”بند کمرے کا انتہائی پڑھا لکھا دانشور“: لینن بمقابلہ بھگوڑا کاؤتسکی
یہ 1918ء کا زمانہ ہے اور نوزائیدہ روسی سوویت جمہوریہ کو حملوں، تخریب کاری اور بغاوت کا سامنا ہے۔ شاہ پرست، جاگیردار، سرمایہ دار اور سامراجی، روسی مزدوروں اور کسانوں کی انقلابی فتح پر آگ بگولہ ہیں۔ وہ اسے کچلنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ فروری میں، جرمن قیصر کی فوج کے 53 ڈویژنز مشرقی محاذ […]
فرانز فینن کی تصنیف ”افتادگانِ خاک“ پر مارکسی تنقید
فرانز فینن کی تحریر کردہ ’افتادگانِ خاک‘ خاص کر یونیورسٹیوں میں ایک مشہور اور مؤثر تصنیف ہے۔ یہ بار ہا دیکھا گیا ہے کہ فینن اور اس کے نظریات کو نو آبادیاتی جدوجہد کے سوال پر مارکسزم کی ”تصحیح“ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اکثر اوقات تو ایسے لوگوں کی جانب سے […]
مارکسسٹ امیگریشن کنٹرول یا مہاجرین کی آمد پر پابندیوں کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟
افغانو فوبیا، ایک بھیانک ریاستی کھلواڑ اور مارکسی نقطہ نظر
کشمیر: نئی صورتحال میں انقلابیوں کی ذمہ داری
پختونخواہ اور فاٹاکے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف سوشلسٹ انقلاب ہے!
جہاں تک سماجی تحریک کا تعلق ہے تو ایسا ہرگز نہیں کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا ہ آج ایک انقلابی کیفیت میں ہے۔ لیکن ایسا بھی قطعاً نہیں ہے کہ حالات معمول کے مطابق ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز، اساتذہ، نرسز، کسان، صنعتی مزدور اور طلبا کی بہت بڑی تعداد نہ صرف اس بوسیدہ نظام سے اکتا گئے ہیں بلکہ اس کے خلاف آواز بھی بلند کر رہے ہیں
فیصلہ کن موڑ
تحریر: وی آئی لینن (یہ مضمون لینن نے 26جون 1917ء کو لکھا جب ردانقلابی عبوری حکومت بالشویک پارٹی کے خلاف کاروائیاں کرنے کی حکمت عملی ترتیب دے رہی تھی جس کی وجہ بالشویک پارٹی کی جنگ جاری رکھنے کی حکومتی پالیسی کی مخالفت اور عبوری حکومت کی عوامی مسائل کو حل کرنے کی تاریخی نااہلی […]
عہدِ نو میں قومی سوال
قوم پرستی کے ارتقا اور اہمیت و افادیت کوتاریخی واقعات کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے ہی جدید عہد میں قومی سوال کے کردار کا تجزیہ اور تناظر کو تشکیل دیا جا سکتا ہے