وادئ کشمیر کی بغاوت
کشمیر کی تحریک کو کچلنے کے لیے دونوں قابض ریاستوں کے حکمرانوں کی جانب سے دہشت گردانہ کاروائیوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور ان کاروائیوں کو میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تا کہ عوامی رائے عامہ تحریک کے خلاف استوار کی جا سکے
اداریہ ورکرنامہ: وہ خواب جو ہم نے دیکھا تھا!
اس وقت اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم استعفیٰ دے یا پھر یہ فکر ہے کہ آئندہ عام انتخابات کون جیتے گا۔ ان تمام پارٹیوں کے نعرے بھی اسی مطالبے کے گرد گھومتے ہیں اور میڈیا، عدلیہ، افواج اور بیوروکریسی میں موجود حکمران طبقے کے تمام افراد […]
بغاوت ہند 1857ء
بغاوت ہند 1857ء کی کیا تعریف کی جائے؟ کیا وہ محض کمپنی کے ناراض ہندوستانی سپاہیوں کی بغاوت تھی یا پھر ایک عوامی بغاوت؟ کیا وہ کسی گزرے ہوئے عہد کی معدوم سلطنت کو واپس بحال کرنے کی کوشش تھی یا پھر کچھ نیا اور جدید تعمیر کرنے کی جدوجہد؟ سب سے اہم سوال۔ ۔ ۔ 1857ء کی بغاوت کا کردار تاریخی اعتبار سے ترقی پسندانہ تھا یا پھر قدامت پسندانہ؟
مارکسزم اور خواتین کی جدوجہد
|تحریر: پارس جان| ’’کسی تاریخی عہد کی تبدیلی کا تعین ہمیشہ عورت کی آزادی کی طرف ترقی سے ہی کیا جا سکتا ہے کیونکہ عورت کے مرد کے ساتھ تعلق میں، کمزور کے مضبوط کے ساتھ تعلق میں ہی وحشت کے اوپر انسانی فطرت کی برتری سب سے زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ عورت کی […]
مارکسزم اور ریاست (حصہ اول)
ہم سماج کی پرامن تبدیلی کے حامی ہیں اور ایسی تبدیلی کے لئے جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہیں، لیکن ساتھ ہم یہ تنبیہ بھی کرتے ہیں کہ حکمران طبقہ اپنے اقتدار اور مفادات کے تحفظ کے لئے لڑے گا۔ یہی مارکسزم کا روایتی موقف ہے
مارکسزم اور فلسفہ
فلسفے کا ذکر کریں تو آج سائنسدانوں اور بہت سے دیگر لوگوں کا عمومی رویہ انتہائی بے حسی والا بلکہ سچ کہیں تو تحقیر آمیز ہے۔ ویسے جدید فلسفے کے حوالے سے تو یہ سلوک درست ہی لگتا ہے۔ پچھلی ڈیڑھ صدی سے فلسفے کی قلمرو کو ایک ایسے بنجر اور بے آب و گیاہ بیابان کی مانند دیکھا جا سکتا ہے جس میں شاید ہی کہیں کوئی زندگی کی رمق ملے۔
کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (آخری حصہ)
انسان کا مستقبل ایک انجانے خوف میں ڈوبا ہوا گھٹا ٹوپ اندھیرا نہیں بلکہ ہر طرح کے استحصال، ظلم اور جبر سے آزاد بالآخر امن اور نشاط آمیز ہے۔ اور یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے اگر ہم اپنے اردگرد کی دنیا کو جان سکتے ہیں۔ اس لئے کانٹ کے فلسفے کو جاننا اور اس کے خاتمے کا جاننا ضروری تھا۔
کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (حصہ چہارم)
تحریر: |صبغت وائیں| فلسفہ سچائی سے محبت کا نام ہے۔ فلسفہ سچائی کو جاننے کا نام ہے۔ فلسفہ ہر چیز کی سچائی کو جاننے کا نام ہے۔ فلسفہ کسی بھی سچائی کی تلاش کا نام ہے۔ اور یقیناً فلسفہ کسی بھی سچائی کو جاننے کے طریقے کا نام ہے۔ یا ایسے طریقے تلاش کرنے کا […]
کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (حصہ سوم)
تحریر: |صبغت وائیں| ’’موضوعی عینیت انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے‘‘ یہ ہیگل نے کہا تھا۔ یہ درست ہے کہ ہیگل ایک عینیت پرست فلسفی تھا لیکن وہ اپنے ارد گرد کی چیزوں کے وجود کو حقیقی مانتا تھا۔ وہ ایک یونیورسل سپرٹ کی بات کرتا ہے۔ ایک ریزن کی، جس طرح سے وہ […]
کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (حصہ دوئم)
تحریر: |صبغت وائیں| 25 اگست 2016ء جارج آرول نے اپنے ناول میں چند فقرے ایسے لکھے تھے جو کہ بظاہر مذاق لگتے تھے جن میں ایک تھا: ’’Ignorance is Strength‘‘