8مارچ محنت کش خواتین کا عالمی دن: اطاعت نہیں، بغاوت! راہِ نجات سوشلسٹ انقلاب!

یہ دن 1910ء میں جرمنی کی کمیونسٹ انقلابی راہنما کلارا زیٹکن نے محنت کشوں کی عالمی کمیونسٹ پارٹی ’دوسری انٹرنیشنل‘ کے ایک اجلاس میں تجویز کیا تھا۔ تب سے یہ دن محنت کشوں کی انقلابی تحریک میں بہت نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن کو محنت کش خواتین کے عالمی دن کے طور پر منانے […]

بالشویک اقتدار میں

ملک کی زندگی میں اور فرد کی زندگی میں وہ غیر معمولی دن تھے۔ سماجی اور ذاتی جذبات میں تناؤ عروج پر پہنچا ہوا تھا۔ عوام ایک داستان رقم کر رہے تھے۔ رہنما تاریخ کے قدموں پر قدم رکھ کر چل رہے تھے۔ مارکسزم کا خیال ہے کہ وہ تاریخ کے لاشعوری عمل کا شعوری […]

نومبر 1917ء: انقلاب کی فیصلہ کن رات

انقلاب کا قطعی وقت آ پہنچا تھا۔ سمولنی (مجلس عاملہ کا دفتر) کو ایک قلعے میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔ اس کی چھتوں پر دو درجن مشین گن نصب کر دی گئی تھیں۔ یہ پرانی مجلس عاملہ کی روایت تھی۔ سمولنی کا کمانڈ نیٹ کیپٹن گریکوف ایک بہادر سپاہی تھا۔ 24اکتوبر (رائج کیلنڈر کے […]

انقلاب کی طرف بڑھتا ہوا پاکستان اور انقلابِ روس 1917ء

اس وقت پوری دنیا میں سماج تاریخ کے ایک انتہائی ہنگامہ خیز عہد میں داخل ہو چکا ہے اور ہر طرف رائج الوقت نظریات و سیاست کو مسترد کیا جا رہا ہے۔ کرہئ ارض پر ایسا کوئی بھی روایتی سیاسی لیڈر نہیں ہے جسے محنت کش عوام کی قابل ذکر حمایت حاصل ہو اور کچھ […]

ٹراٹسکی کی تاریخ ساز کتاب ”انقلاب مسلسل“ کے اردو ترجمے کا تعارف

لیون ٹراٹسکی کی کتب ”انقلابِ مسلسل“ اور ”نتائج اور تناظر“ کی پہلی دفعہ اردو زبان میں اشاعت بلاشبہ ایک غیر معمولی کامیابی اور انقلابی تحریک کے لیے ایک حقیقی سنگ میل ہے۔ بلاشبہ ان کا شمار مارکسزم کی کلاسیکی تصانیف میں ہوتا ہے جو آج بھی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر کے لیے غیر […]

کتاب ”روحِ عصر اور لینن ازم“ پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

دنیا ایک نئے عہد میں داخل ہو چکی ہے۔ غربت اور امارت کے درمیان جو تفریق آج موجود ہے وہ تاریخ میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ایک طرف سرمایہ دار طبقے کے منافعے اور ان کی عیاشیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں تو دوسری جانب محنت کشوں کے اوپر مصائب و ظلمت کے پہاڑ گرائے جا […]

ری ویو: میکسم گورکی کا ناول ”ماں“

ناول ”ماں“ کے لکھاری میکسم گورکی کا تعلق روس سے تھا اور وہ انقلابی نظریات رکھنے والے سوشلسٹ تھے۔ میکسم گورکی اور انقلاب ِروس کے رہنما لینن کے خیالات ابتدا ہی سے کافی میل کھاتے تھے، لہٰذا انقلابی کام اور انقلابی خیالات میں اور ذاتی طور پر بھی لینن ان کے قریبی دوست، معلم اور […]

”بند کمرے کا انتہائی پڑھا لکھا دانشور“: لینن بمقابلہ بھگوڑا کاؤتسکی

یہ 1918ء کا زمانہ ہے اور نوزائیدہ روسی سوویت جمہوریہ کو حملوں، تخریب کاری اور بغاوت کا سامنا ہے۔ شاہ پرست، جاگیردار، سرمایہ دار اور سامراجی، روسی مزدوروں اور کسانوں کی انقلابی فتح پر آگ بگولہ ہیں۔ وہ اسے کچلنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ فروری میں، جرمن قیصر کی فوج کے 53 ڈویژنز مشرقی محاذ […]