کراچی: یوم مئی کے موقع پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے احتجاجی ریلی کا انعقاد!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، کراچی|

انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے محنت کشوں کے عالمی دن (یکم مئی 2026ء) کے موقع پر کورنگی انڈسٹریل ایریا میں فیوچر موڑ سے داؤد چورنگی تک ایک شاندار احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس ریلی میں کورنگی میں موجود ٹریڈ یونینز میں منظم محنت کشوں اور ان کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ اس میں جنرل ٹائر ورکرز یونین، مزدور محاذِ عمل اور دیگر ٹیکسٹائل سیکٹر کے مزدور شامل تھے، جن میں یونس ٹیکسٹائل، آرٹسٹک ملینیئرز اور دیگر فیکٹریوں کے محنت کش شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی کے مختلف علاقوں سے آئے طلبہ، نوجوانوں اور ترقی پسند ساتھیوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی اس احتجاجی ریلی میں شرکت کی۔

اس ریلی کی تیاریوں کے سلسلے میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھیوں نے پرجوش انداز میں حصہ لیا۔ کمیونسٹوں نے شہر کے اہم مقامات جن میں شاہراہِ فیصل، گلستانِ جوہر، نیپا چورنگی، کاٹھور، لکی سیمنٹ، لانڈھی، ملیر انڈسٹریل ایریا اور کورنگی کے مختلف ڈسٹرکٹس شامل ہیں، پر یومِ مئی کی پوسٹر کیمپیئن کی اور فیکٹریوں کے باہر بھی اس سلسلے میں کیمپئین کی گئی۔ اس دوران محنت کشوں کے پاس جا کر ان تک مزدور راج اور عام ہڑتال کا پیغام پہنچایا گیا۔

ریلی کی تیاریوں اور انتظامات میں پارٹی کی ملیر برانچ، جوہر برانچ اور کراچی یونیورسٹی برانچ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان برانچوں نے مختلف فیکٹریوں کے باہر پوسٹرز لگائے اور محنت کشوں کو لیفلیٹس کے ذریعے ریلی میں شرکت کی دعوت دی۔

ریلی کا آغاز فیوچر موڑ سے ہوا، جس میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں نے نعروں کے ذریعے محنت کشوں کا لہو گرمایا۔ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض کامریڈ شاہد خان نے انجام دیے۔ ریلی کے دوران علاقائی نوجوانوں اور محنت کشوں کے فلک شگاف انقلابی نعروں سے فضا گونجتی رہی۔

داؤد چورنگی پہنچ کر ریلی نے ایک منظم جلسے کی صورت اختیار کر لی، جہاں شرکاء کی بھرپور شرکت نے فضا کو جوش و جذبے سے بھر دیا۔ جلسے کا باقاعدہ آغاز مزدور محاذِ عمل سے آئے کامریڈ مرزا صاحب کے پُر اثر خطاب سے ہوا۔

کامریڈ مرزا صاحب نے یومِ مئی کی تاریخی اور نظریاتی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن محنت کش طبقے کے حقوق، انصاف اور وقار کی مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی دنیا بھر کے مزدور استحصال، مہنگائی اور غیر منصفانہ معاشی نظام کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے ان تمام مسائل کے خلاف منظم جدوجہد ناگزیر ہے۔ انہوں نے 1886ء کے Haymarket affair اور شکاگو کے محنت کشوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شکاگو کے محنت کشوں کی اسی جدوجہد سے آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار جیسے بنیادی حقوق کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ آخر میں انہوں نے محنت کشوں، طلبہ، نوجوانوں اور ترقی پسند ساتھیوں کی شرکت کو مزدور تحریک کی زندہ اور متحرک روح قرار دیتے ہوئے اس جدوجہد کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس کے بعد کامریڈ خرم، جو لیفٹ آرگنائزیشن کمیٹی سے وابستہ ہیں، نے خطاب کیا۔ کامریڈ نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں دولت اور وسائل چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ بڑھتی پیداوار اور منافع کے باوجود محنت کش طبقے کی اجرت اور معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری نہیں آئی۔ انہوں نے کم اجرت، عارضی ملازمتوں، کنٹریکٹ سسٹم اور رہائش کے بحران کو مزدوروں کے اہم مسائل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش طبقہ ذات، مذہب اور فرقہ واریت جیسی تقسیم کا شکار ہے، جبکہ سرمایہ دار طبقہ اپنے مفادات کے لیے زیادہ منظم ہے۔ آخر میں انہوں نے مزدوروں پر زور دیا کہ وہ ان تقسیموں سے بالاتر ہو کر طبقاتی بنیادوں پر متحد ہوں، اپنی ٹریڈ یونینز مضبوط کریں اور بہتر حقوق، تحفظ اور باعزت زندگی کے لیے منظم جدوجہد کریں۔

اس کے بعد انقلابی کمیونسٹ پارٹی کراچی کی جانب سے کامریڈ پارس جان نے خطاب کیا۔ کامریڈ نے اپنے خطاب میں یومِ مئی کو جرات، مزاحمت اور امید کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ محنت کش طبقہ Haymarket affair کے مزدوروں کی جدوجہد کا وارث ہے، جنہوں نے سخت ترین حالات میں بھی اپنے حقوق کے لیے تاریخ ساز قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آج بھی لاکھوں مزدور ٹھیکیداری اور تھرڈ پارٹی سسٹم کے تحت استحصال کا شکار ہیں، جو غیر منصفانہ اور غیر انسانی نظام ہے۔

انہوں نے نجکاری، مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیوں کو محنت کشوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی اداروں کی فروخت اور معاشی بحران کا بوجھ مسلسل مزدور طبقے پر ڈالا جا رہا ہے، جبکہ بڑے سرمایہ دار اور کارپوریٹ شعبے بھاری منافع کما رہے ہیں۔

آخر میں انہوں نے محنت کشوں کو طبقاتی بنیادوں پر منظم ہونے، سرمایہ دارانہ سیاست سے الگ اپنی آزاد سیاسی قوت تعمیر کرنے، مطالعہ اور سیاسی شعور کو فروغ دینے اور ایک منصفانہ سوشلسٹ سماج کے قیام کے لیے جدوجہد تیز کرنے کی دعوت دی۔

آخر میں جنرل ٹائر ورکرز یونین کے صدر عزیز خان نے اختتامی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یکم مئی کی یہ ریلی اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت کش طبقہ معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور استحصال کے باوجود اپنے حقوق کے لیے منظم جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کم اجرت، ٹھیکیداری نظام، نجکاری اور روزگار کے عدم تحفظ جیسے مسائل کا حل اتحاد، تنظیم، طبقاتی شعور اور اجتماعی جدوجہد میں ہے۔ انہوں نے محنت کشوں کو اپنی اجتماعی طاقت پہچاننے اور عملی جدوجہد کو مزید مضبوط بنانے کی دعوت دی۔ انہوں نے تمام شرکاء اور معاون تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ محنت کشوں کی تحریک انصاف، برابری اور انسانی وقار پر مبنی معاشرے کے قیام تک جاری رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے یہ ریلی سرمایہ داروں اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک جدوجہد کا آغاز ہے۔ تمام محنت کشوں سے اپیل ہے کہ وہ آگے آئیں اور اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔

آخر میں اسی عزم اور جذبے کے اظہار کے ساتھ ”دنیا بھر کے محنت کشو، متحد ہو!“ کے نعروں کے ساتھ یہ ریلی اپنے اختتام کو پہنچی۔