لینن نے ہیگل کا مطالعہ کیسے کیا؟

1914ء کے موسم گرما میں یورپ میں جنگ چھڑ گئی اور دنیا کی تاریخ کا دھارا راتوں رات تبدیل ہو گیا۔ غدار سوشل ڈیموکریٹک لیڈروں کی آشیرباد سے یورپی بورژوازی انسانیت کو ایسے وحشیانہ قتل عام کی جانب گھسیٹ لے گئی، جس میں کروڑوں محنت کشوں اور کسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ […]

مارکسزم اور فلسفہ

فلسفے کا ذکر کریں تو آج سائنسدانوں اور بہت سے دیگر لوگوں کا عمومی رویہ انتہائی بے حسی والا بلکہ سچ کہیں تو تحقیر آمیز ہے۔ ویسے جدید فلسفے کے حوالے سے تو یہ سلوک درست ہی لگتا ہے۔ پچھلی ڈیڑھ صدی سے فلسفے کی قلمرو کو ایک ایسے بنجر اور بے آب و گیاہ بیابان کی مانند دیکھا جا سکتا ہے جس میں شاید ہی کہیں کوئی زندگی کی رمق ملے۔

کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (آخری حصہ)

انسان کا مستقبل ایک انجانے خوف میں ڈوبا ہوا گھٹا ٹوپ اندھیرا نہیں بلکہ ہر طرح کے استحصال، ظلم اور جبر سے آزاد بالآخر امن اور نشاط آمیز ہے۔ اور یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے اگر ہم اپنے اردگرد کی دنیا کو جان سکتے ہیں۔ اس لئے کانٹ کے فلسفے کو جاننا اور اس کے خاتمے کا جاننا ضروری تھا۔

کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (حصہ چہارم)

تحریر: |صبغت وائیں| فلسفہ سچائی سے محبت کا نام ہے۔ فلسفہ سچائی کو جاننے کا نام ہے۔ فلسفہ ہر چیز کی سچائی کو جاننے کا نام ہے۔ فلسفہ کسی بھی سچائی کی تلاش کا نام ہے۔ اور یقیناً فلسفہ کسی بھی سچائی کو جاننے کے طریقے کا نام ہے۔ یا ایسے طریقے تلاش کرنے کا […]

کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (حصہ سوم)

تحریر: |صبغت وائیں| ’’موضوعی عینیت انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے‘‘ یہ ہیگل نے کہا تھا۔ یہ درست ہے کہ ہیگل ایک عینیت پرست فلسفی تھا لیکن وہ اپنے ارد گرد کی چیزوں کے وجود کو حقیقی مانتا تھا۔ وہ ایک یونیورسل سپرٹ کی بات کرتا ہے۔ ایک ریزن کی، جس طرح سے وہ […]

کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (حصہ اول)

تحریر: |صبغت وائیں| کانٹ کی صرف ایک بات یورپ امریکہ کو پسند ہے وہ ہے اس کا نکالا ہوا نتیجہ۔ ورنہ اس کے میتھڈ کو یہ لوگ بھی اس طرح سے رد کرتے ہیں کہ اس کا میں نے آج تک ذکر کسی کی تحریر میں پڑھا نا کسی سے سنا۔ کانٹ نے ہمت دکھا […]