پاکستان: خواتین اور پسماندہ سماج
یہاں خواتین کے حقوق پر ملائیت اور سرمایہ دارانہ لبرل ازم کے مابین ایک لڑائی کے طور پیش کیا جاتا ہے، جس سے خواتین کی حالت زار تو خیر کیا بہتر ہونی، حکمران طبقات کے مفادات کا تحفظ ہی ہوتا ہے
تدریسی مزدور اور تعلیم
پرائیویٹ اداروں کے خصوصاً اور سرکاری اداروں کے عموماً، اساتذہ کا علم سے قطعی تعلق نہیں ہوتا، تعلیم صرف روزگار کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں قدیم فقرے اب اپنی چمک دمک کھو چکے ہیں اگرچہ ان پر بہت دفعہ تقدس اور جذباتیت کی خوشبو چھڑکی جاتی ہے اور اس کو قدیم دور کے استادوں کی مثالوں سے سجانے کی کوشش کی جاتی ہے جو جدید دور کے منافع کی ہوس سے مل کر بالکل بے معنی گفتگو بن جاتی ہے
عہدِ نو میں قومی سوال
قوم پرستی کے ارتقا اور اہمیت و افادیت کوتاریخی واقعات کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے ہی جدید عہد میں قومی سوال کے کردار کا تجزیہ اور تناظر کو تشکیل دیا جا سکتا ہے
مارکسزم اور فلسفہ
فلسفے کا ذکر کریں تو آج سائنسدانوں اور بہت سے دیگر لوگوں کا عمومی رویہ انتہائی بے حسی والا بلکہ سچ کہیں تو تحقیر آمیز ہے۔ ویسے جدید فلسفے کے حوالے سے تو یہ سلوک درست ہی لگتا ہے۔ پچھلی ڈیڑھ صدی سے فلسفے کی قلمرو کو ایک ایسے بنجر اور بے آب و گیاہ بیابان کی مانند دیکھا جا سکتا ہے جس میں شاید ہی کہیں کوئی زندگی کی رمق ملے۔
سوشلزم کیلئے جدوجہد! ڈونلڈ ٹرمپ کو شکستِ فاش دینے کیلئے پروگرام
|تحریر: سوشلسٹ اپیل، امریکہ، ترجمہ: ولید خان| ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد دیوہیکل احتجاجوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ لاکھوں کروڑوں نوجوان اور محنت کش اس کی حکومت کی شدید مخالفت کریں گے۔ ٹرمپ سرمایہ داری کے بحران اور اس سے جڑی غربت، تعصب اور عدم استحکام کو حل نہیں کر سکتا۔ ڈیموکریٹ […]
لمحہ فکریہ! کشمیر بنے گا افغانستان؟

|تحریر: یاسر ارشاد| ملک پاکستان کی توحالت یہ ہو گئی ہے کہ شاذونادر ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہے جب کسی بھیانک قتل و غارت و خونریزی کی دل دہلا دینے والی خبر سے کسی دن کا آغاز یا اختتام نہ ہو۔ ایک جانب اگر ان حکمرانوں کی لوٹ مار کی ہوس کے باعث ٹوٹ […]
قذافی کی موت کے پانچ سال بعد۔۔ سامراجی مداخلت کی حاصلات
جہاں تک مغربی سامراجیوں کا تعلق تھا، قذافی کی موت کے بعد ’’ہدف مکمل‘‘ ہو چکا تھا۔ لیکن آج حقیقت بالکل مختلف ہے۔ لیبیا کا شیرازہ بکھر چکا ہے ، کوئی قومی حکومت موجود نہیں اور مقامی ملیشیا (بشمول داعش) اپنے زیر تسلط علاقوں میں موجود عوام کی زندگی اور موت پر قادر ہیں۔
امریکہ کا بریگزٹ: ٹرمپ کو ہرانا ہے تو سرمایہ داری سے لڑنا ہو گا!
ہم نے انتخابات سے پہلے تجزیئے میں لکھا تھا کہ:’’اگر بریگزٹ ہوسکتا ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ بھی امریکہ کا صدر بن سکتا ہے۔‘‘سینڈرز کی کمپین اور ٹرمپ کے منتخب ہونے کے بعد، کون یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ امریکہ میں کبھی کچھ تبدیل نہیں ہوتا؟
کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (حصہ دوئم)
تحریر: |صبغت وائیں| 25 اگست 2016ء جارج آرول نے اپنے ناول میں چند فقرے ایسے لکھے تھے جو کہ بظاہر مذاق لگتے تھے جن میں ایک تھا: ’’Ignorance is Strength‘‘
پاکستان: مزدور تحریک اور مستقبل کا لائحہ عمل
تحریر: | آفتاب اشرف| سرمایہ دارانہ نظام کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ محنت کش طبقے کا شدید استحصال کر کے اپنی تجوریاں بھرنے والے سرمایہ دار طبقے نے کبھی بھی اپنی آزادانہ مرضی سے محنت کشوں کا کوئی مطالبہ پورا نہیں کیا۔ اپنے انتہائی بنیادی مطالبات منوانے کے لئے بھی محنت کشوں کو متحد […]