پشاور: انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے کارخانوں مارکیٹ میں احتجاجی جلسہ اور ریلی کا انعقاد

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، خیبرپختونخوا|

یکم مئی 2026ء کو انقلابی کمیونسٹ پارٹی، خیبر پختونخوا کی جانب سے یومِ مزدور کے حوالے سے پشاور کے کارخانوں مارکیٹ کے انڈسٹریل ایریا اور لیبر کالونی میں ایک احتجاجی ریلی اور سیاسی مہم کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ، نوجوانوں اور مزدوروں نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھیوں نے ریلی کا آغاز لیبر کالونی سے کیا جہاں انقلابی گیت اور نعرے لگاتے ہوئے پورے علاقے میں مارچ کیا گیا۔ اس کے بعد ریلی نے کارخانوں مارکیٹ کے انڈسٹریل ایریا کا رخ کیا جہاں مختلف فیکٹریوں، ورکشاپس اور مارکیٹوں کے مزدوروں نے ریلی کا استقبال کیا۔ آخر میں کارخانوں مارکیٹ چوک میں احتجاجی مظاہرہ ریکارڈ کروایا گیا۔

ریلی کے دوران انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کامریڈ تسبیح خان نے تعارفی خطاب کرتے ہوئے یومِ مزدور کی تاریخی اہمیت اور عالمی مزدور تحریک کی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے 1886ء کے شکاگو کے ان مزدوروں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے آٹھ گھنٹے اوقات کار، ہفتہ وار چھٹی اور انسانی زندگی کے بنیادی حقوق کے لیے قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی خیبرپختونخوا سمیت پورے پاکستان میں مزدوروں کو دس، بارہ بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے جبکہ انہیں کم سے کم اجرت تک میسر نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شکاگو کے مزدوروں کی جدوجہد آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے اور اسی تسلسل میں اس سال یومِ مزدور اس عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ محنت کش طبقے کو ایک انقلابی پروگرام کے تحت منظم کر کے اس استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کیا جائے، کیونکہ یہ پورا نظام مزدوروں کے استحصال اور ان کی محنت کی لوٹ مار پر قائم ہے۔

اس کے بعد انقلابی کمیونسٹ پارٹی پشاور کے ایریا سیکرٹری کامریڈ تیمور نے خطاب کرتے ہوئے خطے اور ملک کی موجودہ صورتحال پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آج یومِ مزدور کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ محنت کشوں کے خون پسینے پر پلنے والا سرمایہ دارانہ نظام انسانیت کے لیے گلے کا ایک پھندا بن چکا ہے۔ انہوں نے شدید مہنگائی، بیروزگاری اور گرتے ہوئے معیارِ زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں اور طبقاتی مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے جبکہ مہنگائی کا سارا بوجھ محنت کش عوام کے کندھوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سرکاری طور پر کم از کم اجرت کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں مزدور آج بھی دس سے پندرہ ہزار روپے ماہانہ پر روزانہ دس سے بارہ گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

کامریڈز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نجی فیکٹریوں اور صنعتی علاقوں میں انفارمل لیبر کا نظام مزدوروں کو ہر قسم کے قانونی اور سماجی تحفظ سے محروم رکھتا ہے۔ مزدوروں کی اجرتوں میں کٹوتی، ہفتہ وار چھٹی کا نہ ہونا، یونین سازی پر پابندیاں، سوشل سکیورٹی اداروں کی کرپشن، روایتی لیڈروں اور سیاسی پارٹیوں کی موقع پرستی، یہ سب اس نظام کے وہ چہرے ہیں جو روزانہ محنت کش طبقے کا استحصال کرتے ہیں۔ مقررین نے واضح کیا کہ ان حالات میں ایک انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ مزدور طبقے کو ایک واضح سیاسی پروگرام، انقلابی قیادت اور منظم جدوجہد فراہم کی جا سکے۔

ریلی اور احتجاجی مظاہرے کے بعد کامریڈز نے مزدوروں کے ساتھ براہِ راست ملاقاتیں کیں، کمیونسٹ اخبار اور مزدوروں کے مسائل کے حل کے حوالے سے تیار کردہ لیف لیٹس تقسیم کیے۔ تاہم یہ سرگرمی محض اخبار یا لیف لیٹ تقسیم کرنے تک محدود نہ رہی بلکہ جلد ہی مزدوروں کے ساتھ ایک سنجیدہ سیاسی مباحثے میں تبدیل ہو گئی۔ گھنٹوں جاری رہنے والی گفتگو میں مزدوروں نے اپنی زندگی کے تلخ تجربات، کم اجرتوں، طویل اوقاتِ کار، بے روزگاری، ٹھیکیداری نظام اور مالکان کے ظلم کے بارے میں کھل کر بات کی۔ کامریڈز نے پارٹی پروگرام اور سوشلسٹ انقلاب کے نظریات پر تفصیلی گفتگو کی اور مزدوروں کو ان کی طبقاتی طاقت سے آگاہ کیا۔

ایک مزدور نے گفتگو کے دوران کہا:

”اگر مزدور کام بند کر دیں تو کارخانہ دار کا باپ بھی ایک بلب نہیں جلا سکتا۔“

یہ الفاظ درحقیقت اس حقیقت کا اظہار تھے کہ پورا سماج محنت کش طبقے کی محنت پر کھڑا ہے، لیکن اسی طبقے کو سب سے زیادہ محرومی، غربت اور استحصال کا سامنا ہے۔

اس سیاسی مہم کے دوران 15 سے 20 مزدوروں اور نوجوانوں کے رابطے بھی حاصل کیے گئے جنہوں نے پارٹی کے پروگرام اور نظریات میں سنجیدہ دلچسپی کا اظہار کیا۔ کئی مزدور بار بار یہ سوال کرتے رہے کہ آیا کامریڈز دوبارہ بھی آئیں گے یا نہیں۔ اس تمام صورتحال نے واضح کیا کہ محنت کش طبقے کے اندر موجود غصہ، بے چینی اور حقیقی متبادل کی تلاش تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ایک انقلابی سیاسی قوت کے لیے زمین ہموار ہو رہی ہے۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کامریڈز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارٹی نہ صرف دوبارہ آئے گی بلکہ ایک منظم پروگرام کے تحت انڈسٹریل ایریاز، لیبر کالونیوں اور فیکٹریوں میں اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دے گی تاکہ محنت کش طبقے کے اندر ایک انقلابی پارٹی کی قوتوں کو تعمیر کیا جا سکے۔