شعور کا بحران

موجودہ عینیّتی فلسفہ، خاص طور پر اس کی موضوعی اشکال میں شعور کا سوال بحرانی کیفیت سے دو چار ہے۔ فلسفے میں یہ بحران موجودہ سماج کی بحرانی کیفیت کا آئینہ دار ہے۔ اس قبیل کے فلسفہ کے کچھ رجحانات اس انحطاط یا بحران کو تسلیم تو کرتے ہیں لیکن اس کی وجوہات، ماخذ، علامات اور اصلیت کے بارے بے شمار آراء رکھتے ہیں جو بعض اوقات ایک دوسرے سے یکسر مختلف اور متضاد ہوتی ہیں

تدریسی مزدور اور تعلیم

پرائیویٹ اداروں کے خصوصاً اور سرکاری اداروں کے عموماً، اساتذہ کا علم سے قطعی تعلق نہیں ہوتا، تعلیم صرف روزگار کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں قدیم فقرے اب اپنی چمک دمک کھو چکے ہیں اگرچہ ان پر بہت دفعہ تقدس اور جذباتیت کی خوشبو چھڑکی جاتی ہے اور اس کو قدیم دور کے استادوں کی مثالوں سے سجانے کی کوشش کی جاتی ہے جو جدید دور کے منافع کی ہوس سے مل کر بالکل بے معنی گفتگو بن جاتی ہے