داس کیپیٹل کے ڈیڑھ سو سال

اس ایک کتاب کی اہمیت کو کم کرنے اور اس کو غلط ثابت کرنے کیلئے جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں، انسانی تاریخ میں کسی اور کتاب کے خلاف ایسا نہیں ہوا۔ انکی تعداد ہزاروں میں ہے. آج ان تمام کتابوں اور مصنفوں کا کوئی نام بھی نہیں جانتا جن پر داس کیپیٹل کا ’’رد‘‘ لکھنے کی وجہ سے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے گئے تھے

نوعِ انسان کی داستان

|تحریر: عدیل زیدی| انسان دنیا کا وہ واحد جاندار ہے جو اپنے وجود کا باقی دنیا سے الگ ایک شعور رکھتا ہے اور اسی وجہ سے اپنے وجود کی بنیاد کو جاننے کی جستجو نے انسان کو صدیوں سے لاتعداد توجیہات پیش کرنے پر مجبورکیا ہے۔ انسان نے مختلف علاقوں میں مختلف وقتوں میں اپنے […]

مارکسزم اور فلسفہ

فلسفے کا ذکر کریں تو آج سائنسدانوں اور بہت سے دیگر لوگوں کا عمومی رویہ انتہائی بے حسی والا بلکہ سچ کہیں تو تحقیر آمیز ہے۔ ویسے جدید فلسفے کے حوالے سے تو یہ سلوک درست ہی لگتا ہے۔ پچھلی ڈیڑھ صدی سے فلسفے کی قلمرو کو ایک ایسے بنجر اور بے آب و گیاہ بیابان کی مانند دیکھا جا سکتا ہے جس میں شاید ہی کہیں کوئی زندگی کی رمق ملے۔

کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (آخری حصہ)

انسان کا مستقبل ایک انجانے خوف میں ڈوبا ہوا گھٹا ٹوپ اندھیرا نہیں بلکہ ہر طرح کے استحصال، ظلم اور جبر سے آزاد بالآخر امن اور نشاط آمیز ہے۔ اور یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے اگر ہم اپنے اردگرد کی دنیا کو جان سکتے ہیں۔ اس لئے کانٹ کے فلسفے کو جاننا اور اس کے خاتمے کا جاننا ضروری تھا۔

کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (حصہ سوم)

تحریر: |صبغت وائیں| ’’موضوعی عینیت انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے‘‘ یہ ہیگل نے کہا تھا۔ یہ درست ہے کہ ہیگل ایک عینیت پرست فلسفی تھا لیکن وہ اپنے ارد گرد کی چیزوں کے وجود کو حقیقی مانتا تھا۔ وہ ایک یونیورسل سپرٹ کی بات کرتا ہے۔ ایک ریزن کی، جس طرح سے وہ […]

ایک دن کے منصفانہ کام کے لئے ایک دن کی منصفانہ اجرت

تحریر: |فریڈرک اینگلز| یہ مقولہ انگریز مزدور تحریک گذشتہ پچاس برس سے اپنائے ہوئے ہے۔ جب رسوائے زمانہ قوانینِ اجتماع 1824ء میں منسوخ کر دیئے گئے (برطانیہ میں اس سے قبل مزدور یونین کی تشکیل اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی تھی) اور ٹریڈ یونینیں ابھرنے لگیں تو اس وقت یہ مقولہ مفید ثابت ہوا […]

مارکس، اینگلز اور ادب

تحریر: | ب۔ کرایلوف | مارکس اور اینگلز عالمی آرٹ کو بخوبی جانتے تھے اور ادب، کلاسیکی موسیقی اور مصوری سے حقیقی آگاہی رکھتے تھے۔ اپنی جوانی میں دونوں نے شاعری بھی کی حتیٰ کہ ایک دفعہ اینگلز نے شاعر بننے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا بھی۔ اُنہیں نہ صرف کلاسیکی ادیبوں کا علم […]