شہر کی لائبریری کا نوحہ

خالی جگہ کب۔۔ کب تک خالی رہے گی! پیزا ہٹ یا میکڈونلڈ، بینک یا پراپرٹی دفتر اچھی یعنی مشہور کتابیں چھانٹ لی جائیں گی باقی ردی والوں کے جلسے کو رونق بخشیں گی ہائے ہائے ہائے! لائبریری بند ہونے پر افسوس بیکار ہے نوٹ چھاپ، نمبر ٹانک ہجوم پڑھنے پڑھانے سے بیزار ہے کوئی جناح […]

افسانہ: خواب دیدہ۔۔۔!!!

|تحریر: عامر رفیق| میں کسی بڑے ماڈ ریسٹورانٹ میں ہوں اور اوپر کے فلور پر جانا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے اندازہ ہو رہا ہے اوپر کی جگہ خاص لوگوں کے لیے مختص ہے۔ میں پہلے فلور پر پہنچ گیا ہوں اس سے بھی اوپر کا فلور آخری فلور ہے۔ اوپر سے نیچے وقفے وقفے سے […]

اوم پوری کی وفات پر!

|تحریر: آدم پال| آج صبح خبر ملی کہ ہندوستانی فلمی صنعت کے معروف اداکار اوم پوری اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اس خبر سے ایک شدید صدمہ پہنچا اور گزشتہ سال لاہور میں الحمرا ہال میں ہونے والی ایک تقریب میں ہوئی ان سے ملاقات یاد آنے لگی۔ اس دن اوم پوری کو ان […]

لیوٹالسٹائی، روسی انقلاب کا آئینہ

ٹالسٹائی کی تصانیف، خیالات، اصولوں میں اور ان کے مکتبۂ خیال میں تضاد واقعی بہت نمایاں ہیں۔ ایک طرف ہمارے سامنے ایک ایسا عظیم فنکار ہے جس نے نہ صرف روسی زندگی کی بے نظیرتصویر کشی کی ہے بلکہ عالمی ادب کے خزانے میں بیش بہا اضا فہ بھی کیا ہے۔ دوسری طرف ہمارے سامنے ایک ایسا زمیندار ہے جس پر حضرت عیسیٰ کا وہم مسلط ہے

کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (آخری حصہ)

انسان کا مستقبل ایک انجانے خوف میں ڈوبا ہوا گھٹا ٹوپ اندھیرا نہیں بلکہ ہر طرح کے استحصال، ظلم اور جبر سے آزاد بالآخر امن اور نشاط آمیز ہے۔ اور یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے اگر ہم اپنے اردگرد کی دنیا کو جان سکتے ہیں۔ اس لئے کانٹ کے فلسفے کو جاننا اور اس کے خاتمے کا جاننا ضروری تھا۔

کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (حصہ چہارم)

تحریر: |صبغت وائیں| فلسفہ سچائی سے محبت کا نام ہے۔ فلسفہ سچائی کو جاننے کا نام ہے۔ فلسفہ ہر چیز کی سچائی کو جاننے کا نام ہے۔ فلسفہ کسی بھی سچائی کی تلاش کا نام ہے۔ اور یقیناً فلسفہ کسی بھی سچائی کو جاننے کے طریقے کا نام ہے۔ یا ایسے طریقے تلاش کرنے کا […]

بھگت سنگھ کے جنم دن پر

آج بھگت سنگھ کا 109واں جنم دن ہے۔ اس موقع پر کچھ اشعار پیش خدمت ہیں جو بھگت سنگھ کے پسندیدہ اشعار تھے۔ پھانسی سے پہلے جیل میں وہ ان اشعار کو بار بار دہراتا تھا۔

ہر زور ظلم کی ٹکر میں سنگھرش ہمارا نعرہ ہے

2ستمبر کو ہونے والی آل انڈیا عام ہڑتال کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنے قارئین کے لیے مزدوروں کا ایک گیت۔ ہندوستان کے محنت کشوں میں یہ گیت بہت مقبول ہے اور 1949ء سے آج تک ہڑتالوں، جلسوں جلوسوں میں گایا جاتا ہے۔ ہر زو رظلم کی ٹکر میں سنگھرش ہمارا نعرہ ہے سنگھرش […]