اداریہ ورکرنامہ: امریکہ ایران جنگ کے منڈلاتے سائے
سعودی عرب: معاشی بحران اور عدم استحکام!
|تحریر: ولید خان| 18 ستمبر 2018ء کو نئے وزیر اعظم عمران خان نے اپنا پہلا سرکاری دورۂ سعودی عرب کا کیا جس کے بعد یہ خبر گردش کرنے لگی کہ سعودی حکمران پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے لیکن وزیر خزانہ اسد عمر نے اس کی فوری تردید کرتے ہوئے کہا […]
جنوبی عراق میں احتجاجی تحریک !
|تحریر: معصم شریفی، ترجمہ: اختر منیر| جنوبی عراق میں جاری احتجاجی تحریک اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ 8 جولائی اتوار کے روزحکومت کی جانب سے بجلی اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر احتجاج شروع ہوا۔ مظاہرین مقامی آبادی کے لیے نوکریوں کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ 8 […]
عفرین میں کردوں کو کچلنے کے لئے ترکی اور ’’عالمی برادری‘‘ کا گٹھ جوڑ
|تحریر: حمید علی زادے، ترجمہ: اختر منیر| اتوار کے دن ترک فوجوں نے نام نہاد شامی باغی دستوں کی مدد سے شمال مشرقی شام کے کرد اکثریتی شہر عفرین پر قبضہ کر لیا۔ اسی دوران جب مغربی میڈیا دمشق کے مضافاتی شہر غوطہ میں بشارالاسد حکومت کی اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف جارحیت کی مذمت […]
ایران بھر میں پھیلتے مزدوروں، کسانوں اور طلبہ کے احتجاج
ریاست کو فوری بغاوت کا سامنا ہے بلکہ ایک عمومی زوال کا بھی اوروہ سماج کی تمام پرتوں کی نظروں میں اپنی حاکمیت کا جواز کھو چکی ہے۔ خاص کر ریاست نوجوانوں اور محنت کش طبقے سے خوفزدہ ہے
شام: بربریت کا رقص اور سامراجی منافقت
|تحریر: ایلن ووڈز، ترجمہ: اختر منیر| اقوام متحدہ میں تمام تر ہنگامے، پر شور پروپیگنڈے اور چالبازیوں کے بعد شام میں ہونے والی جنگ بندی اچانک شرمناک اور ناقابلِ یقین انداز میں ختم ہو چکی ہے۔ درحقیقت اس کی مثال ایک ایسے بچے کی سی ہے جو اپنی پیدائش سے پہلے ہی مردہ حالت میں […]
مشرق وسطیٰ کا بحران؛ واحد حل۔۔۔سوشلسٹ انقلاب!
مشرقِ وسطیٰ اس وقت آگ اور خون کی لپیٹ میں ہے جو واضح کرتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت دنیا میں امن ممکن نہیں۔ یہ نظام پوری دنیا میں عوام کی وسیع اکثریت کو غربت، ذلت اور محرومی میں دھکیل رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے محنت کش عوام اس میں سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں
ٹرمپ کا یروشلم کے متعلق بیان: سرمایہ داری کا غلیظ چہرہ بے نقاب
بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سرکاری طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کا یہ بیان نام نہاد امن مذاکرات کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے