!پشاور: پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ کے طلبہ کا اپنے حقوق کے لیے احتجاج، جدوجہد ہی واحد راستہ ہے

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، خیبرپختونخوا|

کل بروز سوموار پشاور میں پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ کے طلبہ کو اپنے جائز تعلیمی مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار افراد میں خواتین طلبہ بھی شامل ہیں۔

طلبہ کے مطابق لڑکوں کے لیے مختص سرکاری ہاسٹل مبینہ طور پر فیکلٹی ممبران کے زیرِ استعمال ہیں، جس کے باعث طلبہ دوسرے سمسٹر تک ہاسٹل کی بنیادی سہولت سے محروم رہتے ہیں اور انہیں نجی ہاسٹلوں مہنگی میں رہائش اختیار کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح دوسرے سمسٹر میں کلینیکل پریکٹس کے لیے مختص تقریباً دو ماہ کے عرصے کے دوران بھی طلبہ انتظامی غفلت اور مبینہ عدم دلچسپی کے باعث محروم رہتے ہیں۔ گرلز ہاسٹل میں بھی پچھلے عرصے میں میس کی فیس میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کھانے کا معیار انتہائی گھٹیا ہے۔ کھانے میں کئی بار کیڑے بھی نکلے ہیں اور جب طالبات نے اس کھانے کی تصویریں پرنسپل کو دکھائیں تو پرنسپل نے طالبات کی بات سننے کی بجائے ان کی ڈگریاں خراب کرنے کی دھمکی دی۔ پرنسپل اپنے خاوند کے وکیل ہونے کی وجہ سے طلبہ کو طرح طرح کی دھمکیاں دیتی ہے۔

طلبہ اپنے مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کر رہے تھے، تاہم مذاکرات اور مسئلے کے حل کی بجائے کالج انتظامیہ کی جانب سے پولیس کو طلب کر کے 11 طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ طلبہ کا مزید کہنا ہے کہ کالج انتظامیہ کی جانب سے فائنل ایئر کے طلبہ کو فیل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جبکہ طالبات کو ہراساں بھی کیا جا رہا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے طلبہ پر پولیس کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اس کے برعکس حقیقت بیان کر رہی ہیں اور پولیس کاروائی میں مبینہ دھکم پیل کے دوران ایک خاتون طالبعلم کو پولیس گاڑی کی ٹکر لگنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

طلبہ کے مطابق جب وہ واپس ہاسٹل پہنچے تو انہیں ہاسٹل میں داخل ہونے سے روکا گیا، جس کے خلاف احتجاجاً کارخانو مارکیٹ کے قریب مرکزی شاہراہ بند کر دی گئی۔ طلبہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ آج سے پرنسپل کے استعفیٰ کی تحریک شروع کریں گے۔

صورتحال کے پیشِ نظر واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی طلبہ کے تمام مطالبات کی حمایت کرتی ہے اور کالج انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کو ڈرانے اور دھمکانے کے تمام غلیظ ہتھکنڈوں اور جبر کی شدید مذمت کرتے ہوئے گرفتار ہونے والے تمام طلبہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہمارا یہ مطالبہ بھی ہے کہ طلبہ پر مبینہ تشدد، خاتون طالبہ کو پولیس گاڑی کی ٹکر لگنے کے واقعے اور انتظامیہ کے طرزِ عمل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں۔

ہم پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ کے طلبہ کو بھی یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ کالج انتظامیہ کی بنائی گئی کمیٹی پر ایک فیصد بھی یقین نہیں کریں کیونکہ یہ کمیٹی بالآخر کالج انتظامیہ کے حق میں ہی فیصلہ کرے گی۔ بلکہ طلبہ اپنی خود کی ایکشن کمیٹی تشکیل دیں اور اس کمیٹی کے اندر باقی طلبہ کو بھی منظم کرتے ہوئے اپنے حقوق کی لڑائی آخری حد تک جاری رکھیں۔ طلبہ صرف اپنی طاقت پر یقین رکھیں، طلبہ منظم ہو کر درست لائحہ عمل کے ذریعے اس لڑائی کو جاری رکھیں گے تو اپنے حقوق حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے جو کہ دوسرے اداروں کے طلبہ، جو اسی قسم کے مسائل سے دوچار ہیں، کے لیے بھی حوصلہ افزا ثابت ہو گا۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی طلبہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے کا عزم کرتی ہے اور ہم پاکستان بھر کے اور خاص طور پر خیبرپختونخوا کے طلبہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ کے طلبہ کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ایک کا دکھ، سب کا دکھ!