صوبائی بجٹ 2026-27 ء: مزدور دشمن بجٹ، بلوچستان گرینڈ الائنس کا بجٹ مسترد کرنے اور 18 جون سے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کا اعلان!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان|

17جون 2026ء کو جب بلوچستان حکومت صوبائی اسمبلی میں مالی سال 2026-27ء کا بجٹ پیش کر رہی تھی، اسی وقت اسمبلی کے باہر اپنے جائز معاشی مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کا پروگرام تھا، مگر ملازمین اور محنت کشوں کو کہیں پر بھی اکٹھا ہونے نہیں دیا گیا اور پورے شہر کی شاہراہوں کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس پوری صورتحال میں بلوچستان گرینڈ الائنس (BGA) کے رہنماؤں اور کارکنان پر ریاست نے ایک مرتبہ پھر بدترین جبر کا مظاہرہ کیا۔ پرامن احتجاج کی اجازت دینے کی بجائے پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کی شیلنگ کی، خواتین سمیت درجنوں مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور بلوچستان گرینڈ الائنس کی قیادت سمیت اب تک کی اطلاعات کے مطابق 49 محنت کشوں کو گرفتار کیا گیا، جنہیں حکمرانوں کے انگریز آقا سے ورثے میں ملی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی بنیاد پر ہدہ جیل بھیج دیا گیا۔

اس بدترین ریاستی جبر اور ملازمین دشمن بجٹ کے ردعمل میں بلوچستان گرینڈ الائنس نے صوبائی بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے 18 جون سے صوبے بھر کے تمام عوامی و سرکاری اداروں میں غیر معینہ مدت کے لیے مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی اس ریاستی بربریت، گرفتاریوں، تشدد اور پرامن احتجاج کے جمہوری حق پر حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، تمام گرفتار ساتھیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتی ہے اور بی جی اے کے بجٹ مسترد کرنے اور غیر معینہ مدت کی ہڑتال کے فیصلے کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتی ہے۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ کوئی اچانک پیش آنے والا حادثہ نہیں بلکہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری اسی ریاستی پالیسی کا تسلسل ہے۔ جنوری 2025ء سے بلوچستان گرینڈ الائنس کی جدوجہد مسلسل دھرنوں، احتجاجی مظاہروں، قلم چھوڑ ہڑتالوں، مکمل ہڑتالوں اور لانگ مارچوں پر مشتمل رہی ہے۔ اس پوری تحریک کے جواب میں حکومت نے کبھی مذاکرات کے جھوٹے وعدے کیے، کبھی معاہدوں سے انحراف کیا، کبھی ملازمین کو دھمکیاں دیں، کبھی گرفتاریاں کیں اور کبھی پولیس تشدد کا سہارا لیا۔ لیکن اس تمام جبر کے باوجود بلوچستان کے محنت کش، سرکاری ملازمین، اساتذہ، صحت کے کارکنان اور دیگر شعبوں کے مزدور اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوئے۔ آج ایک مرتبہ پھر حکمران طبقے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کے نزدیک جمہوریت صرف اس وقت تک قابل قبول ہے جب تک محنت کش خاموش رہیں۔ جیسے ہی مزدور، ملازم، استاد، ڈاکٹر، نرس یا عام سیاسی کارکن اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آتے ہیں، ریاست کا اصل چہرہ سامنے آ جاتا ہے اور یہی ریاست کے طبقاتی اوزار ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بجٹ کس کے لیے؟

بلوچستان حکومت کا پیش کردہ بجٹ بھی وفاقی بجٹ اور دیگر صوبائی بجٹوں کی طرح محنت کش دشمن بجٹ ہے جسے بلوچستان گرینڈ الائنس نے درست طور پر مسترد کیا ہے۔ واضح رہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 7 فیصد اضافہ اور پنشن میں بھی محض 7 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ گزشتہ کئی برسوں میں مہنگائی کی مجموعی شرح اس سے کئی گنا زیادہ رہی ہے۔ اس معمولی اضافے کا مطلب حقیقی معنوں میں ملازمین کی آمدنی میں اضافہ نہیں بلکہ ان کی قوت خرید میں مزید کمی ہے۔

دوسری طرف صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں کے لیے چند سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ یہی شعبے برسوں سے شدید مالی بحران، عملے کی کمی، بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور نجکاری کے دباؤ کا شکار ہیں۔ یہی صورتحال وفاقی بجٹ میں بھی نظر آتی ہے، جہاں ریاست کی طبقاتی ترجیحات پوری طرح عیاں ہیں۔

وفاقی بجٹ 2026-27ء میں تقریباً 8.2 کھرب روپے صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جو بجٹ کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی اخراجات میں ایک مرتبہ پھر نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ صرف فوجی پنشن کی مد میں 822 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یوں ایک طرف محنت کش عوام کو بتایا جاتا ہے کہ خزانہ خالی ہے، وسائل موجود نہیں، کفایت شعاری ضروری ہے، لیکن دوسری طرف کھربوں روپے بینکوں، مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ریاستی جبر کے اداروں پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ وسائل کی طبقاتی تقسیم ہے۔

”خزانہ خالی ہے“ یا حکمران اشرافیہ کی لوٹ مار؟

جب بھی سرکاری ملازمین اپنی تنخواہوں، پنشن یا بنیادی سہولیات کے لیے احتجاج کرتے ہیں تو حکمران طبقہ فوراً اعلان کرتا ہے کہ خزانہ خالی ہے۔ لیکن یہی حکمران طبقہ اس حقیقت پر مکمل خاموشی اختیار کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان میں اشرافیہ کو حاصل ٹیکس چھوٹ، مراعات، سبسڈیز اور بدعنوانی کے باعث ہر سال قومی معیشت کو جی ڈی پی کے کئی فیصد کے برابر نقصان پہنچتا ہے۔ یہ رقم ہزاروں ارب روپے بنتی ہے، جو صحت، تعلیم، روزگار اور عوامی فلاح پر خرچ ہو سکتی تھی۔ لہٰذا وسائل کی کمی کا شور دراصل محنت کش عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کے لیے مچایا جاتا ہے، جبکہ سرمایہ داروں، نیم جاگیرداروں، بڑے تاجروں، مالیاتی اداروں اور ریاستی اشرافیہ کے مفادات کو ہر قیمت پر محفوظ رکھا جاتا ہے۔

بلوچستان گرینڈ الائنس کی جدوجہد قابل تحسین ہے!

انقلابی کمیونسٹ پارٹی بلوچستان گرینڈ الائنس کے ان تمام ساتھیوں کو سرخ سلام پیش کرتی ہے جو گزشتہ ڈیڑھ سال سے تمام تر ریاستی جبر، گرفتاریوں، مقدمات، دھمکیوں، تنخواہوں کی بندش اور انتظامی انتقام کے باوجود مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ بجٹ کو مسترد کرنا اور تمام عوامی اداروں میں غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کا جرات مندانہ اعلان یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ جدوجہد صرف تنخواہوں میں اضافے کی تحریک نہیں بلکہ ریاست کی اس معاشی پالیسی کے خلاف مزاحمت بھی ہے جو پورا بحران محنت کش عوام کے کندھوں پر ڈالنا چاہتی ہے۔ بلوچستان گرینڈ الائنس نے ثابت کیا ہے کہ منظم جدوجہد ہی محنت کش طبقے کی اصل طاقت ہے۔

تحریک کو درپیش مشکلات اور تاریخی پس منظر

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں لاکھوں سرکاری ملازمین موجود ہونے کے باوجود اکثر تحریکوں میں صرف ایک محدود حصہ ہی مسلسل احتجاج میں شریک ہو پاتا ہے۔ اس کے پیچھے گہرے سیاسی، عالمی اور تنظیمی اسباب ہیں جنہیں سمجھنا لازمی ہے۔

سب سے پہلی اور بنیادی وجہ عمومی طور پر مزدور تحریک کا تاریخی زوال ہے، جس کا براہِ راست تعلق بیسویں صدی کے اواخر میں سوویت یونین کے انہدام سے ہے۔ سوویت یونین کے انہدام نے عالمی سطح پر نظریاتی گراوٹ اور مزدور تحریکوں کو شدید دفاعی پوزیشن میں دھکیلنے کا کام کیا۔ سرمائے کے عالمی گماشتوں نے اس تاریخی واقعے کو بنیاد بنا کر محنت کش طبقے کی منظم طاقت اور نظریاتی یکجہتی پر کاری ضرب لگائی۔ اگر ہم ماضی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پاکستان میں اس عالمی دھچکے سے قبل مزدور تحریک کی ایک شاندار اور طاقتور مثال موجود تھی۔ ایک دور ایسا بھی تھا جب مزدور تنظیمیں اس قدر مضبوط، نظریاتی اور متحد تھیں کہ جب بھی مزدور تحریک کی جانب سے کوئی معاشی یا سیاسی مطالبہ سامنے آتا تھا، تو حکمران طبقہ خوف زدہ ہو کر فوری طور پر اس پر عمل درآمد کرتا تھا اور جھکنے پر مجبور ہو جاتا تھا۔ لیکن سوویت یونین کے زوال کے بعد، حکمران طبقے نے مزدوروں کی اس طاقت کو مستقل بنیادوں پر توڑنے کے لیے گہری سازشیں کیں۔

مزدور تحریک کے اس زوال کی سب سے بڑی مقامی وجہ کارخانوں اور اداروں میں پاکٹ یونینز (حکومتی اور مالکان نواز کٹھ پتلی یونینز) کی بھرمار ہے۔ حکمرانوں نے حقیقی اور انقلابی ٹریڈ یونینز کا راستہ روکنے کے لیے ایسی پاکٹ یونینز اور زرد قیادتوں کی سرپرستی کی جنہوں نے مزدوروں کو لسانی، علاقائی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کیا۔ جب مزدور صفوں میں یہ انتشار پیدا ہوا اور حقیقی قوت زوال پذیر ہوئی، تو حکمران طبقہ کھل کر مزدور دشمن پالیسیوں اور اقدامات پر اتر آیا۔ اسی تنظیمی گراوٹ کا فائدہ اٹھا کر ریاست نے مزدور دشمن ایکٹ، جبری برطرفیوں کے قوانین، نجکاری کی پالیسیاں اور محنت کشوں کو لاچار کرنے والے ضوابط نافذ کیے۔

ریاستی جبر اور انتقامی کاروائیوں کا نیا سلسلہ

ان وجوہات کے ساتھ ساتھ، حکومتوں کی مسلسل وعدہ خلافیاں بھی مایوسی کا سبب بنتی ہیں۔ بار ہا مذاکرات، معاہدوں اور یقین دہانیوں کے بعد بھی مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، جس سے عام ملازمین کے اندر بد دلی پیدا ہوتی ہے۔ مزید برآں، تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی محنت کشوں کی تحریکیں حکمران طبقے کے مفادات کو زک پہنچانے لگتی ہیں، تو ریاست صرف لاٹھی اور گولی جیسے ننگے جبر پر ہی اکتفا نہیں کرتی، بلکہ وہ محنت کشوں کو معاشی اور ذہنی طور پر مفلوج کرنے کے لیے بدترین انتظامی اور قانونی انتقام کو ایک باقاعدہ ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ اس عمومی ریاستی ہتھکنڈے کا مقصد تحریکوں کی صفوں میں خوف پھیلانا اور ان کی معاشی کمر توڑنا ہوتا ہے۔

بلوچستان گرینڈ الائنس کی حالیہ جدوجہد کو کچلنے کے لیے بھی ریاست نے بعینہٖ اسی گھناؤنے طریقہ کار کا سہارا لیا ہے۔ اس کی واضح مثالیں حال ہی میں سامنے آنے والی 37 پروفیسرز اور لیکچررز کی جبری برطرفی اور دیگر 34 اساتذہ و ملازمین کی تنخواہیں روکنے کے ظالمانہ اقدامات ہیں۔ اس کے علاوہ، تحریک میں سرگرم ملازمین کے جائز پروموشنز کو روکنا اور انہیں ذہنی و معاشی طور پر ہراساں کرنے کے لیے دور دراز کے پسماندہ علاقوں میں جبری ٹرانسفر اور پوسٹنگ کرنا وہ انتقامی حربے ہیں جن کے ذریعے عام ملازمین کو ڈرا کر براہِ راست سڑکوں پر آنے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ماضی میں کئی روایتی ٹریڈ یونین قیادتوں نے کارکنوں کو اعتماد میں لیے بغیر حکومتوں کے ساتھ جو خفیہ سمجھوتے کیے اور تحریکوں کو ادھورا چھوڑا، اس نے بھی قیادت اور عام محنت کشوں کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج کو گہرا کیا، جس کا فائدہ ہمیشہ حکمرانوں کو ہی پہنچا۔

یہ مسائل حقیقی ہیں اور انہیں حل کرنے کے لیے سب سے پہلے تحریک کو روایتی و سطحی معاشی مطالبات کی قید سے نکال کر بنیادی انقلابی نظریات اور مزدور طبقے کی نظریاتی اساس کی طرف لوٹانا ہو گا۔ جب تک محنت کشوں کے اندر یہ شعور بیدار نہیں ہو گا کہ ان کی بقا کا ضامن کوئی حکمران نہیں بلکہ ان کا اپنا انقلابی نظریہ اور طبقاتی یکجہتی ہے، تب تک وہ ان ہتھکنڈوں کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔

نظریاتی بیداری کے اسی سفر کو پھر ٹھوس تنظیمی شکل دینا ہو گی۔ اس کے لیے ہر ادارے، ہر ضلع اور ہر شعبے میں نچلی سطح پر محنت کشوں کی منتخب ایکشن کمیٹیاں قائم کرنی ہوں گی، تمام فیصلے پاکٹ یونینز یا چند افراد کے بند کمروں کے فیصلوں کی بجائے کارکنوں کی اجتماعی مشاورت سے کرنے ہوں گے اور تحریک کو زیادہ سے زیادہ محنت کشوں کی براہ راست شرکت سے مضبوط بنانا ہو گا۔ غیر معینہ مدت کی ہڑتال کے اس بڑے فیصلے کو کامیاب بنانے اور برطرفیوں، تنخواہوں کی بندش اور جبری تبادلوں جیسے ریاستی ہتھکنڈوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے نچلی سطح پر ملازمین کو نظریاتی و تنظیمی طور پر متحد کرنا ہی واحد راستہ ہے۔

محض احتجاج نہیں، پورے نظام کو چیلنج کرنے کی ضرورت

آج بلوچستان ہو یا پورا پاکستان، مسئلہ صرف سات فیصد یا دس فیصد تنخواہ بڑھانے کا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام خود شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں، قرضوں، نجکاری اور کفایت شعاری کی پالیسیوں کے تحت ہر حکومت محنت کش عوام سے مزید قربانیاں مانگ رہی ہے۔ جب تک دولت پیدا کرنے والے محنت کش طبقے کا معیشت اور ریاست پر جمہوری کنٹرول قائم نہیں ہوتا، اس وقت تک ہر بجٹ اسی طرح سرمایہ داروں، بینکاروں، قرض دہندگان اور حکمران اشرافیہ کے مفادات کا محافظ رہے گا۔ اسی لیے آج کی معاشی جدوجہد کو ایک وسیع تر طبقاتی جدوجہد سے جوڑنا ناگزیر ہے۔

بلوچستان گرینڈ الائنس کی تحریک کو بلوچستان کے تمام شعبوں کے مزدوروں، اساتذہ، ڈاکٹروں، نرسوں، طلبہ، کسانوں اور پورے پاکستان کے محنت کش طبقے کی مشترکہ تحریک میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

ریاستی جبر اور انتظامی انتقام وقتی طور پر احتجاج کو منتشر کر سکتے ہیں، لیکن وہ ان معاشی تضادات کو ختم نہیں کر سکتے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید شدت اختیار کر رہے ہیں۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی یقین رکھتی ہے کہ محنت کش طبقے کی منظم، جمہوری اور انقلابی جدوجہد ہی نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے محنت کش عوام کو اس استحصالی سرمایہ دارانہ نظام سے نجات دلا سکتی ہے۔

برطرف کیے گئے 37 پروفیسرز اور لیکچررز کو فوراً بحال کیا جائے اور روکی گئی تنخواہیں واگزار کی جائیں!
تمام گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے!
تمام انتقامی تبادلے اور پروموشنز پر لگی پابندیاں فی الفور ختم کی جائیں!
بلوچستان گرینڈ الائنس کے تمام جائز مطالبات فوری تسلیم کیے جائیں!
ریاستی جبر، گرفتاریوں اور پولیس تشدد کا خاتمہ کیا جائے!
محنت کشوں پر مسلط سرمایہ دارانہ کفایت شعاری کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے وسائل کو صحت، تعلیم، روزگار اور عوامی فلاح پر خرچ کیا جائے!
دنیا بھر کے محنت کشو، ایک ہو جاؤ!