مشال خان کی شہادت کا ایک سال

مشال کی فیسوں میں کمی اور انتظامیہ کی کرپشن میں کے خلاف اٹھنے والی آواز، اس کے جسم کے ساتھ زمین میں دفن نہ ہو پائی اور متعدد یونیورسٹیوں میں انہی مسائل پر ہونے والے احتجاجوں کی صورت میں پھر سے بلند ہونا شروع ہوگئی

مشعل خان کا بہیمانہ قتل:جینا ہے تو لڑنا ہو گا!

کہنے کو تو یہ سیکیورٹی گارڈز، پولیس، فوج اور رینجرز کو تعلیمی اداروں کو دہشت گردی سے بچانے کے لئے موجود ہیں مگر مشعل کے قتل نے ان کی اصلیت کا پردہ چاک کردیا ہے اور ان اداروں کا حقیقی کردار سامنے لے آیا ہے۔ ان قانونی غنڈوں کامقصد ہی طلبہ پر جبر کرنا، فیسوں میں اضافے یادیگر مسائل کے خلاف آواز اٹھانے والے کو خاموش کروا دینا ہے۔

کیا مشال خان کی شہادت رائیگاں چلی گئی؟

مشال خان کی شہادت نے کمزور اور متذبذب طلبا تحریک کو ایک نئی معیاری جست لگائی ہے۔ اس نے دکھایا ہے کہ فیسوں میں اضافے سے لے کر دیگر مسائل کے حل کے لیے جرات مندی اور ثابت قدمی کے ساتھ آج بھی لڑا جا سکتا ہے

مشعل خان کے بہیمانہ قتل پر عالمی مارکسی رجحان(IMT) کا اعلامیہ

عبدالولی خان یونیورسٹی کے 23سالہ جرنلزم کے نوجوان طالب علم مشعل خان کا رجعتی بنیاد پرست ہجوم کے ہاتھوں پر تشدد قتل اس بات کی ایک نئی اور اعصاب شکن مثال ہے کہ کس طرح پاکستان میں بائیں بازو اور ترقی پسند قوتوں کے خلاف خوف و ہراس کا پر تشدد بازار گرم کیا جا رہا ہے

مشعل خان کا ریاستی پشت پناہی میں بہیمانہ قتل؛ مذہب کی سیاست

|تحریر: آدم پال| جمعرات 13اپریل کو مردان یونیورسٹی میں درندگی اور بربریت پر مبنی ایک دلخراش واقعہ دیکھا گیا۔ جرنلزم کے طالبعلم مشعل خان کو سفاک درندوں نے بہیمانہ تشدد کے ذریعے قتل کر دیا اور قتل کرنے کے بعد اس کی نعش کی تذلیل اور بے حرمتی کی گئی۔ کسی بھی انسان کے لیے […]