لیبیا: خانہ جنگی کی تباہی و بربادی کا ذمہ دار سامراج ہے!
|تحریر: رابرٹو سارتی؛ ترجمہ: ولید خان| لیبیا خانہ جنگی میں ڈوبا ہوا ہے۔ جنرل ہفتار نے اقوام متحدہ کی منظور نظر قومی مفاہمتی حکومت (GNA) اور اس کے سربراہ صدر فیاض ال سیراج کا تختہ الٹنے کے لئے خونریز جنگ شروع کر رکھی ہے۔ حملے کا آغاز اسی دن کیا گیا جب 14 اپریل کو […]
دہشت گردی کا پاگل پن اور سرمایہ داری کی علالت
محنت کش طبقہ ہی وہ واحد قوت ہے جو دہشت گردی کو شکست دے سکتی ہے اور سرمایہ داری اور سامراجیت کے خلاف سنجیدہ جدوجہد کر سکتی ہے۔ حکمران طبقہ اور دہشت گرد، دونوں محنت کش طبقے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں
قذافی کی موت کے پانچ سال بعد۔۔ سامراجی مداخلت کی حاصلات
جہاں تک مغربی سامراجیوں کا تعلق تھا، قذافی کی موت کے بعد ’’ہدف مکمل‘‘ ہو چکا تھا۔ لیکن آج حقیقت بالکل مختلف ہے۔ لیبیا کا شیرازہ بکھر چکا ہے ، کوئی قومی حکومت موجود نہیں اور مقامی ملیشیا (بشمول داعش) اپنے زیر تسلط علاقوں میں موجود عوام کی زندگی اور موت پر قادر ہیں۔