افسانہ: انصاف

اس نے ڈنر کرتے ہی خود کو اپنے کمرے میں قید کر لیا تھا۔ اب کئی ہفتوں سے یہ اس کا معمول سا بن گیا تھا۔ وہ مسلسل اپنے کمرے کی دیواروں اور وہاں پڑے ساز و سامان کو گھورتی اور پھر بیزار ہو کر کمرے میں ٹہلنا شروع کر دیتی۔ پھر لیٹتی تو اس […]

افسانہ: دُھند

گاؤں کی جانب جانے والی کچی پگڈنڈی آج سرِ شام ہی اندھیرے میں غرق ہو چکی تھی۔ سورج کو ڈوبے ابھی چند منٹ بھی نہیں ہوئے ہوں گے۔ لیکن چاروں اور ایک یاسیت بھرا غبار امڈ امڈ کے آ رہا تھا۔ جاڑا شروع ہونے کو تھا۔ ہو امیں ایک دم سے کچھ خنکی سی در […]

افسانہ: آئینہ

|تحریر: پارس جان| دیر تک مخملی بستر پر بے قرار کروٹیں لینے کے بعدوہ ایک گونج دار چینخ کے ساتھ ایک دم اٹھ بیٹھی۔یہ وہی خواب تھا جو کئی ماہ سے اس کی نیندوں میں خلل ڈال رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑے کلاک پر پڑی تو وہ ایک دفعہ پھر […]

افسانہ:قانون کے لمبے ہاتھ

|تحریر:آفتاب اشرف| شہر کے وسط میں واقع ایک سرکاری ہائی سکول کی عمارت منہدم ہو گئی۔ آٹھ بچے جاں بحق اور متعدد زخمی۔ عمارت ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی بنی تھی۔۔۔ ٹی وی پر بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔ پورے شہر میں ہاہا کار مچ گئی۔ انتظامی افسران کی دوڑیں لگ گئیں۔ بڑے بڑے سیاستدانوں […]

افسانہ: تبدیلی!

|تحریر:آفتاب اشرف| قائد اعظم کالونی کی دیواروں پر ان دنوں رنگ برنگے پوسٹروں اور بینروں کی بھر مار تھی۔  چیتے کو ووٹ دیں۔۔ اب کی بار،ہاکی پر نشان۔۔ آپکے ووٹ کا حقدار، صرف کھمبا۔۔ انشاء اللہ ایم این اے۔۔عوام کا خادم،فلاں فلاں۔ آپ درست سمجھے، ملک میں الیکشن ہونے والا تھا۔ شہر کے جنوب مشرق […]

افسانہ: پانی کا درخت

تحریر: |کرشن چندر| جہاں ہمارا گاؤں ہے اس کے دونوں طرف پہاڑوں کے روکھے سو کھے سنگلاخی سلسلے ہیں۔ مشرقی پہاڑوں کا سلسلہ بالکل بے ریش وبرودت ہے۔ اس کے اندر نمک کی کانیں ہیں۔ مغربی پہاڑی سلسلے کے چہرے پر جنڈ، بہیکڑ، املتا، ساور، کیکر کے درخت اگے ہوئے ہیں۔ اس کی چٹانیں سیاہ […]

افسانہ : تہذیب کا کردار

مصنف: منشی پریم چند:- یوں تو میری سمجھ میں دنیا کی ایک ہزار ایک باتیں نہیں آتیں، جیسے لوگ علی الصباح اٹھتے ہی بالوں پر چھرا کون چلاتے ہیں؟کیا اب مردوں میں بھی اتنی نزاکت آگئی ہے۔بالوں کا بوجھ ان سے نہیں سنبھلتا۔