انقلابِ روس کی حاصلات
انقلابِ روس اور آج کی دنیا
لینن ازم کیا ہے؟

|تحریر: آفتاب اشرف| 1917ء میں برپا ہونے والا انقلاب روس بلاشبہ انسانی تاریخ کا عظیم ترین واقعہ تھا۔ 1871ء میں صرف دو ماہ کیلئے قائم رہنے والے پیرس کمیون کو چھوڑ کر انقلاب روس تاریخ کا وہ پہلا واقعہ تھا جس میں کروڑوں محنت کشوں نے نوجوانوں اور چھوٹے کسانوں کی قیادت کرتے ہوئے اقتدار […]
فیصلہ کن موڑ
تحریر: وی آئی لینن (یہ مضمون لینن نے 26جون 1917ء کو لکھا جب ردانقلابی عبوری حکومت بالشویک پارٹی کے خلاف کاروائیاں کرنے کی حکمت عملی ترتیب دے رہی تھی جس کی وجہ بالشویک پارٹی کی جنگ جاری رکھنے کی حکومتی پالیسی کی مخالفت اور عبوری حکومت کی عوامی مسائل کو حل کرنے کی تاریخی نااہلی […]
1917ء کا فروری انقلاب۔۔۔ جب تخت گرائے گئے!
فیکٹریوں میں دیو ہیکل اکٹھ اور مظاہرین کا بے پناہ ہجوم سڑکوں پر تھا۔ عوام کے ہجوم پولیس اور فوج کو پرے دھکیلتے ہوئے ’’روٹی‘‘، ’’امن‘‘ اور ’’ آمریت مردہ باد!‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے شہر کے وسط میں پہنچ گئے۔ انقلاب شروع ہو چکا تھا
لیوٹالسٹائی، روسی انقلاب کا آئینہ
ٹالسٹائی کی تصانیف، خیالات، اصولوں میں اور ان کے مکتبۂ خیال میں تضاد واقعی بہت نمایاں ہیں۔ ایک طرف ہمارے سامنے ایک ایسا عظیم فنکار ہے جس نے نہ صرف روسی زندگی کی بے نظیرتصویر کشی کی ہے بلکہ عالمی ادب کے خزانے میں بیش بہا اضا فہ بھی کیا ہے۔ دوسری طرف ہمارے سامنے ایک ایسا زمیندار ہے جس پر حضرت عیسیٰ کا وہم مسلط ہے
کمیو نزم میں ’’بائیں بازو‘‘ کی طفلانہ بیماری
ولادیمیر لینن نے یہ کتاب 1920ء میں تحریر کی اور اسی سال شائع ہوئی۔1920ء میں ہی ہونے والی کامینٹرن کی دوسری عالمی کانگریس میں موجود ہر ڈیلیگیٹ کو اس کتاب کا ایک نسخہ پیش کیا گیا۔
مارکس ازم کے تین سرچشمے اورتین اجزاے ترکیبی
تحریر: ولادیمیر لینن(1913ء) تمام متمدن دنیا میں مارکس کی تعلیمات سے بورژوا علم (سرکاری بھی اور اعتدال پسند بھی) بھڑکتا ہے اور سخت عداوت رکھتا ہے۔ اس کی نظر میں مارکس ازم کیا ہے، ایک ’’مہلک فرقہ‘‘۔
فریڈرک اینگلز کی وفات پرلینن کی تحریر
کیا عقل کا چراغ تھا خاموش ہو گیا۔ ۔ ۔ کیا دل تھا، دھڑکنوں کے تلاطم میں سو گیا
نومبر 1917: انقلاب کی فیصلہ کن رات
تحریر: لیون ٹراٹسکی:- انقلاب کا قطعی وقت آپہنچا تھا۔سمولنی (مجلس عاملہ کا دفتر) کو ایک قلعے میں تبدیل کیا جارہا تھا۔ اس کی چھتوں پر دو درجن مشین گن نصب کر دی گئی تھیں۔