پنجاب یونیورسٹی لاہور: اساتذہ و ملازمین کے اتحاد ’جوائنٹ ایکشن کمیٹی پنجاب یونیورسٹی‘ کے زیرِ اہتمام مطالبات کی منظوری کے لیے شاندار احتجاجی تحریک کا آغاز!

پنجاب یونیورسٹی لاہور میں اساتذہ اور ملازمین نے اپنے معاشی و انتظامی حقوق کے لیے ’جوائنٹ ایکشن کمیٹی پنجاب یونیورسٹی‘ کے پلیٹ فارم سے بھرپور احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہے۔ یونیورسٹی کے تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کی جانب سے ہونے والے ان احتجاجوں میں ہزاروں ملازمین نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی پنجاب یونیورسٹی کے چیئرمین پروفیسر اصغر اقبال نے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ احتجاج اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی جیسے ملک کے اہم ترین تعلیمی ادارے میں کام کرنے والا عملہ بھی بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ، انتظامی مسائل اور بنیادی حقوق سے متعلق بے شمار مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ تعلیمی ادارے صرف عمارتوں، کلاس رومز اور لیبارٹریوں کا نام نہیں ہوتے بلکہ ان اداروں کو چلانے والے اساتذہ، ملازمین، محققین، طلبہ اور دیگر کارکنان ہی ان کی اصل بنیاد ہوتے ہیں۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا قیام اسی احساس کے تحت عمل میں آیا کہ مختلف شعبوں کے ملازمین اور اساتذہ کے مسائل کو انفرادی طور پر دبانا آسان ہے، مگر وسیع اتحاد قائم کرکے اجتماعی قوت کے ذریعے انتظامیہ سے اپنے حقوق چھینے کیے جا سکتے ہیں۔ لہٰذا منظم مزاحمت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انتظامیہ کے ساتھ ایک طویل عرصے سے مطالبات کی منظوری کے حوالے سے بات چیت جاری تھی، مگر انتظامیہ کسی صورت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ الٹا اوچھے ہتھکنڈوں پر اترتے ہوئے حقوق کی آواز بلند کرنے والوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ بالآخر اساتذہ و ملازمین کو احتجاج کا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے میدانِ عمل میں اترنا پڑا۔ اسی سلسلے میں اگست کے مہینے میں شاندار احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جو یونیورسٹی کے اساتذہ و ملازمین کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئے۔

”ہم چانسلر پنجاب یونیورسٹی و گورنر پنجاب، حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی اس وقت مالی، انتظامی، تعلیمی و تحقیقی سطح پہ تباہی کا شکار ہے۔ لہٰذاہمارا تقاضا ہے کہ:

1۔ پنجاب یونیورسٹی کے مالی معاملات کا فوری، جامع اور آزادانہ فرانزک آڈٹ کرایا جائے تاکہ گزشتہ عرصے کے تمام مالی فیصلوں، ریزرو فنڈز کے استعمال، خسارے کے بجٹ، ون اکاؤنٹ پالیسی، خسارہ کا سیلف سپورٹنگ پروگرام اور دیگر مالی امور کی شفاف تحقیقات ہو سکیں، اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
2۔ ڈائریکٹر جنرل، اسٹوڈنٹ، اسٹیٹ و سیکورٹی کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹایا جائے تاکہ ون آن ون سیٹ کا اصول نافذ ہو۔
3۔ یونیورسٹی میں انتقامی کارروائیوں اور غیر ضروری انکوائری کلچر کا خاتمہ کیا جائے اور اساتذہ، افسران اور ملازمین کو آزادانہ اور باوقار علمی، تحقیقی و انتظامی ماحول فراہم کیا جائے۔
4۔ رجسٹرار کی سیٹ کو فی الفور مشتہر کیا جائے اور ایک قابل آدمی کی شفاف طریقہ سے تعیناتی کی جائے، جو اس ادارہ کے شایان شان ہو۔
5۔ اساتذہ و ملازمین کے مالی مسائل بشمول پرفارمنس ایوارڈ، انسینٹو ایوارڈ، لیو انکیشمنٹ، اور ٹائم، عید آنریریم اور ہاوس ریکوزیشن، ڈیسپیریٹی ریڈکشن الاونس کے جلد از جلد دو ہفتہ میں ادا کئے جائیں اور پروموشن سنیارٹی کم فٹنس بیسس پر کی جائے اور رہائشی کالونی میں پینسٹھ روپے فی یونٹ بجلی لیسکو ڈومیسٹک ٹیرف کے مطابق کی جائے۔حکومت ِ پنجاب کے احکامات کے مطابق ٹائم سکیل پروموشن کا نفاذ کیا جائے۔
6۔ پنجاب یونیورسٹی میں ادارہ جاتی نظام کو بحال کرتے ہوئے سینٹ، سنڈیکیٹ، ڈینز کمیٹی، سلیکشن بورڈز، پروموشن بورڈز اور دیگر قانونی فورمز کے باقاعدہ اور بروقت اجلاس منعقد کیے جائیں، بروقت آسامیوں کیلئے اشتہار جاری کیا جائے اور مطالبات جو چارٹر آف ڈیمانڈ کی صورت میں دیئے گئے ہیں کو فوری پورا کیا جائے، تاکہ تمام فیصلے اجتماعی مشاورت، شفافیت اور یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق کیے جا سکیں۔

ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری یہ جدوجہد پنجاب یونیورسٹی کے وقار، اس کی علمی روایت، ادارہ جاتی خودمختاری اور ہزاروں طلبہ، اساتذہ اور ملازمین کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہے۔ اگر دو ہفتوں میں مطالبات پہ عمل نہ ہواتو ہم پنجاب یونیورسٹی سے باہر احتجاج، اسمبلی ہال کے سامنے دھرنا، وائٹ پیپر کا اجراء، تالہ بندی کلاسوں کے بائیکاٹ کی حد تک جائیں گے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے اس قومی علمی اثاثے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

منجانب:جوائنٹ ایکشن کمیٹی، پنجاب یونیورسٹی، لاہور“

انقلابی کمیونسٹ پارٹی ان مطالبات کی حمایت کا اعلان کرتی ہے اور اس جدوجہد میں شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی میں جاری یہ احتجاج محض ایک ادارے کے ملازمین کے مسائل تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے وسیع تر مسائل کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، روزگار کا عدم تحفظ اور اداروں میں انتظامی و معاشی دباؤ نے محنت کش طبقے کے لیے حالات کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

’جوائنٹ ایکشن کمیٹی پنجاب یونیورسٹی‘ کی یہ تحریک ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ تاہم اس جدوجہد کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ دیگر تعلیمی اداروں کے عام ملازمین اور اساتذہ کو بھی اس اتحاد میں شامل کیا جائے۔ اسی طرح بڑھتی فیسوں اور انتظامیہ کے آمرانہ رویوں سے تنگ طلبہ کو بھی اس جدوجہد کا حصہ بنانا ہوگا، تاکہ تعلیم دشمن تعلیمی نظام اور اس کے رکھوالوں کے خلاف مشترکہ مزاحمت کو منظم کیا جا سکے۔