فرانس: سب سے بڑی پارٹی کی لیڈر کو سزا اور جمہوریت کا حقیقی چہرہ بے نقاب
سب سے پہلے ایک واضح حقیقت جان لیں کہ ان سطور کے مصنف کا مارین لی پین، اس کے نظریے یا اس تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے جس کی وہ سب سے نمایاں نمائندہ ہے۔ بلکہ، حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سیاسی نظریات کے پیمانے پر ہم ایک دوسرے کے بالکل مخالف کناروں […]
پاکستان: بحران اور لولی لنگڑی جمہوریت
پاکستان: انتخابات کا گورکھ دھندہ!
انتخابات کا بہت شور مچایا جا رہا ہے اور جمہوریت کے تسلسل پر جشن منائے جا رہے ہیں۔ وفاداریوں کا بھاؤ بھی منڈی میں بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن موجودہ نظام معیشت اور سماج کی حالت زار کا نہ تو کئی سنجیدہ تجزیہ کہیں موجود ہے اور نہ ہی محنت کش کی کوئی آوازکسی بھی پلیٹ فارم پر موجود ہے
تھائی لینڈ: عام انتخابات کے حق میں احتجاج پر پولیس کریک ڈاؤن
یہ تحریک 2014ء کے فوجی کُو کی چوتھی سالگرہ پر ابھری ہے اور نومبر 2018ء میں انتخابات منعقد کروانے کا مطالبہ کر رہی ہے
ہندوستان کا سیاسی بحران
گزشتہ چند ماہ میں ہندوستان سے آنے والی خبروں سے یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہندو بنیاد پرستی تیزی سے پھیل رہی ہے اور پورے ملک پر بنیاد پرستوں کا غلبہ ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں انقلابی قوتیں اور محنت کش طبقہ پسپائی کا شکار ہے
کشمیر کے انتخابات: حکمرانوں کا پتلی تماشہ
تحریر: |یاسر ارشاد| نام نہاد آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 21جولائی کو منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ ماضی میں کشمیر کے انتخابات میں زیادہ تر دو جماعتوں کے درمیان مقابلے کا ڈھونگ رچایا جاتا تھا جن میں سے وفاق میں برسراقتدار جماعت کی سیاسی شاخ یا اس کی حمایت یافتہ جماعت کامیاب […]
کشمیر: پارلیمانی سیاست اور محنت کش عوام
تحریر: |یاسر ارشاد| جدید پارلیمانی طرز حاکمیت جو صنعتی انقلابات کے ذریعے معرضِ وجود میں آیا؛ در حقیقت انسانی سماجی تاریخ کا سب سے پر فریب طریقہ حکمرانی ہے۔ حکمرانوں کے چناؤ کے عمل میں براہ راست تمام بالغ عوام کی شمولیت سرمائے کی حاکمیت پر ایک ایسا نقاب ہے جو محنت کش طبقے اور […]
بھارت: بڑی جمہوریت کا بڑا ناٹک
[تحریر: آدم پال] بھارت کی پندرہویں لوک سبھا کی مدت 31 مئی 2014ء میں مکمل ہورہی ہے جس کے بعد عام انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔ 13 ستمبر کو بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمدآباد میں دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ ہوئی […]
کویت: ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے
[رپورٹ: حمید علی زادے] 21اکتوبر، بروز اتوار تقریباً 150000سے زیادہ لوگ، جو کہ کویت کی آبادی کا 5فیصد جبکہ کل کویتی شہریوں کا 15فیصد بنتا ہے، احتجاج کرتے ہوئے دارلحکومت (کویت سٹی) کی سڑکوں پر امڈ آئے۔