|تحریر: مبارز|

وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26ء کے بجٹ میں اعلان کیا کہ سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (FATA) اور صوبائی زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (PATA) کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا۔ مالاکنڈ ڈویژن بھی سابقہ PATA کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس فیصلے کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
حالیہ برسوں میں وفاقی حکومت مالاکنڈ کو قومی ٹیکس نظام میں مکمل طور پر شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ مقامی عوام، تاجر تنظیمیں اور سیاسی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ علاقے کی تاریخی اور آئینی حیثیت، نیز دہشت گردی اور قدرتی آفات سے ہونے والے معاشی نقصانات کے باعث ٹیکس استثنیٰ برقرار رہنا چاہیے۔ اس حوالے سے مختلف حلقوں میں یہ بحث جاری ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کا نفاذ اچھا اقدام ہے جبکہ تاجران، فیکٹریوں کے مالکان، کاروباری افراد اور سیاسی پارٹیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ظالمانہ قدم ہے اور وہ اس کے خلاف تحریک چلائیں گے اور ٹیکس کے نفاذ کی مخالفت کریں گے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں ملاکنڈ کے مختلف اضلاع میں حکومت کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج ہوئے جس میں نمایاں تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

ہم اس آرٹیکل میں ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کی استثنیٰ کی تاریخ اور اس مسئلے کا مختلف پہلوؤں سے ایک مارکسی تجزیہ کریں گے تاکہ اس فیصلے کے خلاف بننے والی تحریک اور ملاکنڈ ڈویژن کے محنت کش عوام کو ایک واضح راستہ دیا جا سکے اور درست مؤقف کو سامنے لایا جا سکے۔
مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس استثنیٰ کی تاریخ
مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس سے استثنیٰ کی تاریخ اس خطے کی منفرد آئینی اور انتظامی حیثیت سے جڑی ہوئی ہے۔
1۔ برطانوی سامراج: برطانوی راج کے دوران مالاکنڈ کا زیادہ تر حصہ ایک قبائلی سرحدی علاقے (Frontier Area) کے طور پر چلایا جاتا تھا، نہ کہ باقاعدہ آباد اضلاع کی طرح۔ برطانوی حکومت یہاں محدود نوعیت کے ٹیکس وصول کرتی تھی اور عام صوبائی قوانین کی بجائے خصوصی ضوابط کے تحت انتظام چلاتی تھی۔
2۔ 1969ء سے پہلے کی ریاستیں: 1969ء سے قبل سوات، دیر اور چترال خودمختار نوابی/ریاستی علاقے تھے، جن کی اپنی مقامی حکومتیں اور محصولات (Revenue) کا الگ نظام تھا۔ پاکستان کے وفاقی ٹیکس قوانین ان ریاستوں پر لاگو نہیں ہوتے تھے۔
3۔ پاکستان میں انضمام (1969ء): 1969ء میں یہ ریاستیں پاکستان میں ضم ہوئیں اور مالاکنڈ ڈویژن کا حصہ بن گئیں۔ بعد ازاں اس علاقے کو آئین کے تحت صوبائی زیرِ انتظام قبائلی علاقہ (PATA) قرار دیا گیا۔ اس خصوصی آئینی حیثیت کی وجہ سے وفاقی قوانین، بشمول ٹیکس قوانین، اس وقت تک نافذ نہیں ہوتے تھے جب تک صدرِ پاکستان خصوصی حکم نامے کے ذریعے انہیں نافذ نہیں کرتا۔ یہی مالاکنڈ میں ٹیکس استثنیٰ کی قانونی بنیاد بنی۔
4۔ آئینی تحفظ: آئین پاکستان کے سابقہ آرٹیکل 247 کے تحت پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین خودبخود PATA پر نافذ نہیں ہوتے تھے۔ اسی وجہ سے مالاکنڈ کو کئی وفاقی ٹیکسوں، خصوصاً بعض صورتوں میں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس، سے طویل عرصے تک استثنیٰ حاصل رہا۔
5۔ پچیسویں آئینی ترمیم (2018ء): 2018ء میں 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 247 ختم کر دیا گیا، جس میں فاٹا کو پختونخواہ میں ضم کیا گیا جبکہ اسی ترمیم کے ذریعے ملاکنڈ کی خصوصی آئینی حیثیت بھی ختم ہو گئی۔ اس کے بعد وفاقی حکومت نے مرحلہ وار ٹیکس قوانین کو مالاکنڈ میں نافذ کرنا شروع کیا، تاہم علاقے کی معاشی پسماندگی، دہشت گردی سے ہونے والے نقصانات اور عوامی مخالفت کے باعث مختلف اوقات میں عارضی ٹیکس استثنیٰ بھی دیا جاتا رہا۔
کیا ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا؟
ملاکنڈ ڈویژن کو یہ استثنیٰ محدود حد تک بلاواسطہ یا بالواسطہ ٹیکسوں پر حاصل تھا۔ مثال کے طور پر یہاں ارضیات کے انتقال، پراپرٹی ٹیکس، ایکسائز اور کسٹم ٹیکس، فیکٹریوں اور ملوں میں ہونے والی پیداوار پر ٹیکس، بینک ٹرانزیکشن، ہوٹلز وغیرہ پر ٹیکس نہیں لیا جاتا رہا۔ یہ استثنا زیادہ تر ان چیزوں تک محدود ہے جو یہاں کے محدود اپر میڈل کلاس یا کاروباری افراد سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن حکومت یہاں کے اکثریتی محنت کش عوام سے تمام تر بالواسطہ یا بلاواسطہ ٹیکس وصول کرتی ہیں جس میں ماچس سے لے کر دوائیوں اور ٹوتھ پیسٹ تک اور کھانے پینے کی اشیا سے لے کر ضرورت کی ہر چیز پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس اور لیوی، بجلی، گیس، ٹیلیفون کے بلوں پر ٹیکس مکمل طور پر وصول کیا جاتا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے بھی ٹیکس کٹوتی کی جاتی ہے اور سڑکوں پر ٹول ٹیکس بھی لیا جا تاہے۔ مختصر یہ کہ حکومت ان تمام اشیا پر پہلے سے ہی ٹیکس وصول کر رہی ہے جس کا تعلق محنت کش عوام سے ہے۔
ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس چھوٹ اور سرمایہ دار طبقے کے مفادات
چونکہ ملاکنڈ ڈویژن میں ملوں اور فیکٹریوں میں بننے والی اشیا ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں اس وجہ سے یہاں پر بہت سی چھوٹی فیکٹریاں اور ملز لگی ہیں۔ ٹیکس سے بچنے کے لیے سرمایہ داروں نے یہاں پر سینکڑوں کی تعداد میں صابن، گھی، لوہے، جوتے بنانے اور آٹا ملوں سمیت مختلف اشیا بنانے والے کارخانے لگائے ہیں۔ یہ تمام سرمایہ دار یہاں سے خوب منافع بھی کما رہے ہیں لیکن ان فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کا بدترین استحصال کیا جاتا ہے اور ان سے انتہائی کم اجرتوں پر بہت زیادہ کام لیا جاتا ہے۔ ان فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو سرکاری اعلان کردہ کم از کم اجرت کا نصف بھی نہیں دیا جاتا جبکہ ان سے سولہ سولہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ مزدوروں کے روزگار کے تحفظ کا کوئی نظام موجود نہیں جبکہ کسی مزدور کے کام کے دوران زخمی ہونے، معزور ہونے یا موت واقع ہونے پر مزدور کا کوئی ازالہ نہیں کیا جاتا۔ ان کا علاج کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی موت پر ان کے پسماندگان کو کوئی معاوضہ دیا جاتا ہے۔ ان فیکٹریوں میں اکثریتی مزدور دوسرے علاقوں سے لائے جاتے ہیں اور مقامی افراد کو بہت کم نوکری پر رکھا جاتا ہے جس کی بنیادی وجہہے کہ یہاں کے مقامی مزدوروں کے طرف سے کم تنخواہ اور دوسرے مراعات کے لیے احتجاج کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایسے میں ٹیکس چھوٹ کے فوائد مزدور طبقے تک پوری طرح منتقل نہیں ہو رہے اور ان کے لیے موجود جو تھوڑے بہت لیبر قوانین موجود ہیں ان پر بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

سرمایہ دار طبقہ اپنے منافعوں کے لیے یہاں کا قدرتی ماحول بھی سبوتاژ کر رہے ہیں اور انہیں روکنے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں اور اگر ہے تو اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ ماحولیاتی آلودگی کا زہر پھیلتا جا رہا ہے اور فیکٹریوں اور ملوں سے نکلتا ہوا زہریلا پانی یہاں کے دریاؤں کو آلودہ کر رہا ہے۔ سرمایہ دار نہ تو مزدوروں کی سیفٹی کے لیے مناسب انتظام کرتے ہیں اور نہ ہی ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے لیے پیسے خرچ کرتے ہیں جس سے محنت کش عوام ان فیکٹریوں سے فائدہ حاصل کرنے کی بجائے زیادہ تر خسارے میں ہی رہتے ہیں۔ سرمایہ داروں کا یہی لالچ آبی حیات کو تباہ کر رہا ہے اور آبادی کے درمیان موجود فیکٹریوں اور ملوں سے آس پاس کے لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
سیاسی پارٹیوں اور تاجر یونینوں کا ٹیکس نفاذ مخالف تحریک کی محدودیت
اس وقت ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع میں سیاسی پارٹیاں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کر رہی ہیں اور ٹیکس نفاذ کی مخالفت کر رہی ہیں۔ اسی طرح تاجر یونینز بھی ٹیکس نفاذ کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ دے رہی ہیں۔ اس حوالے سے ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع میں کچھ احتجاج بھی کیے گئے ہیں اور آئندہ دنوں میں اس احتجاج کو پھلانے کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے۔
چونکہ تمام سیاسی پارٹیاں اس وقت عوام میں انتہائی غیر مقبول ہو چکی ہیں اس لیے مقامی طور پر تمام سیاسی پارٹیاں اپنی موقع پرستی کی روایت کو نبھاتے ہوئے وقتی طور پر حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں تاکہ عوام میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ دوبارہ بحال کر سکیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت وفاق میں حکومت کے ساتھ اتحاد میں ہے اور اسی حکومت نے ٹیکس نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پیپلز پارٹی کے تمام لیڈران اپنی پارٹی، جو کہ اقتدار میں شریک ہے، سے احتجاج کریں اور پارٹی کو یہ وارننگ دیں کہ اگر انہوں نے ٹیکس نفاذ کا فیصلہ واپس نہیں لیا تو وہ اپنی پارٹی سے مستعفی ہو جائیں گے اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دیں گے لیکن ان کاسہ لیسوں سے یہ توقع رکھنا بھی بیوقوفی ہے۔
پی ٹی آئی بھی اس فیصلے کی مخالفت میں پیش پیش ہے۔ گزشتہ تقریباً 13 برسوں سے پی ٹی آئی کی حکومت نے خیبر پختونخوا کا بیڑہ غرق کر دیا ہے اور محنت کشوں کو غربت اور ذلت کی دلدل میں مزید دھکیلا ہے۔ لیڈروں کے دعوں کے برعکس صوبے میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہو رہا، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کر کھنڈر بن گئی ہیں، نئی سڑکیں نہیں بن رہی، یونیورسٹیاں دیوالیہ ہوچکی ہیں، سکولوں اور کالجوں کی نجکاری کی جا رہی ہے جبکہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت صحت کے نظام کی نجکاری کی گئی ہیں جس سے سرکاری نظام صحت کو تباہ کیا گیا ہے۔ بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور نوکریاں نہیں دی جا رہیں۔ اگر جو چند نوکریاں آتی بھی ہیں تو ان کو لاکھوں روپوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ میرٹ کا کوئی نظام موجود نہیں۔ کرپشن عروج پر ہے اور پی ٹی آئی کے ایم پی ایز اور ایم این ایز پر اربوں روپے کی کرپشن ثابت ہو چکی ہے جبکہ دہشت گردی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی حکومت کو کوئی پرواہ نہیں وہ تو صرف عمران خان کو رہا کرنے میں لگے ہیں اور اس میں بھی مکمل طور پرناکام ہیں۔ اس طرح جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور اے این پی بھی اپنے مخصوص مفادات کے تحت ٹیکس نفاذ کی مخالفت کر رہے ہیں۔
تاجر یونین بھی محدود پیمانے پر صرف اس ڈائریکٹ ٹیکس کے خلاف ہیں جس سے ان کو زیادہ نقصان ہے جبکہ وسیع پیمانے پر تمام بلواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکسوں کی بھر مار پر خاموش ہیں۔
محنت کش عوام کی حالت زار
یہ ٹیکس اس وقت لگایا جا رہا ہے جب پہلے ہی مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس کی وجہ سے روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی ضرورت اور کھانے پینے کی اشیاء مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اس کے ساتھ روزگار کے مواقع نہ ہونے کی برابر ہیں۔ بیروزگاری عروج پر ہے۔ ہر سال ہزاروں نوجوان یونیورسٹیوں سے فارغ ہوتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی روزگار نہیں۔ بیروزگاری کی وجہ سے نوجوان ملک چھوڑ کر باہر کے ملکوں میں محنت مزدوری کے لیے جا رہے ہیں یہ صورتحال صرف ملاکنڈ ڈویژن میں نہیں ہے بلکہ اس وقت پورے ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ پورے ملک میں عوام دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہی ہے جبکہ معیاری علاج اور تعلیم مزدور طبقے کے لیے خواب بن گیا ہے۔ خیبر پختونخواہ اور ملاکنڈ ڈویژن میں دہشتگردی اور بد امنی عروج پر ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا اثر عوام کی معاشی زندگی پر بھی پڑ رہا ہے۔ سادہ الفاظ میں حکمران طبقہ عوام کی حفاظت اور بھلائی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود معاشی جبر بڑھاتا چلا جا رہا ہے۔
کیا عوام سے اکٹھا کیا گیا ٹیکس عوام پر خرچ ہوتا ہے؟
سال 2026-27ء کے بجٹ میں حکومت نے اندرونی و بیرونی قرضوں اور ان قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 کھرب روپے مختص کیے ہیں جو کہ کُل بجٹ کا 43 فیصد بنتا ہے۔ اس طرح فوجی اخراجات کے لیے 3 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ افسر شاہی کی عیاشیوں کے لیے ایک کھرب سے زیادہ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ صحت، تعلیم، عوام کے فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سب سے کم بجٹ رکھا گیا کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جو تعلیم اور صحت پر سب سے کم پیسے خرچ کر رہا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سال 2025-26ء میں تقریباً 13.6 کھرب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ہے جبکہ سال 2026-27ء میں 15.2 کھرب روپے ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف لیا گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ عوام کے خون سے نچوڑا گیا ٹیکس عوام کی بجائے عالمی سرمایہ دارانہ اداروں، سرمایہ داروں اور افسر شاہی پر خرچ کر رہا ہے۔ جو قرض پاکستان کے حکمران طبقے نے عالمی اور ملکی سامراجی اداروں سے لیا ہے وہ نہ تو عوام نے لیا ہے اور نہ ہی ان پر خرچ ہوا ہے بلکہ سامراجی طاقتوں نے سود سمیت واپس لیا ہے جبکہ مقامی گماشتہ حکمران طبقے نے اپنے کمیشن سے بیرونی ممالک میں اپنی تجوریاں بھری ہیں، بینک بیلنس بنائے ہیں اور بیرون ممالک جزیرے خریدے ہیں۔ اپنی عیاشیوں کے لیے اربوں روپے کے پرتعیش نجی جیٹ خرید رہے ہیں جبکہ عوام کو صبر کی تلقین کی جا رہی ہے۔
ٹیکس کے نفاذ پر محنت کش عوام کا مؤقف کیا ہونا چاہیے؟
تمام تر مندرجہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس وقت ملاکنڈ ڈویژن کے محنت کش عوام تمام تر بلواسطہ ٹیکس ادا کر ر ہے ہیں جبکہ اب ایک نیا ٹیکس مسلط کیا جا رہا ہے جو بالآخر کسی نہ کسی شکل میں عوام پر ہی منتقل ہو گا۔ پہلے ہیبے روزگاری اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ معیارِ زندگی گرتا جا رہا ہے۔ اس تمام صورتحال میں مالاکنڈ ڈویژن کے محنت کش عوام کو اپنے مفادات سامنے رکھ کراس ٹیکس کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے۔ لیکن اس مزاحمت کے دوران مزدور طبقے کو اپنے مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور تاجروں اور سیاسی پارٹیوں سے الگ اپنے پلیٹ فارم کے تحت اس تحریک میں شریک ہونے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اس تحریک میں تیل اور گیس پر ٹیکسوں میں کمی اور مزدور طبقے کی اجرتوں میں اضافے اور روزگار کے تحفظ جیسے مطالبات بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اس تحریک کے دوران اگر کوئی بھی لیڈر غداری کرتا ہے، تو مزدور طبقے کے نمائندہ پلیٹ فارم کے ذریعے اس جدوجہد کو کامیابی کے حصول تک جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
اس وقت پوری دنیا میں مہنگائی، بیروزگاری اور ٹیکسوں کے خلاف تحریکیں ابھر رہی ہیں۔ گزشتہ کچھ سالوں میں سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، انڈونیشیا اور بہت سے دیگر ممالک میں عوام نے ٹیکسوں بیروزگاری اور معیار زندگی کی گرتی ہوئی صورتحال کے خلاف شاندار تحریکیں چلائی ہیں اور ان تحریکوں کے نتیجے میں اپنے اوپر مسلط جابر حکمران طبقے کو گرایا ہے۔

اس طرح پاکستان میں بھی مختلف علاقوں میں محنت کش عوام کی تحریکیں ابھر رہی ہیں۔ گلگت بلتستان میں آٹے کی سبسڈی کے خاتمے کے خلاف ایک بہت بڑی تحریک ابھری جس میں عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے محنت کش عوام نے ایک کامیاب جدوجہد کی اور حکمرانوں کو شکست سے دوچار کیا۔ اسی طرح ”آزاد“ کشمیر میں عوام نے بجلی کا یونٹ تین روپے اور آٹا دو ہزار روپے من کروانے کے لیے شاندار جدوجہد کی اور اپنے حقوق حاصل کیے۔ یہ تحریک ابھی بھی مزید حقوق حاصل کرنے کے لیے بدترین ریاستی جبر کے باوجود جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخواہ سمیت پورے پاکستان میں سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافے اور اپنے دیگر حقوق کے لیے آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس اور دیگر مختلف پلیٹ فارموں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن اور دیگر محنت کشوں کی ٹریڈ یونین اور تنظیمیں اپنے بنیادی حقوق کے لیے مختلف اوقات میں احتجاج کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ کچھ عرصے میں ہم نے خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف اولسی پاسون اور پی ٹی ایم کے نام سے ابھرنے والی پشتون عوام کی شاندار تحریکیں دیکھی ہیں۔ اس طرح سے بلوچستان میں مسنگ پرسن کے مسئلے پر بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی تحریک سامنے ہے، جبکہ سندھ میں نہروں کے مسئلے پر ایک شاندار عوامی تحریک بنی۔
اس صورتحال میں ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو اس نئے ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تحریک کا آغاز اس یقین سے کرنا چاہیے کہ اسے کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس تحریک کا دائرہ کار وسیع کرنا چاہیے اور اس میں محنت کشوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو منظم کرتے ہوئے تمام تر ناجائز ٹیکسوں کے خاتمے، مہنگائی بے روزگاری اور بد امنی کے خاتمے جیسے مطالبات شامل کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹیوں کے صورت میں منظم تحریک بنانی چاہیے۔ ان عوامی ایکشن کمیٹیوں میں سرکاری اداروں کے محنت کشوں کی یونینز، طلبہ، کسانوں اور مزدوروں کو شامل کرنا چاہیے۔ یہ کمیٹیاں گلی، محلے، ہسپتالوں، سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں، ٹرانسپورٹ کے مزدوروں، ملوں اور فیکٹریوں میں منظم کرنی چاہییں اور پورے ملاکنڈ ڈویژن اور پھر خیبرپختونخوا کی سطح پر ایک متبادل قیادت سامنے لانی چاہیے جو کہ سیاسی پارٹیوں کے نام نہاد لیڈران، جرائم پیشہ اور کرپٹ عناصر سے پاک ہو۔ جو محنت کش طبقے کی لڑائی کو جرات اور دلیری کے ساتھ لڑے۔ اس طرح اس تحریک کو طبقاتی بنیادوں پر پورے پاکستان، کشمیر اور گلگت بلتستان کے محنت کش طبقے کے ساتھ جوڑتے ہوئے ایک ملک گیر تحریک کا آغاز کرنا چاہیے۔
اس وقت عوام کو درپیش تمام تر مسائل کی جڑ عالمی سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ یہ نظام پاکستان میں بھی موجود ہے اور اس وقت پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام عوام کی فلاح اور ترقی میں بنیادی روکاوٹ ہے۔ اس لیے اس ظالمانہ نظام کے خلاف متحد ہونے کی ضروت ہے۔ اصل جنگ غریب اور امیر، محنت کش اور سرمایہ داروں کے درمیان جنگ ہے۔ اس لیے یہ جنگ محنت کش طبقے کے نظریات یعنی سوشلزم کے نظریات پر ہی لڑی اور جیتی جا سکتی ہے۔ اگر ہم اس سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ایک بہتر دنیا ہماری منتظر ہے جس میں امیر اور غریب کافرق نہ ہو جس میں مہنگے علاج کی وجہ سے کسی کی ماں، باپ یا اولاد نہ مرے، جس میں غربت کی وجہ سے لوگ خود کشیوں پر مجبور نہ ہوں، جس میں نوجوان بے روزگاری کی چکی میں نہ پستے ہوں اور جس میں پوری دنیا میں امن اور خوشحالی ہو۔