بلوچستان:کوئلہ کانیں یا قبرستان؟ سال 2020ء کے سات مہینوں میں 60 کانکن جاں بحق

بلوچستان میں کول مائنز اونرز، ٹھیکیدار، نام نہاد لیبر قیادت سمیت ان تمام تر حادثات اور واقعات میں ریاستی غفلت، نااہلی اور بے حسی میں برابر کے شریک ہیں۔ حادثے کے بعد کچھ وقت کے لیے یہ تمام لوگ مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں، مگر درحقیقت ان حادثات کی روک تھام نہ کرنے پر ان تمام لوگوں کا گٹھ جوڑ واضح ہے

انٹرویو: بلوچستان میں کوئلے کے محنت کشوں کی حالتِ زار

| رپورٹ: ریڈورکرزفرنٹ ،کوئٹہ| سال 2013ء کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں 186 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں، لیکن زیادہ تر ناقص معیار کے ہیں۔ سندھ میں 185.5 ارب ٹن کے کوئلے کے سب سے بڑے ذخائر ہیں، اس کے بعد بلوچستان، جس کے بارے میں خیال […]

مچھ (بولان) بلوچستان: کانکنوں کے بنیادی مسائل اور پنجاب میں بھٹوں کی بندش کیخلاف محنت کشوں کا احتجاجی مظاہرہ! 

|رپورٹ: ریڈورکرزفرنٹ، بلوچستان| گزشتہ دنوں مچھ (بولان) کے پریس کلب کے سامنے کانکن لیبر یونین مچھ کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرہ ہوا، مظاہرین نے مختلف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا ئے ہوئے تھے جن پر انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں مختلف نعرے درج کیے تھے۔ واضح رہے کہ مچھ بولان میں یہ احتجاج […]