ریل مزدوروں کی حالیہ جدوجہد۔۔نتائج اور اسباق

ریل مزدوروں کی اس تحریک میں بہت دم تھااور اسے دیگر عوامی اداروں کے محنت کشوں کی حمایت بھی مل رہی تھی اور اس تمام صورتحال سے حکومت پر ٹھیک ٹھاک دباؤ بھی پڑ رہا تھا۔اگر تحریک اپنے طے شدہ پلان کے مطابق آگے بڑھتی تو نہ صرف بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا تھا

جمہوری آزادیوں پر پابندی نامنظور۔۔ریاستی جبر مردہ باد!

پروگریسو یوتھ الائنس اور ریڈ ورکرز فرنٹ عوام کی جمہوری آزادیوں پر ہر قسم کے حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام جبری طور پر اغوا کیے گئے سیاسی و سماجی کارکنوں اور صحافیوں کو فی الفور بازیاب کیا جائے اور آئندہ کے لیے اس طرز کی غیر آئینی اور آمرانہ پالیسیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے

بلوچستان:کوئلہ کانیں یا قبرستان؟ سال 2020ء کے سات مہینوں میں 60 کانکن جاں بحق

بلوچستان میں کول مائنز اونرز، ٹھیکیدار، نام نہاد لیبر قیادت سمیت ان تمام تر حادثات اور واقعات میں ریاستی غفلت، نااہلی اور بے حسی میں برابر کے شریک ہیں۔ حادثے کے بعد کچھ وقت کے لیے یہ تمام لوگ مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں، مگر درحقیقت ان حادثات کی روک تھام نہ کرنے پر ان تمام لوگوں کا گٹھ جوڑ واضح ہے

لاہور: ریل مزدوروں کا ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں شاندار احتجاجی جلسہ!

ریل مزدوروں کے بنیادی مطالبات میں تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ، نجکاری اور جبری چھانٹیوں کا خاتمہ، ٹیکنیکل الاؤنس کا حصول، سکیل اپ گریڈیشن اور کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی شامل ہیں۔ جلسے کے آخر میں اعلان کیا گیا کہ اگر 5 اگست تک مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پورے ملک میں ریل کا پہیہ جام کر دیا جائے گا۔

کوئٹہ: ایپکا بلوچستان کے زیرِ اہتمام بی ایم سی بحالی کے لیے صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی جلسہ!

بلوچستان اسمبلی کے سامنے تحریکِ بحالیٔ بی ایم سی کے لیے ایپکا بلوچستان کے زیراہتمام دھرنے کے 18 ویں دن بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی جلسہ ہوا، جس میں ایپکا کے مختلف یونٹس کے علاوہ دیگر مزدور تنظیموں نے شرکت کی