کھیوڑہ: یومِ مئی پر سالٹ رینج لیبر فیڈریشن کے زیر اہتمام ریلی

|رپورٹ: قیصر علی، جنرل سیکرٹری سالٹ رینج فیڈریشن|

کھیوڑہ (ضلع جہلم) میں یوم مئی پر سالٹ رینج لیبر فیڈریشن کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی جس میں مقامی یونینز کی قیادت اور کارکنان نے بھرپور شرکت کی۔ اس کے علاوہ لاہور سے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی راہنما آدم پال نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور ریلی سے خطاب کیا۔

یکم مئی کے دن تقریباً 4 بجے سہ پہر مزدور ریلی کا آغازمین گیٹ ایل سی آئی سوڈا ایش کھیوڑہ سے ہوا جبکہ مین بازار سے گزرنے کے بعد اس کا اختتام PMDC سروے سکول پر ہوا جہاں مزدور قائدین نے ریلی کے شرکا سے خطاب کیا اور قراردادیں پیش کی جنہیں تمام مزدوروں نے متفقہ طور پرمنظور کیا۔ ریلی کی قیادت چوہدری عبدالرحمان صدر سالٹ رینج فیڈریشن کھیوڑہ و چیف آرگنائزر پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن اور قیصر علی جنرل سیکرٹری سالٹ رینج فیڈریشن و صدر سی بی اے آئی سی آئی پاکستان ایمپلائیز یونین کھیوڑہ نے کی۔ ریلی میں ڈنڈوت سیمنٹ، مائینز اینڈ کوائیریز، غریب وال سیمنٹ، ایل سی آئی سوڈا ایش کھیوڑہ، PMDC سالٹ مائینز کھیوڑہ، صحافتی تنظیموں اور دیگر شعبوں کے مزدوروں نے بھرپور شرکت کی اور شکاگو کے مزدوروں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ جنہوں نے صدیوں قبل اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ریلی کے اختتام پر ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں آدم پال راہنما انقلابی کمیونسٹ پارٹی، چوہدری عبدالرحمان صدر سالٹ رینج فیڈریشن کھیوڑہ، قیصرعلی جنرل سیکرٹری سالٹ رینج فیڈریشن، ملک تنویر اقبال صدر غریب وال سیمنٹ یونین، طیب سلطان جنرل سیکرٹری غریبوال سیمنٹ فیکٹری، عارف عنایت جنرل سیکرٹری ایل سی آئی سوڈا ایش فیکٹری کھیوڑہ، مرزا ضمیر حسین جنرل سیکرٹری PMDC سالٹ مائینز کھیوڑہ، مرزا عمران عباس صدر و جنرل سیکرٹری مرزا محمد آصف PMDC سالٹ مائیزن ورکرز، ملک نصرت محمود صدر ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری، محمد یوسف ناز جنرل سیکرٹری مائینز اینڈ کوائیریز، ملک نیاز حسین آفس سیکرٹری ڈنڈوت سیمنٹ، ملک مصدق حسین سابق جنرل سیکرٹری PMDC، راجہ غلام اصغر سابق صدر PMDC اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے خطاب کیا۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل قرار دادیں منظور کی گئیں۔

1۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر مزدور کی کم از کم تنخواہ ایک لاکھ روپے ماہانا مقرر کی جائے۔

2۔ ریلی میں یہ بھرپور مطالبہ کیا گیا کہ PMDC میں کام کرنے والے غیر رجسٹرڈ مائینرز کو EOBI میں رجسٹرڈ کیا جائے اور تمام حقوق حسب قانون دیے جائیں۔

3۔ کھیوڑہ میں مائینرز، مزدوروں اور ان کے بچوں کے لیے Mines Workers Welfare Funds کے توسط سے جدید ہسپتال بنا کر دیا جائے۔

4۔ اجلاس میں تحصیل پنڈ دادنخان کے صنعتی اداروں اور خصوصاً مائیننگ سیکٹر اور کوائیریز پر آئے دن حادثات سے مزدور یا تو معذور ہو رہے ہیں یا اپنی قیمتی جانیں گنوا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہیلتھ اور سیفٹی کے قانون پر عملدرآمد کرایا جائے اور اس کا شکار ہونے والے مزدوروں کو کم از کم ایک کروڑ معاوضہ اور ان کے بچوں کے لیے مفت رہائش اور تعلیم کا انتظام کیا جائے۔

5۔ اجلاس میں انتظامیہ ڈنڈوت سیمنٹ کی طرف سے 600 سے زائد مزدوروں کو ملازمت سے برخاست کرنے کے عمل کی شدید مذمت کی گئی۔ جبکہ ڈنڈوت سیمنٹ بھرپور طریقے سے چل رہی ہے اور سیمنٹ کی پیداوار دے رہی ہے اور ملازمت سے نکالے گئے مزدور اور ان کے خاندان سخت معاشی بدحالی اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ لہٰذا اجلاس میں بھرپور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ نکالے گئے مزدوروں کے برطرفی کے احکام فی الفور منسوخ کر کے ان کو ملازمت پر بحال کیا جائے اور سابقہ بقایا جات اور تنخواہیں بھی ادا کی جائیں۔

6۔ اجتماع میں موجود اسسٹنٹ لیبر ڈائریکٹر عباس کی ڈنڈوت سیمنٹ کے مزدوروں کے لیے 35 اور 40 سال کے سروس کے لاکھوں واجبات کرپشن کی بنا پر معاہدہ جات و قانون کے مطابق منظور اور تسلیم شدہ واجبات کی رقم کی بے رحمانہ ڈگریوں میں تقریباً پچاس فیصد کٹوتی کرنے کے عمل کی بھرپور مذمت کرتا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز و صوبائی وزیر لیبر و دیگر حکام بالا سے اس ظالمانہ اقدام کی غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بدعنوان اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر جہلم کے فوری ٹرانسفر و انضباطی کاروائی کا بھرپور مطالبہ کرتا ہے۔

7۔ ڈنڈوت سیمنٹ کمپنی کے ورکرز جو گزشتہ کئی سالوں سے ملازمت سے ریٹائرڈ ہو گئے ہیں یا فوت ہو گئے ہیں اور ان کی سروس کے واجبات کمپنی انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر ابھی تک ادا نہیں کیے جس سے نہ صرف انتظامیہ فیکٹری قانون شکنی کی مرتکب ہو رہی ہے بلکہ متعلقہ ورکرز شدید معاشی بدحالی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کی ساری زندگی کی سروس کے واجبات کی فوری ادائیگی کا بھرپور مطالبہ کرتے ہیں اور وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف انتظامیہ فیکٹری سے ان مزدوروں کی سروس کے واجبات کی ادائیگی کروائیں۔ ڈنڈوت سمیت انتظامیہ کے غیر انسانی اور غیر قانونی اقدامات کی وجہ سے سینکڑوں مزدور اور ان کے خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہیں اور مزدوروں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ ہو گیا تو انتظامیہ فیکٹری اور حکومتِ وقت اس کی ذمہ دار ہو گی۔ اس ضمن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسانی حقوق کے علمبردار اداروں اور متعلقہ دیگر اداروں کو اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے مزدوروں کی داد رسی کا فریضہ ادا کرنا چاہیے۔

8۔ یہ اجتماع LCI Soda Ash Factory میں مزدور یونین اور انتظامیہ کے درمیان گزشتہ 16 ماہ سے زیر التوا چارٹر آف ڈیمانڈ حسب قانون معاہدہ نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور مزدوروں کے مطالبات کی بھرپور حمایت کرتا ہے کہ انتظامیہ کمپنی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاہدے کی تکمیل کرے تاکہ مزدوروں میں بڑھتی ہوئی بے چینی ختم ہو سکے۔

9۔ تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم میں پرائیویٹ مالکان نے سمال انڈسٹری لگا رکھی ہے۔ خصوصاً جپسم کے کاخانے اور کرشر لگا رکھے ہیں جہاں سینکڑوں ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ورکرز کام کر رہے ہیں جن میں سے بعض ادارے حسب قانون رجسٹرڈ نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے ورکرز سوشل سکیورٹی اور EOBI میں رجسٹرڈ ہیں جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے اور مزدور اور ان کے بچے ورکرز ویلفیئر اور دیگر لیبر لا کے تحت ملنے والے حقوق سے محروم ہیں۔ لہٰذا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بھرپور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ سطحی کمیشن یا کمیٹی کی تشکیل کے احکامات صادر کریں۔

10۔ آج کا اجلاس مریم نواز صاحبہ چیف مسٹر پنجاب سے مطالبہ کرتا ہے کہ صنعتی دیگر تجارتی اداروں میں ٹھیکداری نظام کا خاتمہ کیا جائے اور متعلقہ مزدوروں کو ملازمیت پر مستقل کیا جائے اور حسب قانون ڈیلی ویجز ورکرز اور ان کے بچوں کو ورکر ویلفیر فنڈ سے بچوں کی تعلیم و دیگر گرانٹس ادا کی جاسکیں۔

11۔ تحصیل پنڈ دادنخان ایک صنعتی علاقہ ہے لہٰذا وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سوشل سیکیورٹی ڈسپنسری کھیوڑہ تحصیل پنڈ دادنخان کو ایک مکمل ہسپتال کا درجہ دیا جائے تا کہ مزدور اور ان کے خاندان علاج کی سہولت حاصل کر سکیں۔

12۔ اجلاس میں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ مائینز ورکرز اور صنعتی ورکرز کے لیے پنڈ دادنخان میں ایک لیبر کالونی کا قیام عمل میں لایا جائے اس سلسلے میں پنجاب ورکر ویلفیئر فنڈ تقریباً 350 کنال سے زائد زمین بھی Acquired کر چکا ہے لیکن سیاسی بنیادوں پر اس منصوبے کو نا قابل عمل قرار دے چکا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور متعلقہ وزیر ما ئینز و منرلز پنجاب لاہور اس سلسلے میں ایک کمیٹی کے قیام کے آرڈر صادر فرمائیں تا کہ یہاں ضرورت کے مطابق مزدوروں کے لیے ایک لیبر قالونی مزدوروں اور ان کے خاندان کی رہائش کے لیے بنائی جا سکے۔

13۔ اجلاس میں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ مائینز لیبر کے بچوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کھیوڑہ / پنڈ دادنخان میں انٹر میڈیٹ کالج تک ایک تعلیمی ادارہ بنایا جائے تاکہ مزدوروں کے بچے مفت تعلیم حاصل کر سکیں۔

14۔ اجلاس میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اولڈ ایج پنشن ملک میں رائج کم سے کم بنیادی تنخواہ کے مطابق ادا کی جائے۔ اس ضمن میں EOBI پاکستان کا حالیہ 15 فیصد کا اضافہ ناکافی ہے اور ضعیف العمر ملازمین کے ساتھ مذاق ہے۔

15۔ اجلاس میں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ملک میں اور صوبہ پنجاب میں مزدوروں کی کم از کم اجرت ایک لاکھ مقرر کی جائے کیونکہ ہر روز بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ایک خاندان کا کم اجرت پر گزارہ کرنا مشکل ہے۔

16۔ اجلاس میں EOBI کے بورڈ آف ٹرسٹ میں نمائندگی کو ہر صوبہ میں مزید بڑھایا جائے تاکہ اس پالیسی ساز ادارے میں فیصلہ سازی میں ملازمین کو مناسب نمائندگی کا حق مل سکے۔

17۔ پنجاب ورکر ویلفیئر بورڈ کی فیصلہ سازی کے ادارے (گورننگ باڈی) میں مزدوروں اور ایمپلائرز کی نمائندگی میں اضافہ کیا جائے تا کہ فیصلہ سازی میں مناسب نمائندگی حاصل ہو سکے۔

18۔ EOBI میں پنشن کے حصول کی عمر کے بعد شادی کی صورت میں بیوہ کو پنشن کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے، لہٰذا اس میں ترمیم کر کے دوسری بیوہ کو بھی پنشن کا حقدار بنایا جائے۔

19۔ اجلاس میں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ملک کی عدالتوں اور صوبے کی لیبر کورٹس میں سالہا سال سے التوا کے شکار مزدوروں کے مقدمات کا فیصلہ فوری طور پر کیا جائے تا کہ مزدوروں کو انصاف کے حصول میں آسانی پیدا ہو سکے۔

20۔ مزدوروں کے ورکر ویلفیئر فنڈ اسلام آباد سے 172 ارب سے زائد حکومت پاکستان نے غیر قانونی طور پر فنڈ مختلف اوقات میں نکال لیے ہیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے باوجود حکومت پاکستان مذکورہ فنڈز غیر قانونی طور پر نکال کر ورکر ویلفیئر کے علاوہ دوسرے حکومتی امور پر لگا رہی ہے جو کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی اور مروجہ قانون کے خلاف ہے۔ لہٰذا اس فنڈ سے نکالے گئے تمام مالیات ورکر ویلفیئر میں ٹرانسفر کیے جائیں۔

21۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے جو 3000 روپے ماہانہ گراسری کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے ہم مزدور اس عمل کو نہایت احسن اور قابل تحسین قرار دیتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ ریلیف پیکج بلا تفریق سب کو دیا جائے۔ وہ ادارے جو مالکان نے سوشل سیکیورٹی میں رجسٹرڈ نہیں کروائے ان اداروں کے کارکنوں کو بھی یہ امدادی رقم دی جائے اور ہم استدعا کرتے ہیں کہ یہ فنڈ ورکر ویلفیئر فنڈ، سوشل سکیورٹی کی بجائے حکومت اپنی طرف سے یہ رقم ادا کرے۔

22۔ آج کے اس اجتماع کی طرف سے حکومت پنجاب کی طرف سے بنائے گئے لیبر کوڈ کو یک طرفہ طور پر نافذ کرنے کے عمل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے مزدوروں اور صنعتی امن کے ماحول کو خراب کرنے کے مترادف سمجھتا ہے۔ لہٰذا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ مزدور نمائندوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے اس میں ضروری اصلاحات کی جائیں۔

23۔ پنجاب ورکر ویلفیئر فنڈ، حکومت محنت و لیبر کی گورننگ باڈی نے Laid off Workers, Retired Workers مزدوروں کے تعلیمی فوائد، میرج گرانٹس اور ڈیتھ گرانٹس کو ختم کر دیا گیا ہے۔ مزید اس کا اطلاق نان فنکشنل اور بند اداروں پر بھی کر دیا گیا ہے مزید یہ کہ MBBS/BDS کے لیے 80 فیصد نمبروں کی شرط مقرر کر کے تکنیکی طور پر بچوں پر میڈیکل کی تعلیم بند کر دی گئی ہے اور ماہانہ ہاسٹل اخراجات پانچ ہزار فی کس کر دیے گئے ہیں اس کے علاوہ بے شمار سہولیات ختم کر دی گئی ہیں۔ جس سے مزدوروں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور متعلقہ حکام سے پرانے SOPs کی بحالی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ بصورت دیگر بھرپور مظاہرہ کیا جائے گا جس کی ذمہ داری ورکر ویلفیئر فنڈ اور حکومت پنجاب ہو گی۔