’’عامیانہ سوشلزم‘‘ کے خلاف۔۔۔واضح نظریات کی جدوجہد!

ایسا لگتا ہے کہ ہر دروازے کے پیچھے اور ہر پلنگ کے نیچے ایک سوشلسٹ چھپا ہوا ہے۔ فوربز میگزین کو کہنا پڑا کہ: ’’سوشلسٹ جذبات دوبارہ پنپ رہے ہیں‘‘۔ دی ویک میگزین نے تو یہاں تک کہ دیا کہ ہم ’’امریکی سوشلزم کے طلوع‘‘ میں داخل ہو چکے ہیں

تاریخی مادیت کیا ہے؟ (دوسرا اور آخری حصہ)

محنت کش طبقے کے سامنے پے در پے آنے والے بحران معاشرے کو تبدیل کرنے کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔ سرمایہ داری کسی بھی صورت اپنی رضامندی سے خود بخود ڈھے کر زمین بوس نہیں ہو گی۔ بلکہ اس کو اُکھاڑ پھینکنا ہو گا

کارل مارکس: عظیم انسان، مفکر اور انقلابی!

5 مئی کو کارل مارکس کی پیدائش کے دو سو سال مکمل ہوگئے ہیں۔ دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام بحران کا شکار ہے اور محنت کش طبقہ اپنا مقدر اپنے ہی ہاتھوں میں لینے کی خاطرمیدان عمل میں اتر رہا ہے

مارکسزم یا مارکسی فیمینزم۔۔کامریڈ ایاز ملک کے جواب میں

|تحریر: پارس جان| رواں سال خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کے مختلف شہروں میں منعقد کی جانے والی تقریبات اور ان کے گرد جنم لینے والی بحثیں بھی سماجی کل کے اندر وقوع پذیر ہونے والی بہت سی مقداری اور معیاری تبدیلیوں کا ہی اظہار ہیں۔ جہاں ایک طرف مزدور تحریک میں […]

کارل مارکس کی انقلابی زندگی: اک جہدِ مسلسل

|تحریر: آدم پال| 1883ء میں جب لندن میں کارل مارکس کی وفات ہوئی تو اسے لندن کے ہائی گیٹ قبرستان میں اس کی بیوی کے ساتھ دفن کیا گیا جو دو سال قبل وفات پا گئی تھی۔ اس موقع پر مارکس کے چند قریبی ساتھی موجود تھے جن میں اس کا دیرینہ دوست، نظریاتی ساتھی […]

پشتون بہار۔۔آگے کیسے لڑا جائے؟

|تحریر: پارس جان| مملکت خداداد میں گزشتہ عشرے میں کئی نام نہاد ’انقلابی تحریکیں ‘ عوامی شعور پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی مگر ہر بار پالیسی سازوں کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ سلسلہ پرویز مشرف کے اقتدار کے اختتام کے دنوں سے شروع ہوا تھا جب مرتی ہوئی مشرف آمریت کے […]

انقلاب اور اخلاقیات

ہر عہد کے نئے پیداواری رشتے ایک نئے طرز پیداوار کے تحت عمل میں آتے ہیں اور انھی پیداواری رشتوں کے گرد جنم لینے والی اخلاقی قدریں حتمی تجزیے میں اس طبقے کے مفادات کی عکاسی کرتی ہیں

مارکسزم کے متعلق مغالطے

|تحریر: مارکسسٹ سٹوڈنٹس فیڈریشن، ترجمہ: مشعل وائیں| گزشتہ دو دہائیوں میں مارکسزم اور اس انقلابی ورثے کیخلاف کیا جانے والا غلیظ پروپیگنڈہ بالکل عیاں ہے۔ سوشلزم کے بجائے سٹالنزم (جو کہ مارکسزم نہیں بلکہ اس کی ایک مسخ شدہ اور ہولناک شکل تھی) کے انہدام کے بعد ایک کے بعد دوسرے محاذ پر میڈیا، یونیورسٹیاں، […]

شعور کا بحران

موجودہ عینیّتی فلسفہ، خاص طور پر اس کی موضوعی اشکال میں شعور کا سوال بحرانی کیفیت سے دو چار ہے۔ فلسفے میں یہ بحران موجودہ سماج کی بحرانی کیفیت کا آئینہ دار ہے۔ اس قبیل کے فلسفہ کے کچھ رجحانات اس انحطاط یا بحران کو تسلیم تو کرتے ہیں لیکن اس کی وجوہات، ماخذ، علامات اور اصلیت کے بارے بے شمار آراء رکھتے ہیں جو بعض اوقات ایک دوسرے سے یکسر مختلف اور متضاد ہوتی ہیں