|رپورٹ: عثمان سیال|

نو جون بروز منگل نرسنگ کالج سول ہسپتال جھنگ کی طالبات نے ہراساں کرنے، ڈیوٹی پر موجود نرسز کو ڈاکٹر سہراب کی طرف سے گالیاں دینے اور دھمکیاں دینے کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہسپتال سے نرسز کو سکیورٹی فراہم کی جائے اور اس مسئلے پر نوٹس لیا جائے۔ جس پر ایک بار پھر انتظامیہ نے طالبات سے جھوٹے وعدے کیے اور ان کا احتجاج ختم کروا دیا گیا۔ یہ واقعہ 5 جون کی رات ایک بجے اس وقت پیش آیا جب ڈاکٹر سہراب کے بھتیجے کو ایمرجنسی میں لایا گیا جو ایک حادثے کا شکار ہوا تھا۔ مریض کے ساتھ تیس چالیس لوگ ایمرجنسی وارڈ میں گھس آئے اور نرسز پر حکم چلانا شروع کر دیا۔ ڈیوٹی پر موجود سٹاف نے ضروری طبی امداد دینا شروع کی لیکن اس طرح کے ماحول میں کام کا متاثر ہونا ناگزیر تھا جس پر مریض کے ساتھ آئے لوگوں نے سٹاف کو گالیاں دینا شروع کر دیں ڈاکٹر سہراب اور اس کے بھائی نے سٹاف کو کھڑا کے بے عزت کیا، انہیں دھمکیاں دیں اور ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی۔ اس تمام کاروائی کے دوران ایمرجنسی کے باہر موجود گارڈز نے بھی نہ تو اتنے لوگوں کو اندر آنے سے روکا اور نہ ہی سٹاف کو بچانے کی کوشش کی۔
اگلے دن نرسز درخواست لے کر پرنسپل کے پاس گئیں کہ اس واقعے پر کاروائی کی جائے اور سٹاف کی سکیورٹی اور ہراسانی کے مسئلے کو حل کیا جائے۔ پرنسپل نے درخواست ایم ایس کے پاس لے جانے کا کہا۔ نرسز درخواست ایم ایس کے پاس لے گئیں جہاں ایم ایس نے جھوٹی تسلیاں دے کر اور کاروائی کرنے کا بول کر انہیں واپس بھیج دیا۔ جب چار دن گزرنے کے بعد بھی کوئی کاروائی نہ کی گئی تو نرسنگ سٹاف اور طالبات نے کام چھوڑ کر احتجاج کا فیصلہ کیا جس پر پورے کالج کی طالبات اور نرسز نے مل کر ہڑتال کرتے ہوئے ہسپتال کا کام روک دیا اور گیٹ پر احتجاج کیا۔ جس کے بعد ڈپٹی کمشنر موقع پر پہنچا اور طالبات اور نرسز کے مسائل کو سنا اور مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ایک کمیٹی بنی ہے جس سے کوئی امید نہیں ہے اور وہ بھی ڈاکٹر کو ہی تحفظ دے گی اور کہا گیا کہ کمیٹی کے فیصلے سے متفق نہیں ہوئے تو آپ عدالت چلے جانا اور عدالتوں کا اندازہ تو ہر غریب محنت کش کو ہے کہ وہاں سے کیسا انصاف ملتا ہے۔ طالبات اور نرسز کے مطالبات کو سنجیدگی سے سمجھنے اور حل کرنے کے اگلے دن پرنسپل کو سیکشن آفیسر کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا کہ وہ ہیلتھ کیئر اور میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں پیش ہو اور ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق پرنسپل کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔

اگر نرسنگ کالج اور سول ہسپتال جھنگ کی صورتحال دیکھی جائے تو انتہائی ابتر حالات ہیں۔ سٹاف کے پاس بنیادی حفاظتی آلات کی شدید کمی ہے، گلوز اور ماسک تک بھی ہسپتال میں میسر نہیں جس کا انتظام طالبات اور نرسز کو خود کرنا پڑتا ہے۔ نرسنگ کالج کی طالبات ایک وقت میں کلاسسز لیتی ہیں تو دوسرے وقت میں نرسز کے ساتھ ہسپتال میں ڈیوٹی دیتی ہیں۔ اگر ہم مجموعی عملے کی بات کریں تو وہ بھی مریضوں کے تناسب سے انتہائی کم ہے، عالمی معیار کے حساب سے تو بات ہی نہ کریں جہاں 2 سے 4 مریضوں کے لیے ایک نرس کو متعین ہونا چاہیے یہاں درجنوں مریضوں کو ایک نرس نے دیکھنا ہوتا ہے۔ مریضوں کی حالت ایسی صورتحال میں کیا ہو گی آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں۔
ہسپتال میں سوائے چند دوائیوں کے دعائیں ہی موجود ہیں اور مریض کے وارثوں کو باہر سے ادویات خریدنی پڑتیں ہیں جن سے ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ سب سے بہتر علاج کے لیے فیصل آباد لے جانے کا کہا جاتا ہے کیونکہ ضلع کے سب سے بڑے ہسپتال میں وہ سہولیات موجود ہی نہیں جو مریضوں کو مہیا کی جانی چاہئیں۔ یہ تو صورت حال جھنگ کی ہے اگر ہم مجموعی صورتحال دیکھیں تو پورے ملک میں ہی صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے۔ زیادہ تر سرکاری ہسپتال حکومت بیچ چکی ہے اور باقی بھی بیچنے کی کوشش میں ہے۔ صحت کے بجٹ میں مسلسل کٹوتیاں کی جا رہی ہیں اور علاج غریب عوام کے لیے لگژری سہولت بن چکی ہے۔ جہاں تک سٹاف کی سکیورٹی کی بات ہے تو کوئٹہ میں ہسپتال میں دوران ڈیوٹی ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکا گیا جس کا علاج کراچی سے کروانا پڑا۔ جنوری میں ڈی ایچ کیو کوہاٹ کی ڈاکٹر مہوش کو ڈیوٹی سے واپسی پر گولیاں ماری کر قتل کر دیا گیا۔ پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جہاں صحت کے شعبے میں کام کرنے والے لوگوں کو دوران کام سب سے زیادہ ہراسانی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ اگر اس کو بھی صنفی بنیادوں پر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ ہراسانی اور تشدد کا سامنا اس شعبے میں کام کرنے والی خواتین کو ہوتا ہے۔ ایک پدر شانہ سماج میں خواتین دہرے جبر کا شکار ہیں اور اس پدر سری سماج کے بنیادیں اسی سرمایہ دارانہ نظام کی ہی دین ہیں۔ ایک سرمایہ دارانہ اور نیم جاگیرداری نظام، جس نے عورت کو مرد کی ملکیت بنا دیا ہے۔ جس میں عورت کا کام سوائے بچے پیدا کرنا اور مرد کی نسل کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ جبر صرف صنفی بنیادوں پر ہی نہیں بلکہ طبقاتی بنیادوں پر بھی موجود ہے جہاں محنت کش طبقے کی خواتین ہی سب سے زیادہ اس کا شکار ہوتی ہیں۔
ایک بکھرتے اور ٹوٹتے سماج میں جان بچانے والوں کو مسلسل اپنی جانوں کا خطرہ رہتا ہے اور سماج کی موجودہ گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ یہ بوسیدہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جو اپنی طبی عمر پوری کر چکا ہے اور ایک گلی سڑی لاش کی مانند ہے۔
ہم طالبات اور دیگر سٹاف کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی جرات اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ایسے وقت میں خود متحد و منظم کیا ہے جب محنت کشوں کی کوئی روایتی یونین تک موجود نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم طالبات اور سٹاف کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ہراساں کرنے والے تمام ملزمان کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم طالبات اور سٹاف کو بھی یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ انہیں ہسپتال انتظامیہ کی بنائی ہوئی کمیٹی پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے، ہسپتال انتظامیہ نے یہ کمیٹی اپنے تحفظ کے لیے بنائی ہے جس کا طالبات اور سٹاف کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اپنے مسائل کے حل اور اپنے مطالبات کو حاصل کرنے کے لیے طالبات اور نرسز کو خود اپنی ایک ایکشن کمیٹی بنانی چاہیے جس میں طالبات اپنے نمائندگان کو ایک جمہوری طریقے سے خود منتخب کریں اور ان ایکشن کمیٹیوں کے ذریعے خود کو منظم کریں۔ یاد رہے کہ یہ پہلا قدم ہے ہراسانی اور تشدد کا خاتمہ خود کو متحد کرتے ہوئے ملک پھر کے طلبہ اور محنت کشوں سے یکجہتی بناتے ہوئے اس نظام کا خاتمہ کرنا ضروری ہے۔ محنت کشوں کے نظریات سوشلزم سے متعارف ہوتے ہوئے جدوجہد کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ان ایکشن کمیٹیوں کے ذریعے طالبات اور نرسز نہ صرف ہراسمنٹ کے خلاف مؤثر طریقے سے لڑ سکتی ہیں بلکہ اپنے اداروں میں بڑھتی فیسوں اور دیگر سہولیات کے خلاف بھی لڑ سکتی ہیں، اسی طرح نرسز اپنی کم تنخواہوں، تنخواہوں کی عدم موجودگی کے علاوہ اپنے دیگر مسائل کے لیے بھی لڑ سکتی ہیں، اپنی یونین بنا سکتی ہیں اور ایک لمبی جدوجہد کے لیے خود کو تیار کر سکتی ہیں۔
ایک کا دکھ، سب کا دکھ!
مزاحمت زندہ باد!