|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، خیبرپختونخوا|

دیر لوئر کے علاقے رباط میں کم عمر یتیم بچی کریشمہ، جس کی عمر 13، 14 برس بتائی جا رہی ہے، کو نام نہاد ”غیرت“ کے نام پر جس بے رحمی اور سفاکیت سے قتل کیا گیا، اس نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کریشمہ کو پہلے پھانسی دی گئی، پھر اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی، بعد ازاں اسے چھت سے نیچے پھینکا گیا، کلہاڑی کے وار کیے گئے اور آخر میں بغیر جنازے کے خاموشی سے دفنا دیا گیا۔ یہ درندگی صرف ایک قتل نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف ایک ہولناک جرم ہے۔
کریشمہ ایک یتیم بچی تھی۔ اس کی والدہ کا انتقال ہو چکا تھا جبکہ والد روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم ہے۔ وہ اپنے چچا کے گھر رہتی تھی۔ الزام یہ لگایا گیا کہ اس نے کسی غیر مرد سے بات کی اور اسی بنیاد پر اس کے چچا اور چچا زاد بھائی نے اسے انتہائی بے رحمی سے قتل کر دیا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پدرشاہی معاشرے میں خواتین کی زندگی، عزت اور آزادی کو مردانہ اختیار کے تابع سمجھا جاتا ہے۔

اس اندوہناک واقعے کے خلاف علاقے کے عوام سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے جرائم کی روک تھام ہو۔ اطلاعات کے مطابق ایک ملزم گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دوسرے کی گرفتاری کے لیے کاروائی جاری ہے۔
یہ سانحہ کوئی انفرادی یا اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں بلکہ اس پورے سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کا نتیجہ ہے جو صدیوں سے عورت کو مرد کی ملکیت سمجھتا آیا ہے۔ ریاست خواتین کے تحفظ، برابری اور انصاف کے بلند و بانگ دعوے تو کرتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ غیرت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی اور خواتین پر دیگر مظالم کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ ریاستی ڈھانچہ خواتین کو حقیقی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔

پدرشاہی نظام محض ثقافتی مسئلہ نہیں بلکہ جاگیردارانہ روایات، طبقاتی استحصال اور سرمایہ دارانہ سماجی رشتوں سے جڑا ہوا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام عورت کی معاشی محکومی، گھریلو غلامی اور سماجی عدم مساوات کو برقرار رکھتا ہے، جبکہ ریاست انہی فرسودہ رشتوں اور حکمران طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے جرائم بار بار جنم لیتے ہیں اور انصاف اکثر طاقتور طبقوں کے مفادات کی نذر ہو جاتا ہے۔
خواتین کی حقیقی آزادی صرف سخت قوانین سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے اس پورے معاشی و سماجی ڈھانچے کو بدلنا ہو گا جو عورتوں پر جبر کو جنم دیتا ہے۔ ایک ایسا سوشلسٹ سماج، جہاں طبقاتی استحصال، نجی ملکیت پر مبنی جبر، جاگیردارانہ روایات اور صنفی امتیاز کا خاتمہ ہو، ہی خواتین کی مکمل آزادی، مساوات اور تحفظ کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔
ہم کریشمہ کے بہیمانہ قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے اور غیرت کے نام پر قتل سمیت خواتین پر ہر قسم کے تشدد کے خلاف عملی اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے واقعات کا مستقل خاتمہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب محنت کش طبقہ، خواتین، نوجوان اور تمام مظلوم طبقات ایک ایسے سماج کی تعمیر کے لیے جدوجہد کریں جہاں انسان کی جان، عزت اور آزادی ہر قسم کے استحصالی رشتوں سے بالاتر ہو۔