سوشلسٹ انقلاب اور پاکستان

|تحریر: عدیل زیدی|

آج کی عالمی صورتحال کو دیکھا جائے تو یہ محض معاشی یا سیاسی بحرانوں کا مجموعہ نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے نامیاتی اندرونی تضادات کا ایک واضح اظہار ہے۔ جس نظام کو کبھی ترقی، آزادی اور خوشحالی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا تھا، وہی نظام آج شدید عدم مساوات، استحصال اور غیر یقینی پن کی بنیاد بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر دولت کا ارتکاز چند اجارہ دار کارپوریشنز اور مالیاتی اشرافیہ کے ہاتھوں میں سمٹتا جا رہا ہے، جبکہ محنت کش طبقہ اپنی محنت کے ثمرات سے مسلسل محروم ہو رہا ہے۔

کارل مارکس نے جس ”سرمایہ دارانہ تضاد“ کی نشاندہی کی تھی؛ یعنی پیداوار کی سماجی نوعیت اور ملکیت کی نجی حیثیت، وہ آج پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور عالمگیریت نے پیداوار کو عالمی بنیادوں پر اجتماعی بنا دیا ہے، مگر اس کے فوائد چند سرمایہ داروں تک محدود ہیں۔ یہی تضاد نہ صرف معاشی بحرانوں کو جنم دے رہا ہے بلکہ سماجی بے چینی اور سیاسی عدم استحکام کو بھی بڑھا رہا ہے۔

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، جنگیں، خانہ جنگیاں، بیروزگاری اور ریاستی کٹوتیوں (austerity measures) نے محنت کش طبقے کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی مزدور تحریکیں مسلسل ابھر رہی ہیں، جبکہ پسماندہ ممالک قرضوں، عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ اور کمزور داخلی معیشت کے باعث سامراجی لوٹ مار کا شکار بھی ہیں۔ یہ تمام عوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام اپنی تاریخی حدود کو پہنچ چکا ہے۔

ایسے حالات میں موجودہ مسائل محض اصلاحات سے حل نہیں ہو سکتے بلکہ ایک بنیادی تبدیلی، یعنی انقلابی تبدیلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ سوشلسٹ انقلاب اسی تاریخی ضرورت کا اظہار ہے، جہاں ذرائع پیداوار کو نجی ملکیت سے نکال کر اجتماعی کنٹرول میں لایا جاتا ہے، تاکہ پیداوار کا مقصد منافع کی بجائے انسانی ضروریات کی تکمیل ہو۔

ایسے حالات میں انقلابی سوشلزم ایک مضبوط اور بامعنی متبادل کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جو خصوصاً نوجوانوں میں امید اور تبدیلی کی خواہش کو جنم دے رہا ہے۔ تاہم، اس تصور کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی عملی شکل اور اطلاق کو واضح انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ یہ محض ایک نظریاتی خاکہ نہ رہے بلکہ ایک قابلِ فہم اور قابلِ عمل راستہ بن سکے۔ اسی مقصد کے تحت یہ تحریر ایک کوشش ہے، جس میں انقلابی سوشلزم کو ایک منظم، حقیقت پسندانہ اور قابلِ نفاذ نظام کے طور پر بیان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ نئی نسل اسے نہ صرف سمجھ سکے بلکہ اس کے امکانات کو بھی واضح طور پر دیکھ سکے۔

اسی تسلسل میں یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ کسی بھی ملک یا خطے میں کسی نظام کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے اس کے سیاسی، ریاستی، معاشی اور ثقافتی ڈھانچوں کی واضح تعریف اور تنظیم ناگزیر ہوتی ہے۔ یہی بنیادی ستون کسی بھی نظام کی سمت، استحکام اور کارکردگی کا تعین کرتے ہیں اور انہی کی مربوط تشکیل کے ذریعے ایک منظم، متوازن اور پائیدار معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام میں یہ تمام ڈھانچے بظاہر الگ الگ اور خودمختار حیثیت میں موجود ہوتے ہیں، جہاں ہر ادارہ اپنی مخصوص حدود میں کام کرتا ہے۔ مثال کے طور پر سیاسی ڈھانچے کی نمائندگی پارلیمان اور سیاسی جماعتیں کرتی ہیں، جبکہ ریاستی ڈھانچے میں عدلیہ، انتظامیہ اور افواج شامل ہوتے ہیں جو اصولی طور پر سیاسی جماعتوں سے علیحدہ اور خودمختار حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے درمیان ایک مخصوص نوعیت کا توازن اور تعلق قائم ہوتا ہے۔ اسی طرح معاشی ڈھانچے میں نجی کمپنیاں، مالیاتی ادارے اور چیمبر آف کامرس شامل ہوتے ہیں، جبکہ ثقافتی ڈھانچوں میں جامعات، تحقیقی ادارے اور دیگر سماجی و ثقافتی مراکز شامل ہوتے ہیں جو معاشرے کی فکری اور نظریاتی سمت متعین کرتے ہیں مگر ان تمام ڈھانچوں اور اداروں کا حتمی مقصد سرمائے کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

اب سوشلسٹ نظام کے خدوخال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سرمایہ دارانہ نظام سے سوشلزم کی طرف ہونے والی انقلابی تبدیلی کے عمل کا سنجیدہ جائزہ لیں۔ سوشلسٹ نظام میں داخل ہونے کی بنیادی شرط یہی ہوتی ہے کہ سرمایہ دارانہ ڈھانچوں، سیاسی، ریاستی، معاشی اور ثقافتی کو ختم کر کے ان کی جگہ ایک نئے عوامی ڈھانچے کو قائم کیا جائے اور یہ عمل محض اصلاحات سے نہیں بلکہ ایک وسیع عوامی انقلابی تحریک کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے جس میں ہر اول کردار محنت کش طبقے کا ہوتا ہے۔

تاریخی طور پر، پیرس کمیون سے لے کر گزشتہ ڈیڑھ سو سال کے دوران دنیا کے مختلف خطوں میں برپا ہونے والی تحریکیں اس عمل کی جھلک پیش کرتی ہیں۔ بالخصوص حالیہ دہائیوں میں، عرب بہار سے لے کر دنیا بھر میں عام ہڑتالوں اور عوامی احتجاجوں تک، ہم نے دیکھا ہے کہ جب عوامی تحریکیں شدت اختیار کرتی ہیں تو وہ موجودہ نظام کے روایتی ڈھانچوں کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ سری لنکا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، کشمیر، گلگت بلتستان اور نیپال جیسے خطوں میں بھی ایسے لمحات دیکھنے میں آئے جہاں عوام نے اپنی اجتماعی طاقت کے ذریعے نظام کو چیلنج کیا۔

ان تحریکوں کے دوران ایک اہم پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ جب پرانے ڈھانچے غیر مؤثر ہوتے ہیں تو ان کی جگہ ایک نئی قسم کی تنظیم ابھرنے لگتی ہے؛ محنت کشوں کی عوامی کمیٹیاں۔ یہی وہ ابتدائی تنظیمی ڈھانچے ہوتے ہیں جن کے ذریعے مزدور، کسان اور دیگر عوامی طبقات براہِ راست تنظیم سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ یہی کمیٹیاں آگے چل کر ایک سوشلسٹ نظام کے قیام کی عملی بنیاد فراہم کرتی ہیں، جہاں طاقت کا مرکز وسیع محنت کش عوام کے ہاتھوں میں منتقل ہوتا ہے۔

علاقائی سطح پر انتظامی، سیاسی، معاشی اور دیگر تمام معاملات کو محنت کشوں کی منتخب کمیٹیاں منظم کرنے اور چلانے کی ذمہ داری سنبھالتی ہیں۔ یہ کمیٹیاں اپنی ضروریات کے مطابق مختلف شعبہ جات کے لیے ذیلی کمیٹیاں بھی تشکیل دیتی ہیں، تاکہ ہر معاملہ مؤثر اور منظم انداز میں چلایا جا سکے۔ تاہم، سوشلسٹ نظام محض ایک محدود علاقائی ڈھانچہ نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار بنیادی طور پر بین الاقوامی ہوتا ہے۔

اسی لیے مختلف علاقوں کی عوامی کمیٹیاں باہمی ربط کے ذریعے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دیتی ہیں، جسے موجودہ نظام میں کسی حد تک ضلع کی سطح سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ اس سطح پر منتخب نمائندے اپنے اپنے علاقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اجتماعی طور پر وسیع تر معاملات کو مربوط انداز میں منظم کرتے ہیں۔ اس کے بعد اسی طرز پر اگلی سطح کی کمیٹیاں تشکیل پاتی ہیں، جو موجودہ صوبائی سطح سے مماثلت رکھتی ہیں اور وہ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی تمام ذیلی کمیٹیوں کے کام کو ایک مرکزیت فراہم کرتی ہیں۔

یہ سلسلہ بتدریج قومی اور پھر عالمی سطح تک پھیلتا ہے، جہاں بالآخر ایک عالمی سوشلسٹ فیڈریشن وجود میں آتی ہے، جو بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی اور منصوبہ بندی کی ذمہ داری ادا کرتی ہے۔ اس پورے ڈھانچے کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ہر سطح کے مندوبین اپنی منتخب کرنے والی ذیلی کمیٹیوں کے تابع ہوتے ہیں، انہیں کسی بھی وقت واپس بلایا جا سکتا ہے (recall)، اور ان کی مراعات ایک عام محنت کش کی اجرت سے زیادہ نہیں ہوتیں۔ یوں عوامی کمیٹیوں پر مبنی یہ نظام ایک ایسا ریاستی ڈھانچہ تشکیل دیتا ہے جس میں محنت کش عوام نہ صرف نمائندگی کرتے ہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں کے نظم و نسق میں براہِ راست اور فعال کردار ادا کرتے ہیں اور حقیقی جمہوری کنٹرول کو ممکن بناتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں مختلف تحریکوں کے دوران عوامی کمیٹیاں تو وجود میں آتی ہیں، مگر اس کے باوجود نظام سوشلسٹ کیوں نہیں بن پاتا؟ اس کو سمجھنے کے لیے یہ نکتہ اہم ہے کہ عوامی کمیٹیاں لازماً کسی شعوری سوشلسٹ پروگرام کے تحت تشکیل نہیں پاتیں، بلکہ یہ دراصل اجتماعی طور پر مسائل حل کرنے کا ایک فطری اور فوری طریقہ کار ہوتی ہیں۔ لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے از خود منظم ہوتے ہیں، مگر یہ عمل خود بخود سوشلسٹ نظام کی طرف نہیں لے جاتا۔ سوشلسٹ نظام کی تعمیر کے لیے ایک اگلا شعوری قدم درکار ہوتا ہے، جس میں عوامی کمیٹیاں باقاعدہ طور پر یہ فیصلہ کریں کہ وہ معاشی، سماجی، سیاسی اور ریاستی امور کو اجتماعی طور پر خود چلائیں گی۔ اس طرح کے فیصلے تک پہنچنے اور اسے وسیع سطح پر قبول کروانے کے لیے ایک منظم اور شعوری جدوجہد ضروری ہوتی ہے اور یہی کردار ایک انقلابی سیاسی جماعت ادا کرتی ہے، جو اس عمل کو سمت اور نظریاتی وضاحت فراہم کرتی ہے۔

ایک انقلابی سیاسی جماعت عوامی کمیٹیوں میں مؤثر اور فیصلہ کن کردار اسی وقت ادا کر سکتی ہے جب اس کے تربیت یافتہ اور نظریاتی طور پر پختہ اراکین کی تعداد معاشرے کے حجم کے مطابق اتنی ہو کہ وہ اکثریتی عوامی کمیٹیوں کو نظام کی بنیادی تبدیلی پر قائل کر سکیں۔ اس کے لیے محض عددی برتری کافی نہیں، بلکہ ایسے کیڈر درکار ہوتے ہیں جو ہر نظریاتی اور عملی سوال کا واضح، مدلل اور مربوط جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور عوام کے سامنے متبادل نظام کی ٹھوس سمت پیش کر سکیں۔

ہمیں ایک اور بنیادی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مارکس وادی نظریے کے مطابق سوشلسٹ انقلاب اپنی نوعیت کے اعتبار سے عالمی کردار رکھتا ہے۔ تاہم دنیا کے مختلف خطوں میں معروضی اور شعوری حالات یکساں نہیں ہوتے، اسی لیے سوشلسٹ انقلاب کی کامیابی کسی ایک ملک یا خطے سے شروع ہو سکتی ہے۔ لیکن جیسے ہی کسی ایک جگہ پر انقلاب کامیاب ہوتا ہے، عالمی سطح پر ردِ انقلابی قوتیں متحرک ہو کر اسے ناکام بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کے مقابلے کے لیے ایک نئی اور وسیع تر جدوجہد ناگزیر ہو جاتی ہے۔ چونکہ ہم پاکستان کے تناظر میں بات کر رہے ہیں، اس لیے یہاں انقلاب کی ممکنہ کامیابی کے بعد درپیش مسائل اور ان کے حل کے مختلف طریقوں پر سنجیدہ غور و فکر کرنا ضروری ہے۔

پاکستان کا سوشلسٹ انقلاب

پاکستان میں انقلاب کی ممکنہ کامیابی کے بعد سامنے آنے والے حالات اور چیلنجز کا واضح اور حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہی میں سے ایک اہم پہلو عالمی منڈی سے ممکنہ فوری کٹاؤ ہے، جو نوزائیدہ مزدور ریاست کے لیے معاشی اور تجارتی سطح پر بڑے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یہ ایک نومولود مزدور ریاست کے لیے فوری اور نہایت کٹھن چیلنج بن سکتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں معاشی دباؤ، رسد کی رکاوٹیں اور عمومی بے یقینی عوام کے مختلف طبقات میں اضطراب اور متنوع ردِعمل کو جنم دیں گی، جن سے ردِ انقلابی قوتیں سیاسی فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کریں گی۔ ایسے نازک مرحلے پر انقلابی پارٹی کا کردار محض رہنمائی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے فیصلہ کن قیادت فراہم کرنا ہو گی اور یہ ذمہ داری بیک وقت کئی محاذوں پر ادا کرنی پڑے گی۔ ایک طرف عالمی سطح پر انقلاب کے پھیلاؤ کے لیے مربوط جدوجہد کو تیز کرنا اور انقلابی تشہیر کو منظم انداز میں آگے بڑھانا ضروری ہو گا، یہ عمل جسے عالمی انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل (RCI) کے مختلف سیکشنز پہلے ہی آگے بڑھا رہے ہوں گے۔ دوسری طرف داخلی سطح پر فوری، واضح اور قابلِ عمل معاشی حکمتِ عملی پیش کرنا ناگزیر ہو گا، تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا ٹھوس حل فراہم کیا جا سکے اور ان کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔

انقلاب کے بعد سوشلسٹ معیشت اور ریاستی ڈھانچے کو مؤثر، مستحکم اور قابلِ عمل انداز میں چلانا ہو گا۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں معیشت بڑی حد تک درآمدات خصوصاً توانائی، مشینری، ادویات اور زرعی اجزاء پر انحصار کرتی ہے، عالمی منڈی سے ممکنہ کٹاؤ فوری طور پر قلت، مہنگائی اور پیداواری عمل میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ توانائی کا بحران، سپلائی چین کی ٹوٹ پھوٹ اور مالیاتی نظام کا عدم استحکام پورے معاشی ڈھانچے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ داخلی سطح پر ردِ انقلابی قوتوں کی مزاحمت، سابقہ ریاستی ڈھانچوں کی رکاوٹیں ایک نئے نظام کی فوری تشکیل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، جبکہ عالمی سطح پر پابندیاں، سفارتی دباؤ اور ممکنہ تنہائی بھی ایک مستقل چیلنج کے طور پر موجود رہیں گے۔

ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع، سائنسی اورمنصوبہ بند حکمتِ عملی درکار ہو گی جس کا آغاز ملک کے تمام بینکوں، بھاری اور اہم صنعتوں، معدنی وسائل، بڑے زرعی رقبوں کو محنت کش عوام کی اجتماعی ملکیت و جمہوری کنٹرول میں لینے اور عالمی مالیاتی اداروں و دیگر کے سامراجی قرضوں کی فوری ضبطگی سے کیا جائے گا۔ سب سے پہلے ضروری درآمدات کی ایک واضح ترجیحی فہرست مرتب کر کے توانائی، خوراک، ادویات اور صنعتی خام مال کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔ ساتھ ہی مقامی وسائل جیسے تھر، کوئلہ، شمسی و ہوائی توانائی، آبی وسائل اور زرعی پیداوار کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کر کے بیرونی انحصار کم کرنا ہو گا۔ مالیاتی نظام کو ریاستی کنٹرول میں لے کر سرمائے کے غیر ضروری اخراج کو روکنا، ایک مرکزی اور شفاف ادائیگی نظام قائم کرنا اور اجرت و قیمتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ناگزیر ہو گا۔ خوراک کی منصفانہ تقسیم کے لیے راشننگ سسٹم اور صنعت و زراعت کو ترجیحی بنیادوں پر وسائل کی فراہمی کے ذریعے بنیادی ضروریات کو یقینی بنانا ہو گا۔

اس نئے نظام میں روایتی بیوروکریسی کا مکمل خاتمہ کرتے ہوئے اس کی جگہ ایک ایسا متبادل انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا جو براہِ راست عوامی کمیٹیوں، مزدور کونسلز اور منتخب نمائندہ اداروں کے ذریعے چلایا جائے گا۔ اس ڈھانچے میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، فوری فیصلہ سازی، شفافیت اور جوابدہی کو بنیادی اصول بنایا جائے گا، جبکہ تکنیکی ماہرین اور ہنر مند افراد کو عوامی نگرانی کے تحت شامل کر کے انتظامی کارکردگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ سیاسی سطح پر عوامی شمولیت کو برقرار رکھنا، مسلسل آگاہی دینا اور واضح سمت فراہم کرنا ضروری ہو گا تاکہ محنت کش عوام کی وسیع سے وسیع تر پرتیں تبدیلی کے عمل کا فعال حصہ بنتی جائیں۔ ساتھ ہی عالمی سطح محنت کش طبقے کی بین الاقوامی یکجہتی کو فروغ دے کر بیرونی دباؤ اور پابندیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ یہی مربوط، حقیقت پسندانہ اور منظم اقدامات اس نو خیز مزدور ریاست کے استحکام، بقا اور ترقی کی بنیاد فراہم کریں گے۔