نظم: عارف حسین کی ماں

ماں تری تصویر دیکھی ترے گالوں پہ ٹمٹماتا ایک آنسو مرے سینے سے لاوا بن کے پھوٹنے لگا ہے مرا خود سے تعلق ٹوٹنے لگا ہے مری پوروں میں جیسے سوئیاں چبھنے لگی ہیں کسی نے جیسے فرطِ حیرت میں لے جا کر مرے سارے ہی ناخن کھینچ ڈالے ہیں تری پاکیزہ آنکھوں کی سبھی […]

نظم: لالچ بری بلا ہے، سانحہ احمد پور کا نوحہ

گنوار لوگو! تمہیں بتایا گیا تھا لالچ بری بلا ہے تمہاری آنکھوں میں وہ ہوسناک خواب ہیں جو زمین کی نعمتوں کی تقسیم و قدر کے واسطے ہیں خطرہ تمہارا کیا ہے؟ تمہاری نسلیں ہمارے طے کردہ روز و شب میں، ہماری خیرات پر پلی ہیں تمہارے جسموں کا ایک اِک عضو منڈیوں میں کھپت […]

ہر زور ظلم کی ٹکر میں سنگھرش ہمارا نعرہ ہے

2ستمبر کو ہونے والی آل انڈیا عام ہڑتال کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنے قارئین کے لیے مزدوروں کا ایک گیت۔ ہندوستان کے محنت کشوں میں یہ گیت بہت مقبول ہے اور 1949ء سے آج تک ہڑتالوں، جلسوں جلوسوں میں گایا جاتا ہے۔ ہر زو رظلم کی ٹکر میں سنگھرش ہمارا نعرہ ہے سنگھرش […]

یہ بچہ کس کا بچہ ہے ۔۔۔ ابن انشا

(1) یہ بچہ کیسا بچہ ہے یہ بچہ کالا کالا سا یہ کالا سا مٹیالا سا یہ بچہ بھوکا بھوکا سا یہ بچہ سوکھا سوکھا سا یہ بچہ کس کا بچہ ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے جو ریت پہ تنہا بیٹھا ہے نا اس کے پیٹ میں روٹی ہے نا اس کے تن پر […]