اسلام آباد: پمز ہسپتال سانحہ، ہسپتال، علاج گاہیں یا قتل گاہیں؟

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، اسلام آباد|

26اگست کی صبح اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کے Mother and Child Health وارڈ میں بھڑکنے والی آگ نے 14 نومولود بچوں کی جان لے لی۔ یہ بچے جنہوں ابھی اپنی زندگی کی ابتدائی سانسیں ہی لی تھیں، ایک ایسے نظام کی غفلت، بدانتظامی اور بوسیدہ انفراسٹرکچر کی بھینٹ چڑھ گئے جس کا بنیادی دعویٰ ہی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔

یہ محض ایک ہسپتال میں لگنے والی آگ کا واقعہ نہیں ہے۔ یہ پورے سماجی و معاشی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی۔ سوال یہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں شمار ہونے والے ادارے میں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں موجود نومولود بچوں کے لیے بنیادی حفاظتی انتظامات کیوں موجود نہیں تھے؟ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی جگہ جہاں چند سیکنڈ بھی انسانی زندگی اور موت کے درمیان فرق بن سکتے ہیں، وہاں ایمرجنسی راستے، فائر سیفٹی اور انخلاء کا مؤثر نظام کیوں نہیں تھا؟

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ Mother and Child Health وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں لگی اور اس کا تعلق ایئر کنڈیشننگ یونٹ کے کمپریسر یا شارٹ سرکٹ سے جوڑا گیا۔ اس وقت نرسری میں 15 نومولود موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو زندہ بچایا جا سکا۔ سرکاری طور پر فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کی فوری آمد کا دعویٰ کیا گیا، لیکن عینی شاہدین نے دھوئیں، بند یا محدود راستوں، افراتفری اور حفاظتی انتظامات کی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی۔ تحقیقات کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں متضاد بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔

حکومت نے فوری طور پر تحقیقات کا اعلان کیا، وفاقی سیکرٹری صحت کو معطل کیا اور اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹیاں قائم کیں۔ لیکن محنت کش عوام کے لیے اصل سوال کسی ایک افسر کی معطلی سے کہیں بڑا ہے۔ اگر تحقیقات کا نتیجہ صرف چند اہلکاروں کی معطلی، تبادلے یا قربانی کے بکروں کی تلاش تک محدود رہا تو یہ سانحہ دوبارہ جنم لے گا۔ کیونکہ مسئلہ کسی فرد کا نہیں بلکہ نظام کا ہے جو آئے روز ایسے سانحات کو جنم دے رہا ہے۔

ریاستی میڈیا اور پروپیگنڈہ کے ذریعہ یہ معاملہ کچھ عرصہ بعد خبروں سے محو کردیا جائے گا۔ وزراء کے بیانات ختم ہو جائیں گے۔ تحقیقاتی کمیٹیاں اپنی رپورٹس پیش کریں گی۔ چند اہلکار معطل یا تبدیل کر دیے جائیں گے۔ حکمران طبقہ کچھ دن کے لیے غم اور افسوس کا اظہار کرے گا اور پھر ریاستی مشینری اسی بوسیدہ نظام کے ساتھ آگے بڑھ جائے گی۔

لیکن ان بچوں کے والدین کے لیے وقت وہیں رک گیا ہے۔ کسی ماں نے اپنے بچے کو پہلی مرتبہ گود میں لینے کا خواب دیکھا ہو گا۔ کسی باپ نے اپنی محدود آمدنی کے باوجود اس بچے کے لیے مستقبل کے منصوبے بنائے ہوں گے۔ کسی گھر میں اس نومولود کے استقبال کی تیاریاں ہوئی ہوں گی۔ لیکن وہ بچے جنہیں زندگی کی پہلی سانسوں کے ساتھ دنیا میں قدم رکھنا تھا، ایک سرکاری ہسپتال کے اندر موت کے منہ میں دھکیل دیے گئے۔

ان میں سے ایک بچہ ایسا بھی تھا جو پیدائش کے بعد دو ماہ سے PIMS میں موجود تھا اور جسے اس کے والدین نے واپس آ کر نہیں لیا تھا۔ وہ بھی اسی آگ میں جان سے گیا۔ جس کے لیے اس نظام میں زندگی آسان کسی صورت بھی نہیں تھی۔ یہ صرف 14 خاندانوں کا دکھ نہیں۔ یہ پورے معاشرے کا نوحہ ہے۔

آزادی کا جشن اور عوام کی بے بسی

یہ سانحہ ایسے وقت میں پیش آیا جب حکمران طبقہ آزادی کے مہینے کو بڑے جوش و خروش اور پرتعیش سرکاری تقریبات کے ساتھ منا رہا تھا۔ یادگاروں کا افتتاح، قومی فخر کے مظاہروں اور حکمران شخصیات کے گرد تعمیر کیے جانے والے سیاسی تماشوں میں ریاستی طاقت اور فتح کے کرشمے کو اجاگر کیا جا رہا تھا۔

لیکن اسی نام نہاد آزادی کے مہینے میں ملک کے طول و عرض سے محنت کشوں اور غریب عوام کی تذلیل، قتل، جنسی تشدد، بھوک، بے روزگاری اور ریاستی بے حسی کی خبریں بھی مسلسل سامنے آتی رہیں۔

یہ کیسی آزادی ہے جس میں ایک طرف حکمران طبقہ اپنی دولت، مراعات اور طاقت کے جشن منا رہا ہے اور دوسری طرف ایک غریب خاندان اپنے نومولود بچے کی لاش اٹھانے پر مجبور ہے؟اور عوام کی اکثریت بھوک، افلاس، غربت، جنگوں، مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل سے گھیری ہوئی زندگی گزارنے پہ مجبور ہے؟

1947ء سے لے کر آج تک محنت کش عوام نے اس ریاست کی طبقاتی حقیقت بارہا دیکھی ہے۔ ریاستی مشینری کی تمام تر طاقت اور وسائل کا بنیادی مقصد عام انسانوں کے مسائل کو حل کرنا نہیں بلکہ موجودہ طبقاتی ڈھانچے کو برقرار رکھنا رہا ہے۔

پاکستان کا صحت کا نظام کیوں بوسیدہ ہے؟

PIMSکا سانحہ کسی خلا میں رونما نہیں ہوا۔ یہ پاکستانی ریاست کے مجموعی صحت کے بحران کا ایک انتہائی المناک اظہار ہے۔

پاکستان میں صحت عامہ پر سرکاری اخراجات اب بھی انتہائی کم ہیں۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26ء کے مطابق 2024-25ء میں وفاقی اور صوبائی سطح پر مجموعی عوامی صحت کے اخراجات تقریباً 942 ارب روپے تھے، جو GDP کا صرف 0.8 فیصد بنتے ہیں۔ اسی عرصے میں ملک بھر میں تقریباً 1,934 ہسپتال اور 5,746 بنیادی صحت مراکز رپورٹ ہوئے، جبکہ آبادی کی ضروریات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

یہ اعداد و شمار خود بتاتے ہیں کہ مسئلہ محض کسی ایک ہسپتال کی انتظامی نااہلی نہیں بلکہ پورے شعبہ صحت کے لیے وسائل کی مسلسل کمی ہے۔

حکومت کے پاس وسائل کی کمی کا بہانہ ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ وسائل کہاں خرچ کیے جا رہے ہیں؟

ایک طرف صحت پر GDP کا صرف 0.8 فیصد خرچ ہوتا ہے، دوسری طرف ریاستی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے بجٹ تجزیے کے مطابق FY2025 میں وفاقی بجٹ کے 51.8 فیصد کے برابر رقم قرضوں کی ادائیگی پر اور 11.3 فیصد دفاعی اخراجات پر مختص تھی، جبکہ صحت کا حصہ تقریباً 0.1 فیصد تھا۔

یعنی عوام کے پاس صحت کی سہولت نہیں، مگر قرض خواہوں اور ریاستی طاقت کے اداروں کے لیے وسائل موجود ہیں۔

پاکستان میں صحت کا بحران صرف سرکاری ہسپتالوں کی خراب حالت تک محدود نہیں۔ ایک طرف سرکاری ہسپتال مریضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، دوسری طرف نجی ہسپتالوں کا ایک وسیع اور منافع بخش کاروبار قائم ہو چکا ہے۔

غریب انسان کے لیے علاج ایک بنیادی انسانی حق کے بجائے ایک مہنگی شے بنتا جا رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق 2024ء میں پاکستان میں 14.8 ملین سے زیادہ افراد کو طبی اخراجات کی وجہ سے تباہ کن مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 11.1 ملین افراد طبی اخراجات کے نتیجے میں انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔

یعنی بیماری صرف جسمانی تکلیف نہیں رہی؛ غریب خاندان کے لیے بیماری غربت، قرض، جائیداد فروخت کرنے اور بچوں کی تعلیم چھڑوانے کا سبب بھی بن چکی ہے۔ جس انسان کے پاس پیسہ ہے وہ مہنگے نجی ہسپتال میں علاج خرید سکتا ہے۔ جس کے پاس پیسہ نہیں، اسے سرکاری ہسپتال کی لمبی قطار، ادویات کی کمی، بستروں کی کمی، عملے کی کمی اور بوسیدہ انفراسٹرکچر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل عملے کی حالت

یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اس بحران کا شکار صرف مریض نہیں ہیں۔ صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ڈاکٹر، نرسیں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر کارکن بھی اسی بوسیدہ نظام کا شکار ہیں۔ کم تنخواہیں، طویل اوقاتِ کار، کام کا شدید دباؤ، عملے کی کمی، عدم تحفظ اور ناقص انتظامی ڈھانچہ صحت کے کارکنوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔

اگر صحت کا نظام عوام کو علاج نہیں دے پا رہا تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ریاست اپنے طبی کارکنوں کو وہ حالات فراہم نہیں کر رہی جن میں وہ محفوظ اور مؤثر طریقے سے کام کر سکیں۔ جون 2026ء میں بلوچستان میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعے کے بعد ینگ ڈاکٹرز نے صوبہ بھر میں احتجاج کیا۔ ڈاکٹروں نے ہسپتالوں میں سکیورٹی کی سنگین صورتحال پر احتجاج کرتے ہوئے OPDs اور دیگر سروسز کا بائیکاٹ بھی کیا۔ یہ احتجاج کئی ہفتوں تک جاری رہا۔

یہ بھی پہلا موقع نہیں کہ ڈاکٹر، نرسیں اور پیرا میڈیکل سٹاف نجکاری اور سرکاری ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف سڑکوں پر آئے ہوں۔

2025ء میں پنجاب میں ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف نے سرکاری ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔ اسی سال بلوچستان میں 11 سرکاری ہسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کے منصوبے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دی۔

یہ تمام واقعات ایک ہی سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ریاست صحت کو ایک بنیادی سماجی حق کی بجائے اخراجات کم کرنے اور نجی سرمایہ کاری کے لیے عام انسانوں کی جانوں کا سودا کر کے منافع کمانے کا ایک شعبہ سمجھتی ہے۔

سرکاری ہسپتالوں کی خراب حالت کو بنیاد بنا کر اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ نجی شعبہ ہی انہیں بہتر چلا سکتا ہے۔ اگر سرکاری ہسپتالوں کو دانستہ طور پر وسائل، عملے اور جدید سہولیات سے محروم کیا جائے اور پھر انہی کی خراب حالت کو نجکاری کا جواز بنایا جائے تو فائدہ کس کو ہو گا؟

صحت کا بنیادی مقصد منافع نہیں بلکہ انسان کی زندگی اور صحت کا تحفظ ہونا چاہیے۔ جب ہسپتال منافع کے اصول پر چلتا ہے تو مریض ”انسان“ سے زیادہ ”کسٹمر“ بن جاتا ہے۔ علاج اس وقت تک دستیاب رہتا ہے جب تک مریض اس کی قیمت ادا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محنت کش طبقے کو صحت کی نجکاری کے خلاف ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی کارکنوں کی جدوجہد کو عوامی مسائل کے خلاف جدوجہد سے جوڑنا ہو گا۔

پاکستان کا موجودہ سرمایہ دارانہ نظام ایک ایسے معاشی ڈھانچے پر قائم ہے جس میں ریاستی پالیسیوں کا تعین عوام کی ضروریات سے زیادہ سرمایہ، منافع، قرض خواہوں اور طاقتور طبقوں کے مفادات سے ہوتا ہے۔

سامراجی مالیاتی اداروں کے قرضوں اور ان کی شرائط نے بھی ریاستی بجٹ اور معاشی پالیسی پر گہرا دباؤ ڈالا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی، مالیاتی خسارے اور سرمایہ دارانہ معیشت کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا بوجھ بالآخر محنت کش عوام پر ٹیکسوں، مہنگائی، نجکاری اور عوامی اخراجات میں کٹوتیوں کی شکل میں منتقل ہوتا ہے۔ وہ قرضے جو عام عوام نے نہ کبھی لیے نہ کبھی ان کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ ہوئے، حکمرانوں نے لیے اور اپنی عیاشیوں پہ خرچ کیے۔

ریاست جسے عوام کی جان و مال کا محافظ ہونا چاہیے، عملی طور پر سرمایہ دار، جاگیردار اور فوجی و سول اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کی مشینری بن چکی ہے۔ غریب عوام کے پاس نہ مناسب صحت کی سہولت ہے، نہ محفوظ رہائش، نہ معیاری تعلیم، نہ روزگار کی ضمانت اور نہ ہی حقیقی سماجی تحفظ۔ یہاں تک کہ جس ریاستی بجٹ کو ”قومی سلامتی“ کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، اس میں عام انسان کی زندگی کی سلامتی بنیادی ترجیح نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر چیز کو منافع کے تابع کر دیا جاتا ہے۔ تعلیم، صحت، رہائش، بجلی، پانی اور روزگار تک انسانی ضروریات پوری کرنے کی بجائے منافع کمانے کے ذرائع بن جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب بجٹ بنانے کا وقت آتا ہے تو سوال یہ نہیں ہوتا کہ پاکستان کے ہر شہری کو بہترین تعلیم کیسے دی جائے، ہر مریض کو مفت علاج کیسے فراہم کیا جائے یا ہر ہسپتال کو جدید اور محفوظ کیسے بنایا جائے۔ سوال یہ ہوتا ہے کہ قرض کیسے ادا کیا جائے، سرمایہ داروں کو کس طرح سہولت دی جائے، خسارہ کیسے کم کیا جائے اور ریاستی مشینری کے اخراجات کیسے برقرار رکھے جائیں اور حکمران طبقہ کی لوٹ کھسوٹ کو کیسے بڑھایا جائے۔ اس سارے شطرنج میں محنت کش طبقے اور عام عوام کاگلا کاٹا جاتا ہے۔یہ وہ طبقاتی تضاد ہے جسے محنت کش طبقے کو سمجھنا ہو گا۔

ایک طرف پاکستان میں کروڑوں انسان بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، دوسری طرف دولت اور وسائل معاشرے کے ایک انتہائی محدود طبقے کے ہاتھوں میں مرتکز ہیں۔ جو پچھلے اسی سالوں سے اس ملک پر قابض ہیں۔ آج حکمران طبقہ ہمیں بتاتا ہے کہ مفت اور معیاری صحت، تعلیم اور سماجی سہولیات ممکن نہیں کیونکہ ریاست کے پاس پیسہ نہیں۔جبکہ اپنی تنخواہوں میں حکمران طبقہ ہر سال لاکھوں روپے کا اضافہ کرتا ہے جو عام عوام کی جیبوں پہ ہی ڈاکہ ڈال کر حاصل کیا جاتا ہے۔

لیکن اگر ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جائے جہاں پیداوار کا مقصد منافع نہیں بلکہ انسانی ضرورت ہو، جہاں معیشت کے بنیادی ذرائع پیداوار پر چند خاندانوں اور سرمایہ داروں کا قبضہ نہ ہو، بلکہ وسائل محنت کش عوام کی اجتماعی ملکیت میں ہوں اور ہر انسان کی زندگی کو بہتر سے بہترین کرنے کے لیے استعمال ہوں تو صورتحال بالکل مختلف ہو سکتی ہے۔

ایک سوشلسٹ منصوبہ بند معیشت میں صحت کو منافع بخش کاروبار نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق سمجھا جائے گا اور ہر شہری کو مفت اور معیاری علاج مہیا کرنا مزدور ریاست کی ذمہ داری ہو گی جو سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے وجود میں آئے گی۔

ریاست اور معیشت کے وسائل کو منظم انداز میں استعمال کرتے ہوئے ہر علاقے میں آبادی کے مطابق جدید سرکاری ہسپتال قائم کیے جا سکتے ہیں۔ بنیادی مراکز صحت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ ڈاکٹر، نرسیں اور پیرا میڈیکل اسٹاف تربیت دیے جا سکتے ہیں۔ ہسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ، جدید آلات اور مناسب عملے کو بنیادی ترجیح بنایا جا سکتا ہے۔

محنت کش طبقے کی طاقت

لیکن یہ سب کسی ایک وزیر، کسی ایک وزیراعظم یا کسی ایک تحقیقاتی کمیٹی کے ذریعے نہیں ہو گا۔ بلکہ اس کے لیے ایک انقلاب کرنا پڑے گا اس بوسیدہ انسان دشمن نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا۔

محنت کش طبقے کو اپنی اجتماعی طاقت کو منظم کرنا ہو گا۔ ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈیکل اسٹاف، اساتذہ، طلبہ، مزدوروں، کسانوں اور تمام مظلوم طبقات کی جدوجہد کو ایک مشترکہ طبقاتی جدوجہد میں تبدیل کرنا ہو گا۔ پمز کے 14 نومولود بچوں کی موت کا جواب صرف یہ نہیں کہ ذمہ دار اہلکاروں کو سزا دی جائے۔ حقیقی جواب یہ ہے کہ ہم اس پورے نظام کو جڑ سے ختم کریں جو ہر روز لاکھوں انسانوں کو غربت، بیماری، بے روزگاری اور عدم تحفظ کے حوالے کرتا ہے۔ موجودہ نظام میں بہتری کی ہر گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ یہ نظام مردہ ہو چکا ہے جس کی لاش سے مزید تعفن پھیلا رہا ہے جو ایک اچھی زندگی دینے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔

ہمیں ایک ایسا سماج تعمیر کرنا ہے جہاں امیر اور غریب کی طبقاتی تفریق کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا جائے اور پیداوار انسان کے لیے ہو، منافع کے لیے نہیں۔ یہی سوشلسٹ انقلاب کا بنیادی سوال ہے۔

ہم ایک ایسے معاشرے کے لیے جدوجہد کریں گے جہاں کوئی بچہ غربت، غفلت اور منافع پر قائم نظام کی بھینٹ نہ چڑھے۔