری جست لگائی ہے۔ اس نے دکھایا ہے کہ فیسوں میں اضافے سے لے کر دیگر مسائل کے حل کے لیے جرات مندی اور ثابت قدمی کے ساتھ آج بھی لڑا جا سکتا ہے

مشعل خان کے بہیمانہ قتل پر عالمی مارکسی رجحان(IMT) کا اعلامیہ

عبدالولی خان یونیورسٹی کے 23سالہ جرنلزم کے نوجوان طالب علم مشعل خان کا رجعتی بنیاد پرست ہجوم کے ہاتھوں پر تشدد قتل اس بات کی ایک نئی اور اعصاب شکن مثال ہے کہ کس طرح پاکستان میں بائیں بازو اور ترقی پسند قوتوں کے خلاف خوف و ہراس کا پر تشدد بازار گرم کیا جا رہا ہے

مشعل خان کا ریاستی پشت پناہی میں بہیمانہ قتل؛ مذہب کی سیاست

|تحریر: آدم پال| جمعرات 13اپریل کو مردان یونیورسٹی میں درندگی اور بربریت پر مبنی ایک دلخراش واقعہ دیکھا گیا۔ جرنلزم کے طالبعلم مشعل خان کو سفاک درندوں نے بہیمانہ تشدد کے ذریعے قتل کر دیا اور قتل کرنے کے بعد اس کی نعش کی تذلیل اور بے حرمتی کی گئی۔ کسی بھی انسان کے لیے […]

ریاستی پشت پناہی میں دہشت کا کاروبار

رپورٹ میں جہاں ریاستی اداروں کی زبوں حالی کا ذکر ہے وہاں اس امر کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ آخر یہ دہشت گرد تنظیمیں کس کی بنائی ہوئی ہیں اور وہ کس مقصد کے لیے بر سر پیکار ہیں۔ یہ دہشت گرد تنظیمیں ریاست کی اپنی بنائی ہوئی ہیں جو کہ اب خود ریاست کے گلے کا طوق بن گئی ہیں۔اور ریاستی ادارے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے انڈیا اور افغانستان پر الزام لگاتی ہیں، جس سے بلوچستان کے اندر ’’ایف سی‘‘ کی ہر گام پر چیک پوسٹوں کے حوالے سے سوال اٹھتا ہے کہ ان کا کیا مقصد ہے؟