عالمی سرمایہ داری کا تاریک منظر نامہ

|تحریر: راب سیول اور ایلینا سائمن، ترجمہ: اختر منیر| عالمی معیشت کے تمام اشاریے غلط سمت میں اشارہ کر رہے ہیں۔ سرمایہ دار طبقے میں خوف و ہراس بڑھتا جا رہا ہے۔ اس مرتے ہوئے نظام سے چھٹکارہ پانے کا وقت آچکا ہے۔ ’’جب لہریں تھم جاتی ہیں تو تب ہی پتہ چلتا ہے کہ […]

سوڈان: فوج پر عدم اعتماد، انقلاب کو اقتدار پر قبضہ کرنا ہو گا!

|تحریر: حامد علی زادے، حسنا شداد، ترجمہ: ولید خان| 11 اپریل کو سوڈان کے سابق آمر عمر البشیر کا تین دہائیوں پرمحیط تختہ الٹنے کے بعد بھی سوڈانی انقلاب کا ریلا تھما نہیں ہے۔ اس کے برعکس، انقلاب کے بنیادی مطالبات پورے کرنے کے بجائے فوج عوامی فتح کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال […]

اداریہ ورکرنامہ: حقیقی تبدیلی صرف سوشلسٹ انقلاب سے ہی ممکن ہے!

موجودہ حکومت تبدیلی کا نعرہ لگا کر بر سر اقتدار آئی ہے اور آتے ہی ایسے بلند وبانگ دعوے بھی نظر آئے ہیں جن میں تمام مسائل کو حل کرنے کی باتیں کی گئیں۔لیکن امیدوں کو انتہا تک لیجانے کے بعد کہا گیا کہ ابھی کچھ دیر صبر کریں اور ہمیں پرفارمنس دکھانے کے لیے […]

پاکستان: انتخابات کا گورکھ دھندہ!

انتخابات کا بہت شور مچایا جا رہا ہے اور جمہوریت کے تسلسل پر جشن منائے جا رہے ہیں۔ وفاداریوں کا بھاؤ بھی منڈی میں بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن موجودہ نظام معیشت اور سماج کی حالت زار کا نہ تو کئی سنجیدہ تجزیہ کہیں موجود ہے اور نہ ہی محنت کش کی کوئی آوازکسی بھی پلیٹ فارم پر موجود ہے

پاکستان: بحرانوں کی دلدل

|تحریر: پارس جان| پاکستان کا سماج ایک ایسا پریشر کُکر بنتا جا رہا ہے جو کسی بھی وقت ایک دھماکے کی صورت میں پھٹ سکتا ہے۔ یہاں کے دانشوروں کا سالہا سال تک سب سے مرغوب جملہ یہی رہا کہ ’یہاں کچھ نہیں ہو سکتا‘۔ اس مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کے […]

یوم مئی 2018ء کا پیغام: ملک گیر عام ہڑتال!

پاکستان میں 2008ء کے بعد جنم لینے والی مزدور تحریک کا ابتدائی مرحلہ محنت کش طبقے کو بے شمار قیمتی تجربات اور اسباق سے مسلح کرتے ہوئے اب اپنے اختتام کے نزدیک پہنچ چکا ہے اور مزدور تحریک اگلے مرحلے میں داخل ہونے کے لئے تیار ہو چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ چند ایک بڑے واقعات یا حملے اس کے کردار کو بالکل تبدیل کر کے رکھ دیں گے

ہوشربا عدم مساوات: بیمار نظام کی علامت

اس سال عدم مساوات کی تصویر پہلے سے زیادہ واضح، درست اور چونکا دینے والی ہے۔ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے کہ ایک گروہ، جو کہ ایک گالف بگھی میں پورا آ سکتا ہے، کے پاس نصف انسانیت سے زیادہ دولت ہے